صحيح مسلم
كتاب القسامة— قسموں کا بیان
باب يَمِينِ الْحَالِفِ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ: باب: قسم کھلانے والے کی نیت کے موافق قسم ہو گی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، وَقَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ عَلَيْهِ صَاحِبُكَ " ، وقَالَ عَمْرٌو : يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ .یحییٰ بن یحییٰ اور عمرو الناقد نے ہمیں حدیث بیان کی۔۔ یحییٰ نے کہا: ہمیں ہشیم بن بشیر نے عبداللہ بن ابی صالح سے خبر دی اور عمرو نے کہا: ہمیں ہشیم بن بشیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبداللہ بن ابی صالح نے خبر دی۔۔ انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری قسم اسی بات پر ہو گی جس پر تمہارا ساتھی (قسم لینے والا) تمہاری تصدیق کرے گا۔“ اور عمرو نے کہا: ”جس کی تصدیق تمہارا ساتھی کرے گا۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ " .یزید بن ہارون نے ہشیم سے، انہوں نے عباد بن ابی صالح سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم، حلف لینے والے کی نیت کے مطابق ہو گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
بھائی ہے، اس پر دشمن نے انہیں چھوڑدیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سوید رضی اللہ عنہ کو فرمایا، تم نے سچ بولا، مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، اس سے ثابت ہوا، اگر قسم لینے والا، ظلم و زیادتی کا مرتکب ہو، تو پھر توریہ جائز ہے، تفصیلات کے لیے (المغنی، ج (13)
ص 497 تا 501، مسلہ نمبر (1803)
دکتور ترکی۔
اور بقول علامہ نووی اگر حالف سے طلاق یا غلام آزاد کرنے کی قسم اٹھوائی گئی، تو پھر قسم اٹھانے والے کی نیت کا اعتبار ہو گا، یعنی وہ توریہ و تعریض سے کام لے سکے گا، علامہ تقی نے احناف کا بھی یہی موقف بتایا ہے لیکن علامہ سعیدی نے اس کی مخالفت کی ہے، اور کہا ہے، فقہاء کے احناف کے نزدیک اگر کسی شخص کے حق میں قسم لی گئی ہے، تو حلف لینے والے کی نیت کا اعتبار رہے گا، خواہ اللہ کی قسم لی جائے یا طلاق اور عتاق کی، اور جب کوئی خود قسم اٹھائے تو اس کی نیت کا اعتبار ہو گا اور وہ تاویل اور توریہ کر سکتا ہے، اور آخر میں لکھا ہے، اس مسئلہ میں علامہ ابن قدامہ حنبلی نے جو بحث کی ہے، وہی حق اور صحیح ہے۔
(شرح مسلم سعیدی، ج 4، ص 587)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہاری قسم کا اعتبار اسی چیز پر ہو گا جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے۔“ مسدد کی روایت میں: «أخبرني عبد الله بن أبي صالح» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد بن ابی صالح اور عبداللہ بن ابی صالح دونوں ایک ہی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3255]
مسلمانوں کے درمیان آپس میں تنازعات کے فیصلوں کے لئے اشارات وتعریضآات(توریے)سے قسم اٹھانا کسی طرح مفید مطلب نہیں۔
بلکہ ناجائز ہے۔
البتہ کفار یا ظالموں سے آویزش ہو تو رخصت ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہاری قسم اسی مطلب پر واقع ہو گی جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2121]
فائدہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر قسم کھا کر ذو معنی بات کہی اور ایسا معنی مراد لیا جو سچ تھا لیکن مخاطب اس سے وہ معنی نہیں سمجھا اور جو معنی مخاطب نے سمجھا اس کے لحاظ سے بات غلط تھی تو یہ جھوٹی قسم ہو گی۔
قسم کا وہی مفہوم معتبر ہو گا جو قسم دلانے والا سمجھتا ہے۔