صحيح مسلم
كتاب القسامة— قسموں کا بیان
باب صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ: باب: غلام، لونڈی سے کیونکر سلوک کرنا چاہیئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : " لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا ، فَهَرَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ ، فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي فَدَعَاهُ وَدَعَانِي ، ثُمَّ قَالَ : امْتَثِلْ مِنْهُ فَعَفَا ، ثُمَّ قَالَ : كُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَةٌ ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَعْتِقُوهَا ، قَالُوا : لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا ، قَالَ : " ، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا " .معاویہ بن سوید (بن مُقرن) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مارا اور وہ بھاگ گیا، پھر میں ظہر سے تھوڑی دیر پہلے آیا اور اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی، انہوں نے اسے اور مجھے بلایا، پھر (غلام سے) کہا: اس سے پورا بدلہ لے لو تو اس نے معاف کر دیا۔ پھر انہوں (میرے والد) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم بنی مقرن کے پاس صرف ایک خادمہ تھی، ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مار دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو۔ لوگوں نے کہا: ان کے پاس اس کے علاوہ اور خادم نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (فی الحال) اس سے خدمت لیں، جب اس سے بے نیاز ہو جائیں (دوسرا انتظام ہو جائے) تو اس کا راستہ چھوڑ دیں (اسے آزاد کر دیں۔)“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ : عَجِلَ شَيْخٌ فَلَطَمَ خَادِمًا لَهُ ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ : " عَجَزَ عَلَيْكَ إِلَّا حُرُّ وَجْهِهَا ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ بَنِي مُقَرِّنٍ ، مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ لَطَمَهَا أَصْغَرُنَا ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهَا " ،حضرت ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں کہ ایک بوڑھے نے جلد بازی سے کام لیتے ہوئے اپنے خادم کو تھپڑ مار دیا، تو حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے، کیا تمہیں اس کے شریف عضو چہرے کے سوا کوئی جگہ نہ ملی، میں نے اپنے آپ کو بنو مقرن میں ساتواں بیٹا پایا، اور ہمارا خادم ایک ہی تھا، ہم میں سے چھوٹے نے اسے تھپڑ مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسے آزاد کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ : كُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَخِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ فَقَالَتْ لِرَجُلٍ مِنَّا كَلِمَةً ، فَلَطَمَهَا فَغَضِبَ سُوَيْدٌ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ .حضرت ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں کہ ہم نعمان بن مقرن کے بھائی سوید بن مقرن کے احاطہ میں کپڑا بیچتے تھے، تو ایک لونڈی گھر سے نکلی، اس نے ہم میں سے ایک آدمی کو کوئی بات کہی، اس نے اس کو تھپڑ مارا، جس پر حضرت سوید ناراض ہو گئے، اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ : مَا اسْمُكَ ؟ ، قُلْتُ : شُعْبَةُ ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُعْبَةَ الْعِرَاقِيُّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ : " أَنَّ جَارِيَةً لَهُ لَطَمَهَا إِنْسَانٌ ، فَقَالَ لَهُ : سُوَيْدٌ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ ، فَقَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَسَابِعُ إِخْوَةٍ لِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا خَادِمٌ غَيْرُ وَاحِدٍ ، فَعَمَدَ أَحَدُنَا فَلَطَمَهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهُ " ،عبدالصمد نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھ سے محمد بن منکدر نے کہا: تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: شعبہ۔ تو محمد نے کہا: مجھے ابوشعبہ عراقی (مولیٰ سوید بن مقرن) نے سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ان کی لونڈی کو کسی انسان نے تھپڑ مارا تو سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ چہرہ حرمت والا (ہوتا) ہے اور کہا: میں نے خود کو، اور میں اپنے بھائیوں میں ساتواں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں دیکھا اور ہمارے پاس سوائے ایک کے کوئی اور خادم نہ تھا۔ ہم میں سے کسی نے عمداً اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دیں۔
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ؟ مَا اسْمُكَ ؟ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ .یہی روایت امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ شعبہ نے کہا، مجھ سے محمد بن منکدر نے پوچھا، تیرا نام کیا ہے؟ آگے مذکورہ بالا روایت بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر اترے، ہمارے ساتھ ایک تیز مزاج بوڑھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک لونڈی تھی، اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا تو میں نے سوید کو جتنا سخت غصہ ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے کہا: تیرے پاس اسے آزاد کر دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں، تو نے ہمیں دیکھا ہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، سب سے چھوٹے بھائی نے (ایک بار) اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے آزاد کر دینے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5166]
چہرے پرمارنا سخت منع ہے۔
اور رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔
(إذا قَاتَلَ أحدُكُم أخاه فليجتنبِ الوجهَ) (صحيح مسلم، البر والصلة، حديث: 2612) جب تم سے کسی کی اپنے (مسلمان) بھائی کے ساتھ لڑائی ہوجائے تو چاہیے کہ اس کے چہرے (پرمارنے) سے بچے۔
حتیٰ کہ حیوان کے چہرے پر بھی نہین مارنا چاہیے۔