صحيح مسلم
كتاب القسامة— قسموں کا بیان
باب نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ: باب: کافر کفر کی حالت میں کوئی نذر مانے پھر مسلمان ہو جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، قَالَ : فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ " ،یحییٰ بن سعید قطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کرو۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وقَالَ حَفْصٌ : مِنْ بَيْنِهِمْ ، عَنْ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، أَمَّا أَبُو أُسَامَةَ ، وَالثَّقَفِيُّ ، فَفِي حَدِيثِهِمَا اعْتِكَافُ لَيْلَةٍ ، وَأَمَّا فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ فَقَالَ : جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَكِفُهُ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ حَفْصٍ ذِكْرُ يَوْمٍ وَلَا لَيْلَةٍ .امام صاحب اپنے چھ اساتذہ کی چار سندوں سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں، ان راویوں میں سے حفص اس حدیث کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بتاتے ہیں، اور باقی راوی حضرت ابن عمر کی طرف منسوب کرتے ہیں، ابو اسامہ اور ثقفی کی روایت میں، رات کے اعتکاف کا تذکرہ ہے، اور شعبہ کی حدیث میں ہے، میں نے اپنے اوپر ایک دن کا اعتکاف لازم کیا تھا، اور حفص کی حدیث میں، دن یا رات کسی کا ذکر نہیں ہے۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ : أَنَّ أَيُّوبَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ بَعْدَ أَنْ رَجَعَ مِنْ الطَّائِفِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَكَيْفَ تَرَى ؟ ، قَالَ : اذْهَبْ فَاعْتَكِفْ يَوْمًا ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ جَارِيَةً مِنَ الْخُمْسِ ، فَلَمَّا أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَصْوَاتَهُمْ يَقُولُونَ : أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْجَارِيَةِ فَخَلِّ سَبِيلَهَا " ،حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقام جعرانہ پر سوال کیا، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپس آئے تھے، کہا، اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت کے دور میں مسجد حرام میں ایک دن کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال و رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، ایک دن کا اعتکاف کرو۔‘‘ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (عمر کو) خمس سے ایک لونڈی دی تھی، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں (بنو ہوازن) کے قیدیوں کو آزاد کر دیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کی آوازوں کو سنا، وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آزاد کر دیا ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا، یہ کیا ماجرا ہے؟ تو لوگوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے عبداللہ! اس لونڈی کے پاس جاؤ، اور اس کو آزاد کر دو۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِكَافِ يَوْمٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ،معمر نے ہمیں ایوب سے خبر دی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن کے اعتکاف کی نذر کے متعلق پوچھا جو انہوں نے جاہلیت میں مانی تھی۔۔ پھر جریر بن حازم کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ عُمْرَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ فَقَالَ : لَمْ يَعْتَمِرْ مِنْهَا ، قَالَ : وَكَانَ عُمَرُ نَذَرَ اعْتِكَافَ لَيْلَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، وَمَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ،حماد بن زید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ایوب نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس جعرانہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے کہا: آپ نے وہاں سے عمرہ نہیں کیا۔ کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی۔۔ پھر انہوں نے ایوب سے جریر بن حازم اور معمر کی روایت کردہ حدیث کے ہم معنیٰ بیان کیا۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق كِلَاهُمَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي النَّذْرِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا اعْتِكَافُ يَوْمٍ .ایوب اور محمد بن اسحاق دونوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نذر کے بارے میں یہی حدیث بیان کی اور ان دونوں کی حدیث میں ایک دن کے اعتکاف کا ذکر ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث میں جاہلیت سے مراد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے پہلے کا زمانہ ہے کیونکہ ہر شخص کی جاہلیت اس کے اسلام کے اعتبار سے ہے۔
بعثت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا زمانۂ جاہلیت مراد نہیں ہے۔
امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر ان الفاظ میں عنوان قائم کیا ہے: (من نذر وهو مشرك ثم اسلم)
’’جس نے بحالت شرک نذر مانی پھر مسلمان ہو گیا۔
‘‘ یہ عنوان مقصد کے ادا کرنے میں زیادہ واضح ہے۔
غزوۂ حنین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ سوال کیا تھا جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4320) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمانۂ جاہلیت کی نذر کو پورا کرنا ضروری ہے۔
زمانۂ کفروشرک نذر پوری کرنے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
بہرحال نذر طاعت کا پورا کرنا ضروری ہے، خواہ وہ زمانۂ کفروشرک ہی میں کیوں نہ مانی گئی ہو۔
(3)
واضح رہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ غزوۂ حنین میں حاصل ہونے والی غنیمتوں کی تقسیم کے بعد مسجد حرام میں اعتکاف بیٹھے تھے جیسا کہ انہوں نے اس امر کی وضاحت کی ہے۔
(فتح الباري: 709/11)
حدیث کے فن میں سند اور حجت ہیں۔
امام مالک فرماتے ہیں کہ جب بھی میں نافع سے ابن عمرؓ کی حدیث سن لیتا ہوں تو پھر کسی اور راوی سے سننے کی مجھے ضرورت نہیں رہتی۔
118 ھ میں وفات پائی۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے جعرانہ سے عمرے کا احرام باندھا تو حضرت عمر ؓ کو بھی اپنی دور جاہلیت کی نذر کا خیال آیا تو اس کے متعلق سوال کیا چنانچہ اس کی تفصیل درج ذیل روایت میں ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ طائف سے واپس جعرانہ آئے تو حضرت عمر ؓ نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! میں نے دور جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک دن کا اعتکاف کروں گا، اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جائیں اور ایک دن مسجد احرام میں اعتکاف کرلیں۔
" حضرت ابن عمر ؓ نے مزید فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے خمس سے حضرت عمر ؓ کو ایک لونڈی دی تھی جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو آزاد کردیا تو حضرت عمر ؓ نے ان کا شور و غل سنا کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں آزاد کردیا ہے حضرت عمر ؓ نے ابن عمر ؓ سے فرمایا: جاؤ اور اس لونڈی کو بھی آزاد کردو۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 4294۔
(1656)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں۔
کہ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ امام بخاری ؒ نے کس بنا پر مذکورہ حدیث کو غزوہ حنین میں بیان کیا ہے کیونکہ اس میں غزوہ حنین سے ملنے والی ایک لونڈی کا ذکر ہے جسے عمر فاروق ؒ نے آزاد کردیا تھا واللہ اعلم۔
(فتح الباري: 45/8)
(1)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اسلام لانے کے بعد فتح مکہ سے پہلے نذر مانی تھی، لیکن یہ خیال مبنی بر حقیقت نہیں کیونکہ صحیح مسلم میں ہے کہ جب میں مسلمان ہوا تو رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا بلکہ سنن دارقطنی کی روایت میں صراحت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے شرک کے زمانے میں اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی۔
(فتح الباري: 348/4) (2)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث پر ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: (باب: إذا نذر أو حلف أن لا يكلم إنساناً في الجاهيلة ثم أسلم)
’’جب انسان دور جاہلیت میں نذر مانے یا کسی سے کلام نہ کرنے کی قسم اٹھائے، پھر مسلمان ہو جائے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الإیمان والنذور، باب: 29) (3)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں: نذر اور قسم دور جاہلیت میں بھی منعقد ہو جاتی ہے یہاں تک کہ اسلام لانے کے بعد اسے پورا کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو دور جاہلیت کی نذر پوری کرنے کا حکم دیا اور حضرت عمر نے اس نذر کے مطابق عمل کیا۔
اس کے متعلقہ مباحث "کتاب الایمان والنذور" میں بیان ہوں گی۔
(فتح الباري: 361/4)
بإذن اللہ
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو ایک رات کا اعتکاف کرنے کی اجازت دی اور رات روزے کا محل نہیں، البتہ بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ اعتکاف کریں اور روزہ رکھیں لیکن یہ روایات قابل حجت نہیں ہیں کیونکہ ان میں عبداللہ بن بدیل نامی ایک راوی ضعیف ہے۔
(فتح الباري: 349/4)
اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے صرف ایک رات کا اعتکاف کیا۔
رات کا روزہ شریعت میں منع ہے۔
(2)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب رات کا روزہ منع نہیں تھا۔
لیکن یہ موقف اس لیے غلط ہے کہ حضرت عمر ؓ نے غزوۂ حنین سے لوٹتے وقت آپ سے عرض کی تھی اور اس وقت رات کے روزے کی ممانعت آ چکی تھی۔
(فتح الباري: 348/4)
البتہ حضرت عائشہ ؓ سے ایک روایت ہے کہ روزے کے بغیر اعتکاف نہیں ہے۔
(سنن أبي داود، الصیام، حدیث: 2473) (3)
ہمارے نزدیک راجح موقف یہ ہے کہ روزے کے بغیر اعتکاف جائز ہے لیکن روزے کے ساتھ اعتکاف کرنا افضل ہے۔
یاد رہے! اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی شخص رمضان کا روزہ تو استطاعت کے باوجود نہ رکھے اور اعتکاف کر لے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص رمضان کے علاوہ اعتکاف کرتا ہے یا رمضان میں روزے کی ہمت نہیں رکھتا تو اس کے لیے جائز ہے۔
اعتکاف بھی ایسے امور میں داخل ہے اگر کوئی غلط نذر مانے جیسا کہ ایک شخص نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذ رمانی تھی۔
آپ ﷺ نے اسے باطل قرار دیا۔
اس طرح دیگر غلط نذر منت بھی توڑی جانی ضروری ہے۔
غیر اللہ کے لیے کوئی نذر منت ماننا شرک میں داخل ہے۔
(1)
صحیح بخاری کی اس روایت سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ اعتکاف روزے کے بغیر صحیح ہے کیونکہ رات روزے کا محل نہیں۔
اگر روزہ شرط ہوتا تو رسول اللہ ﷺ حضرت عمر ؓ کو حکم دیتے کہ روزہ رکھ کر اعتکاف کریں، لیکن اس روایت سے صرف رات کے وقت اعتکاف کرنے کا استدلال محل نظر ہے کیونکہ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک دن کے اعتکاف کی نذر مانی تھی۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 4294(1656)
ابن حبان نے کہا ہے: دونوں روایات صحیح ہیں کیونکہ حضرت عمر ؓ نے ایک دن اور ایک رات کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی۔
جس نے رات کا ذکر کیا اس نے ضمناً دن کا ارادہ کیا ہے اور جس نے صرف دن کا ذکر کیا ہے اس کے ذہن میں رات کا ذکر ہے کیونکہ رات دن کے تابع ہوتی ہے۔
(2)
بعض روایات میں ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے جب رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ ان پر اعتکاف ہے تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ اعتکاف کریں اور روزہ رکھیں۔
لیکن یہ روایت عبداللہ بن بدیل راوی کی وجہ سے قابل استدلال نہیں۔
(فتح الباري: 349/4)
البتہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کے بعد مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کیا تھا۔
(صحیح البخاري، الاعتکاف، حدیث: 2042)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ایک رات سے زیادہ اعتکاف نہیں کیا اور اس اعتکاف میں روزہ بھی نہیں تھا۔
(فتح الباري: 349/4)
(تفصیل کے لیے دیکھیے الرحیق المختوم)
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات مسجد الحرام میں اعتکاف کروں گا، (تو اس کا حکم بتائیں؟) آپ نے فرمایا: " اپنی نذر پوری کرو " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان/حدیث: 1539]
وضاحت:
1؎:
چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رات کے لیے مسجد حرام میں اعتکاف کیا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر کعبہ کے پاس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: " اعتکاف کرو اور روزہ رکھو۔" [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2474]
اس روایت میں دن کا ذکر اور روزہ بھی رکھو کا بیان صحیح نہیں ہے۔
کیونکہ یہ روایت صحیح بخاری میں ہے، اس میں دن کا اور روزہ رکھنے کے حکم کا ذکر نہیں ہے۔
(صحيح البخاري‘ الاعتكاف‘ حديث: 2033) بہرحال نیکی کے کام کی نذر خواہ جاہلیت کے دور میں مانی گئی ہو، پوری کرنی چاہیے۔
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں مسجد الحرام میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: " اپنی نذر پوری کر لو۔" [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3325]
حق بات کی نذر اگرحالت کفر میں بھی مانی ہو تو اسے پورا کرنا ضروری ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت میں (مسجد الحرام میں) ایک دن کا اعتکاف اپنے اوپر واجب کر لیا تھا، انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو " آپ نے انہیں اس میں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔" [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3853]
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کی نذر مانی تھی کہ وہ اس میں اعتکاف کریں گے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو " آپ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3851]
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت کے زمانہ میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1772]
فوائد وم مسائل: (1)
اعتکاف ایک دن یا ایک رات بھی ہو سکتا ہے۔
(2)
اگر کوئی شخص اسلام قبول کرنے سے پہلے کسی نیک کام کا ارادہ کرے تو اسلام قبول کرنے کے بعد وہ کام کر لینا چاہیے البتہ اگر کسی غیر شرعی کام کا ارادہ کیا ہو تو اسے پورا نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
اللہ کے لئے نذر ماننا عبادت ہے لہٰذا ایسی نذر پوری کرنا ضروری ہے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی، پھر اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی نذر پوری کرنے کا حکم دیا " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2129]
فوائد و مسائل:
(1)
نذر چونکہ اللہ کی عبادت ہے اور نیکی ہے اس لیے اسلام قبول کرنے سے پہلے جو نیکی کرنے کا ارادہ کیا تھا نبی اکرمﷺ نے وہ نیکی کرنے کا حکم دیا۔
(2)
حالت کفر میں اگر ایسا کام کرنے کی نذر مانی جائے جو اسلام میں بھی نیکی ہے تو اسلام قبول کرنے کے بعد نذر پوری کرنا ضروری ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت کے زمانہ میں نذر مانی تھی کہ میں مسجد الحرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ پھر اپنی نذر کو پورا کرو۔ " (بخاری ومسلم) اور بخاری نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے۔ پھر انہوں نے ایک رات اعتکاف کیا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1187»
«أخرجه البخاري، الاعتكاف، باب الاعتكاف ليلًا، حديث:2032، ومسلم، الأيمان، باب نذر الكافر وما يفعل فيه إذا أسلم، حديث:1656.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کافر نے حالت کفر میں جو نذر مانی ہو‘ اسلام لانے کے بعد اسے پورا کرنا ضروری ہے بشرطیکہ غیر شرعی نہ ہو۔
امام بخاری‘ امام ابن جریر رحمہم اللہ اور شوافع کی ایک جماعت کی رائے یہی ہے مگر جمہور کے نزدیک کافر کی نذر منعقد ہی نہیں ہوتی تو پوری کرنے کا کیا سوال‘ اس لیے انھوں نے اس حدیث کو استحباب پر محمول کیا ہے۔
بہرحال حدیث کے ظاہر سے پہلی رائے کی تائید ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔