حدیث نمبر: 165
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ ، فَقَالَ مُوسَى : آدَمُ طُوَالٌ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَقَالَ عِيسَى : جَعْدٌ مَرْبُوعٌ ، وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ جَهَنَّمَ ، وَذَكَرَ الدَّجَّالَ " .

شعبہ نے ابوقتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے ابوعالیہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: مجھے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے، یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء کا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ کے، اونچے لمبے تھے جیسے وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام گٹھے ہوئے جسم کے میانہ قامت تھے۔“ اور آپ نے دوزخ کے داروغے مالک اور دجال کا بھی ذکر فرمایا۔

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَام ، رَجُلٌ آدَمُ طُوَالٌ جَعْدٌ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ ، وَالْبَيَاضِ سَبِطَ الرَّأْسِ ، وَأُرِيَ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ ، وَالدَّجَّالَ فِي آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللَّهُ إِيَّاهُ ، فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ " ، قَالَ : كَانَ قَتَادَةُ يُفَسِّرُهَا ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَقِيَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام .

شیبان بن عبدالرحمن نے قتادہ کے حوالے سے سابقہ سند کے ساتھ حدیث سنائی کہ ہمیں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسراء کی رات موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے پاس سے گزرا، وہ گندمی رنگ، طویل قامت کے گٹھے ہوئے جسم کے انسان تھے، جیسے قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں۔ اور میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دیکھا، ان کا قد درمیانہ، رنگ سرخ و سفید اور سر کے بال سیدھے تھے۔“ (سفر معراج کے دوران میں) ان بہت سی نشانیوں میں سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دکھائیں، آپ کو دوزخ کا داروغہ مالک اور دجال بھی دکھایا گیا۔ ”آپ ان (موسیٰ) سے ملاقات کے بارے میں شک میں نہ رہیں۔“ شیبان نے کہا: قتادہ اس آیت کی تفسیر بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً موسیٰ علیہ السلام سے ملے تھے۔ (یہ ملاقات حقیقی تھی، معراج محض خواب نہ تھا۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 165
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في بدء الخلق، باب: اذا قال احدكم: آمين والملائكة في السماء فوافقت احداهما الاخرى غفر له ما تقدم من ذنبه برقم (3239) وفي احادیث الانبياء، باب قول الله تعالى: ﴿ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ ﴾ ، ﴿ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴾ برقم (3396) انظر ((التحفة)) برقم (5423)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابنِ عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسراء کا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ’’موسیٰؑ گندمی رنگ اور لمبے قد کے تھے، گویا کہ وہ شنوءہ قبیلہ کے لوگوں میں سے ہیں۔ اور فرمایا: عیسیٰؑ گٹھے ہوئے جسم کے متوسط قد والے تھے۔‘‘ اور آپ ﷺ نے دوزخ کے داروغہ مالک اور دجال کا تذکرہ بھی فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:418]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
طُوَالٌ: طویل القامت۔
(2)
آدَمُ: گندمی رنگ والے۔
(3)
جَعْدٌ: گھنگریالے بالوں کو کہتے ہیں۔
لیکن یہاں بالوں کی بجائے جسم کی صفت ہے، اس لیے گھٹا ہوا جسم مراد ہے۔
(4)
مَرْبُوعٌ: درمیانہ قد، نہ بہت لمبا اور نہ بہت چھوٹا۔
(5)
شَنُوءَةَ: گندگی سے بعد اور دوری کو کہتے ہیں، یہاں ایک قبیلہ کا نام ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 165 سے ماخوذ ہے۔