صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب الإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَوَاتِ وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ: باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ ، فَقَالَ مُوسَى : آدَمُ طُوَالٌ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَقَالَ عِيسَى : جَعْدٌ مَرْبُوعٌ ، وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ جَهَنَّمَ ، وَذَكَرَ الدَّجَّالَ " .شعبہ نے ابوقتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے ابوعالیہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: مجھے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے، یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء کا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ کے، اونچے لمبے تھے جیسے وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام گٹھے ہوئے جسم کے میانہ قامت تھے۔“ اور آپ نے دوزخ کے داروغے مالک اور دجال کا بھی ذکر فرمایا۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَام ، رَجُلٌ آدَمُ طُوَالٌ جَعْدٌ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ ، وَالْبَيَاضِ سَبِطَ الرَّأْسِ ، وَأُرِيَ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ ، وَالدَّجَّالَ فِي آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللَّهُ إِيَّاهُ ، فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ " ، قَالَ : كَانَ قَتَادَةُ يُفَسِّرُهَا ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَقِيَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام .شیبان بن عبدالرحمن نے قتادہ کے حوالے سے سابقہ سند کے ساتھ حدیث سنائی کہ ہمیں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسراء کی رات موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے پاس سے گزرا، وہ گندمی رنگ، طویل قامت کے گٹھے ہوئے جسم کے انسان تھے، جیسے قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں۔ اور میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دیکھا، ان کا قد درمیانہ، رنگ سرخ و سفید اور سر کے بال سیدھے تھے۔“ (سفر معراج کے دوران میں) ان بہت سی نشانیوں میں سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دکھائیں، آپ کو دوزخ کا داروغہ مالک اور دجال بھی دکھایا گیا۔ ”آپ ان (موسیٰ) سے ملاقات کے بارے میں شک میں نہ رہیں۔“ شیبان نے کہا: قتادہ اس آیت کی تفسیر بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً موسیٰ علیہ السلام سے ملے تھے۔ (یہ ملاقات حقیقی تھی، معراج محض خواب نہ تھا۔)
تشریح، فوائد و مسائل
: (1)
طُوَالٌ: طویل القامت۔
(2)
آدَمُ: گندمی رنگ والے۔
(3)
جَعْدٌ: گھنگریالے بالوں کو کہتے ہیں۔
لیکن یہاں بالوں کی بجائے جسم کی صفت ہے، اس لیے گھٹا ہوا جسم مراد ہے۔
(4)
مَرْبُوعٌ: درمیانہ قد، نہ بہت لمبا اور نہ بہت چھوٹا۔
(5)
شَنُوءَةَ: گندگی سے بعد اور دوری کو کہتے ہیں، یہاں ایک قبیلہ کا نام ہے۔