حدیث نمبر: 1651
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، قَالَ : " جَاءَ سَائِلٌ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ فَسَأَلَهُ نَفَقَةً فِي ثَمَنِ خَادِمٍ أَوْ فِي بَعْضِ ثَمَنِ خَادِمٍ ، فَقَالَ : لَيْسَ عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ إِلَّا دِرْعِي وَمِغْفَرِي ، فَأَكْتُبُ إِلَى أَهْلِي أَنْ يُعْطُوكَهَا ، قَالَ : فَلَمْ يَرْضَ فَغَضِبَ عَدِيٌّ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَا أُعْطِيكَ شَيْئًا ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ رَضِيَ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ثُمَّ رَأَى أَتْقَى لِلَّهِ مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ التَّقْوَى مَا حَنَّثْتُ يَمِينِي " .

جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سائل آیا اور ان سے غلام کی قیمت یا غلام کی قیمت کا کچھ حصہ (ادا کرنے کے لیے) خرچے کا سوال کیا، تو انہوں نے کہا، میرے پاس تو تمہیں دینے کے لیے میری زرہ اور (سر کے) خود کے سوا کچھ نہیں، اس لیے میں اپنے گھر والوں کو لکھ دیتا ہوں کہ وہ یہ خرچہ تمہیں دے دیں۔ کہا: وہ (اس پر) راضی نہ ہوا تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا، پھر وہ آدمی (اسی بات پر) راضی ہو گیا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا: ”جس نے کوئی قسم کھائی، پھر کسی اور کام کو اللہ عزوجل کے تقوے کے زیادہ قریب دیکھا تو وہ تقوے والا کام کرے۔“ تو میں اپنی قسم نہ توڑتا۔

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيَتْرُكْ يَمِينَهُ " .

شعبہ نے عبدالعزیز بن رفیع سے، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے اور انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی قسم کھائی، پھر کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھا تو وہ وہی کام کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو ترک کر دے۔ (اور کفارہ ادا کر دے۔)“

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ طَرِيفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَدِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ عَلَى الْيَمِينِ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيُكَفِّرْهَا وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " ،

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی کام کی قسم اٹھائے، اور اس کے برعکس کو اس سے بہتر سمجھے، تو قسم کا کفارہ ادا کرے، اور وہ کام کرے جو بہتر ہے۔‘‘

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ .

شیبانی نے عبدالعزیز بن رفیع سے، انہوں نے تمیم طائی سے اور انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ یہی فرما رہے تھے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ " وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ مِائَةَ دِرْهَمٍ ، فَقَالَ : تَسْأَلُنِي مِائَةَ دِرْهَمٍ وَأَنَا ابْنُ حَاتِمٍ وَاللَّهِ لَا أُعْطِيكَ ، قَالَ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ثُمَّ رَأَى خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " ،

محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی اور انہوں نے تمیم بن طرفہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا، ان کے پاس ایک آدمی ایک سو درہم مانگنے کے لیے آیا تھا، (غلام کی قیمت میں سے سو درہم کم تھے) انہوں نے کہا: تو مجھ سے (سرف) سو درہم مانگ رہا جبکہ میں حاتم طائی کا بیٹا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں تمہیں (کچھ) نہیں دوں گا، پھر انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا: ”جس نے کوئی قسم کھائی، پھر اس سے بہتر کام دیکھا تو وہ وہی کرے جو بہتر ہے۔“ (تو میں تمہیں کچھ نہ دیتا۔)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ تَمِيمَ بْنَ طَرَفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَزَادَ وَلَكَ أَرْبَعمِائَة فِي عَطَائِي .

تمیم بن طرفہ بیان کرتے ہیں، میں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا، جبکہ ان سے ایک آدمی نے سوال کیا، آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی، اور اتنا اضافہ کیا، جب بیت المال سے مجھے عطیہ ملے گا، تو تمہیں چار سو دوں گا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة / حدیث: 1651
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3816 | سنن نسائي: 3817 | سنن نسائي: 3818 | صحيح مسلم: 1651 | سنن ابن ماجه: 2108

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3816 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´قسم توڑنے کے بعد کفارہ دینے کا بیان۔`
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3816]
اردو حاشہ: سابقہ احادیث میں کفارے کا ذکر قسم توڑنے سے پہلے تھا اور اس حدیث (اور آئندہ احادیث) میں قسم توڑنے کا ذکر پہلے ہے اور کفارے کا بعد میں۔ گویا دونوں جائز ہیں۔ کسی ایک کے ضروری ہونے کی صراحت نہیں۔ اگر کوئی ایک صورت ضروری ہوتی تو آپ صراحتاً اسے اختیار کرنے کی تلقین فرما دیتے‘ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ بہر حال یہ مسلک جمہور اہل علم کا ہے اور یہی درست ہے۔ احادیث صحیحہ پر عمل کرنا قیاسات پر عمل کرنے سے کہیں بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3816 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1651 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
تمیم بن طرفہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا، جبکہ ان کے پاس ایک آدمی سو درہم (100) مانگنے کے لیے آیا، تو انہوں نے کہا، تو مجھ سے سو (100) درہم مانگ رہا ہے، حالانکہ میں حاتم کا بیٹا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں تمہیں نہیں دوں گا، پھر کہنے لگے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا، ’’جس نے کسی کام کے لیے قسم اٹھائی، پھر اس کے سامنے بہتر سوچ آئی، تو وہ کام کرے جو بہتر ہے۔‘‘ (تو میں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4279]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: تسئلني مائة درهم؟ وانا ابن حاتم کا مقصد بقول امام قرطبی یہ ہے، کہ میں حاتم کا بیٹا ہوں، جو جودو سخاورت کی کثرت میں معروف و مشہور ہے، اور تم مجھ سے اس قدر کم رقم کا مطالبہ کررہے ہو، اور بقول قاضی عیاض، سائل نے حضرت عدی سے اس وقت سوال کیا، جبکہ اسے پتہ تھا کہ فی الحال ان کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، اور سائل کا مقصد حضرت عدی کے بخل اور کچھ دینے سے انکار کرنے کا اظہار تھا، اس لیے حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے ناراضی کی حالت میں یہ کہا، کہ تم جان بوجھ کر مجھے رسوا کرنے کے لیے کہ حاتم کا بیٹا بخیل و کنجوس ہے، یہ سوال کر رہےہو، حالانکہ تمہیں پتہ اس وقت میرے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، جاؤ میں اپنے گھر والوں کو لکھ دیتا ہوں، وہ تمہارا سوال پورا کر دیں، لیکن وہ اس پر راضی نہ ہوا، اس لیے انہوں نے کچھ نہ دینے کی قسم اٹھائی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1651 سے ماخوذ ہے۔