صحيح مسلم
كتاب القسامة— قسموں کا بیان
باب نَدْبِ مَنْ حَلَفَ يَمِينًا فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا أَنْ يَأْتِيَ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَيُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِهِ: باب: جو شخص قسم کھائے کسی کام پر پھر اس کے خلاف کو بہتر سمجھے تو اس کو کرے اور قسم کا کفارہ دے۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِخَلَفٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا ، أَوَ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لَا يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، ثُمَّ حَمَلَنَا فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ ، ثُمَّ أَرَى خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " .غیلان بن جریر نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا۔ ہم آپ سے سواری کے طلبگار تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری مہیا نہیں کروں گا اور نہ میرے پاس (کوئی سواری) ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں۔“ کہا: جتنی دیر اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے، پھر (آپ کے پاس) اونٹ لائے گئے تو آپ نے ہمیں سفید کوہان والے تین (جوڑے) اونٹ دینے کا حکم دیا، جب ہم چلے، ہم نے کہا: یا ہم نے ایک دوسرے سے کہا۔۔ اللہ ہمیں برکت نہیں دے گا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے تو آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی، پھر آپ نے ہمیں سواری دے دی، چنانچہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات عرض کی تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں سوار نہیں کیا، بلکہ اللہ نے تمہیں سواری مہیا کی ہے اور اللہ کی قسم! اگر اللہ چاہے، میں کسی چیز پر قسم نہیں کھاتا اور پھر (کسی دوسرے کام کو) اس سے بہتر خیال کرتا ہوں، تو میں اپنی قسم کا کفارہ دیتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ لَهُمُ الْحُمْلَانَ إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ ، وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَا أَشْعُرُ ، فَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلَالًا يُنَادِي أَيْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، فَأَجَبْتُهُ ، فَقَالَ : أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوكَ ، فَلَمَّا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ ، فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ ، أَوَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ فَارْكَبُوهُنَّ ، قَالَ أَبُو مُوسَى : فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي بِهِنَّ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلْتُهُ لَكُمْ وَمَنْعَهُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُ إِيَّايَ بَعْدَ ذَلِكَ لَا تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ ، فَقَالُوا لِي : وَاللَّهِ إِنَّكَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ ، فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى أَتَوْا الَّذِينَ سَمِعُوا ، قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْعَهُ إِيَّاهُمْ ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُمْ بَعْدُ فَحَدَّثُوهُمْ بِمَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَى سَوَاءً " .حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے ساتھیوں نے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپﷺ سے سواری مانگنے کے لیے بھیجا، کیونکہ وہ بھی تنگی کی جنگ یعنی غزوہ تبوک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، تو میں نے عرض کیا، اے اللہ کے نبی! میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ انہیں بھی سواریاں دیں، اس پر آپﷺ نے فرمایا، ”اللہ کی قسم! میں تمہیں کوئی سواری مہیا نہیں کروں گا۔‘‘ اور میں آپ کو اس وقت ملا جبکہ آپ غصہ میں تھے، اور مجھے اس کا پتہ یا علم نہیں تھا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محروم کر دینے اور اس خوف سے کہ آپﷺ اپنے جی میں مجھ پر ناراض ہو گئے ہیں، غمگین حالت میں لوٹا اور میں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آیا، اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، میں نے انہیں بتا دیا، میں بہت تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا، کہ میں نے بلال کو یہ آواز دیتے ہوئے سنا، اے عبداللہ بن قیس! میں نے انہیں جواب دیا، تو اس نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو وہ تمہیں بلا رہے ہو، تو جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپﷺ نے فرمایا: ”یہ جوڑا لو، اور یہ جوڑا لو، اور یہ جوڑا لو‘‘، چھ اونٹوں کی طرف اشارہ کیا، جو اس وقت آپﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے خریدے تھے، ”انہیں اپنے ساتھیوں کے پاس لے جاؤ، اور کہو، اللہ یا آپ نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ان پر سوار کرتے ہیں، تو ان پر سوار ہو جاؤ۔‘‘ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں انہیں لے کر اپنے ساتھیوں کی طرف آ گیا، اور میں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ان پر سوار کرتے ہیں، لیکن، اللہ کی قسم! میں تمہیں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا، جب تک تم میں سے بعض میرے ساتھ، ان اشخاص کے پاس نہیں جاتے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اس وقت سنی تھی، جب میں نے آپ سے تمہاری خاطر (سواریوں کا) سوال کیا تھا، اور آپ نے پہلی دفعہ محروم کر دیا تھا، پھر اس کے بعد آپﷺ نے مجھے سواریاں دے دیں، تاکہ تم یہ خیال نہ کرو، میں نے تمہیں ایسی بات بتائی تھی، جو آپﷺ نے نہیں فرمائی تھی، تو انہوں نے مجھے کہا، اللہ کی قسم! آپ ہمارے نزدیک سچے ہیں، اور ہر وہ کام کرنے کے لیے تیار ہیں، جو آپ کو پسند ہے، تو ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ ان میں سے چند ساتھیوں کو لے چلے حتی کہ وہ ان لوگوں کے پاس آئے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اور انہیں محروم کرنا اور پھر بعد میں انہیں دینا سنا تھا، تو انہوں نے انہیں بالکل وہی بات بتائی جو انہیں ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتائی تھی۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّاد يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَعَنْ الْقَاسِمِ بن عاصم ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : أَيُّوبُ وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ مِنِّي لِحَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : " كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ شَبِيهٌ بِالْمَوَالِي ، فَقَالَ لَهُ : هَلُمَّ فَتَلَكَّأَ ، فَقَالَ : هَلُمَّ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ ، فَقَالَ : الرَّجُلُ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا ، فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ ، فَقَالَ : هَلُمَّ أُحَدِّثْكَ عَنْ ذَلِكَ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ، فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ ، فَدَعَا بِنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى ، قَالَ : فَلَمَّا انْطَلَقْنَا ، قَالَ : بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَغْفَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا يُبَارَكُ لَنَا ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ وَإِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ، ثُمَّ حَمَلْتَنَا أَفَنَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا ، فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " ،حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم بن عاصم سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی۔۔ ایوب نے کہا: ابوقلابہ کی حدیث کی نسبت مجھے قاسم کی حدیث زیادہ یاد ہے۔۔ انہوں (زہدم) نے کہا: ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے اپنا دسترخوان منگوایا جس پر مرغی کا گوشت تھا، اتنے میں بنو تیم اللہ میں سے ایک آدمی اندر داخل ہوا، وہ سرخ رنگ کا موالی جیسا شخص تھا، تو انہوں نے اس سے کہا: آؤ۔ وہ ہچکچایا تو انہوں نے کہا: آؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (مرغی کے گوشت) میں سے کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس آدمی نے کہا: میں نے اسے کوئی ایسی چیز کھاتے ہوئے دیکھا تھا جس سے مجھے اس سے گھن آئی تو میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اس (کے گوشت) کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ اس پر انہوں نے کہا: آؤ، میں تمہیں اس کے بارے میں حدیث سناتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اشعریوں کے ایک گروہ کے ساتھ تھا، ہم آپ سے سواریوں کے طلبگار تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری مہیا نہیں کروں گا اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں۔“ جتنا اللہ نے چاہا ہم رکے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (کافروں سے) چھینے ہوئے اونٹ (جو آپ نے سعد رضی اللہ عنہ سے خرید لیے تھے) لائے گئے تو آپ نے ہمیں بلوایا، آپ نے ہمیں سفید کوہان والے پانچ (یا چھ، حدیث: 4264) اونٹ دینے کا حکم دیا۔ کہا: جب ہم چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا: (غالباً) ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قسم سے غافل کر دیا، ہمیں برکت نہ دی جائے گی، چنانچہ ہم واپس آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں سواریاں لینے کے لیے حاضر ہوئے تھے اور آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی، پھر آپ نے ہمیں سواریاں دے دی ہیں تو اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ کی مشیت سے میں جب بھی کسی چیز پر قسم کھاتا ہوں، پھر اس کے علاوہ کسی اور کام کو اس سے بہتر خیال کرتا ہوں تو وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہے اور (قسم کا کفارہ ادا کر کے) اس کا بندھن کھول دیتا ہوں۔ تم جاؤ، تمہیں اللہ عزوجل نے سوار کیا ہے۔“
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ .عبدالوہاب ثقفی نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی، انہوں نے کہا: جرم کے قبیلے اور اشعریوں کے درمیان محبت و اخوت کا رشتہ تھا، ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہیں کھانا پیش کیا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا۔۔ (آگے) اسی کے ہم معنی بیان کیا۔
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ . ح ، وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، وَاقْتَصُّوا جَمِيعًا الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ،امام صاحب اپنے پانچ اساتذہ کی تین سندوں سے، زھدم جرمی کی روایت بیان کرتے ہیں۔ تمام اساتذہ نے حماد بن زید کی حدیث نمبر 9 کی طرح حدیث بیان کی۔
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الصَّعْقُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا زَهْدَمٌ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فِيهِ ، قَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا نَسِيتُهَا .مطروراق نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زہدم جرمی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا، وہ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے۔۔ انہوں نے ان سب کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اس (اپنی قسم) کو نہیں بھولا۔“
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : " مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةِ ذَوْدٍ بُقْعِ الذُّرَى ، فَقُلْنَا إِنَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، فَأَتَيْنَاهُ فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَقَالَ : إِنِّي لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ أَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " ،حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں لینے کے لیے حاضر ہوئے، تو آپﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، اللہ کی قسم! میں تمہیں سوار نہیں کروں گا۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے پاس تین جوڑے اونٹ سفید کوہانوں والے بھیجے، تو ہم نے دل میں کہا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں لینے کے لیے حاضر ہوئے، تو آپﷺ نے ہمیں سوار نہ کرنے کی قسم اٹھائی، اس لیے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ کو آپ کی قسم سے آگاہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کسی چیز پر قسم نہیں اٹھاتا، کہ جس کے خلاف کرنے کو بہتر سمجھوں، مگر پھر میں بہتر کام ہی کرتا ہوں۔‘‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، عَنْ زَهْدَمٍ يُحَدِّثُهُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مُشَاةً ، فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .معتمر نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ہمیں ابوسلیل (ضریب) نے زہدم سے حدیث بیان کی، وہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہم پیدل تھے تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم آپ سے سواریاں حاصل کرنا چاہتے تھے، (آگے اسی طرح ہے) جس طرح جریر کی حدیث ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
نستحمله: آپ سے سواری چاہتے تھے۔
(2)
ذود كا: اطلاق تین سے لے کر دس اونٹ تک پر ہوتا ہے۔
(3)
غر، اغر کی جمع سفید کو کہتے ہیں۔
(4)
ذري، ذروة کی جمع ہے، ہر چیز کی چوٹی اور بلند حصہ کو کہتے ہیں، اور یہاں کوہان مراد ہے۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ بندہ اپنے افعال کا کسب کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اسے پیدا کرتا ہے کیونکہ اس حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سواریاں فراہم کیں اور فرمایا: ’’یہ سواریاں میں نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دی ہیں جیسا کہ روزے دار بھول کر کھا لے تو فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اسے کھلاتا اور پلاتا ہے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت عطا کیا تھا تو درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی نے انھیں اونٹ دیے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کے افعال کا خالق ہے۔
اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل عطا کو اللہ کی طرف منسوب کیا ہے کیونکہ اسباب کا مہیا کرنے والا اور انھیں پیدا کرنے والا وہ خود ہے 2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: اس حدیث میں سواریاں دینے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی گئی ہے حالانکہ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فراہم کی تھیں۔
چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اسباب مہیا کیے تھے۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فعل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’اور جب آپ نے مٹھی پھینکی تو وہ آپ نے نہیں پھینکی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تھی۔
‘‘ (الأنفال: 8/17۔
وفتح الباري: 663/13)
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بحالت غصہ کھائی ہوئی قسم منعقد ہو جاتی ہے اور اس کا خلاف کرنے پر کفارہ دینا پڑتا ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مبارک ہے لیکن بعض روایات سے پتا چلتا ہے کہ غصے کی حالت میں قسم منعقد نہیں ہوتی جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بحالت غصہ قسم اٹھانے کا کوئی اعتبار نہیں۔
‘‘ (المعجم الأوسط للطبراني، حدیث: 2029)
اس کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔
(فتح الباري: 688/11) (2)
بہرحال غصے کی حالت میں اٹھائی گئی قسم بھی معتبر ہے اور اس کا خلاف کرنے پر کفارہ دینا پڑتا ہے۔
واللہ أعلم۔
(3)
ابن بطال کہتے ہیں کہ اس حدیث سے ان حضرات کی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ بحالت غصہ کھائی ہوئی قسم لغو ہوتی ہے اور اس پر کسی قسم کا کفارہ نہیں۔
(فتح الباري: 690/11)
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کفارہ قسم توڑنے کے بعد دینا چاہیے کیونکہ کفارہ گناہ کو چھپاتا ہے اور قسم توڑنے سے پہلے گناہ ہی نہیں تو اس نے چھپانا کس چیز کو ہے، لہذا حانث ہونے سے پہلے کفارہ جائز نہیں، لیکن امام بخاری رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ کفارہ قسم توڑنے سے پہلے بھی ادا کیا جا سکتا ہے کیونکہ جب قسم توڑنے کا ارادہ کر لیا تو گناہ کا ارادہ ہو گیا، اس بنا پر کفارہ پہلے دینے میں کوئی حرج نہیں، چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت کے یہ الفاظ بھی مروی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور وہ کام کر گزرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأیمان والنذور، حدیث: 6623)
(1)
صحیح بخاری ہی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے خرید کر اشعری حضرات کو عنایت فرمائے تھے جبکہ اس حدیث کے مطابق وہ غنیمت کے طور پر آپ کو ملے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ اونٹ غنیمت ہی کے تھے لیکن حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے حصے میں جو اونٹ آئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خرید کر اشعری حضرات کو عنایت کیے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ دو الگ الگ واقعات ہوں۔
واللہ أعلم۔
(2)
اس حدیث کی عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کی کیفیت بتائی گئی ہے کہ اس میں کفارہ دیا گیا اور کفارہ اس قسم پر ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نام پر اٹھائی جائے، لہذا معلوم ہوا کہ آپ صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھاتے تھے، غیراللہ کی قسم اٹھانا آپ کا معمول نہ تھا۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 653/11)
اس حدیث کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی اور پھر ان شاءاللہ کہا، اس کا مطلب یہ ہے کہ قسم اٹھانے کے بعد ان شاءاللہ کہنا مشروع ہے۔
ایسا کرنے سے انسان حانث نہیں ہوتا بشرطیکہ وہ ان شاءاللہ کے الفاظ قسم اٹھانے کے متصل بعد کہہ دے۔
محض قصد اور ارادے سے مذکورہ حکم ثابت نہیں ہو گا اور نہ اس امر سے استثناء ہی ثابت ہو گا کہ قسم اٹھانے والا کافی دیر سکوت کرنے کے بعد ان شاءاللہ کے الفاظ کہے، نیز اگر ان شاء اللہ کے الفاظ محض تبرک کے لیے استعمال کیے ہیں، جبکہ اس کا ارادہ استثناء وغیرہ کا نہیں تھا تو قسم کے منافی کام کرنے سے قسم ٹوٹ جائے گی اور اسے کفارہ دینا ہو گا۔
مرغی ایسا جانور نہیں ہے جس کی مطلق غذا گندگی ہو وہ اگر گندگی کھاتی ہے تو پاکیزہ اشیاءبھی بکثرت کھاتی ہے پس اس کی حلت میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ تم بھی اپنی قسم توڑ کر ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہو جاؤ اور مرغی کا گوشت کھاؤ، مرغی ایسا جانور نہیں ہے جس کی مطلق غذا گندگی ہو، وہ اگر کبھی گندگی کھاتی ہے تو پاکیزہ اشیاء بھی بکثرت کھاتی ہے اس بنا پر اس کے حلال ہونے میں ذرا بھر شبہ نہیں ہے۔
اگرچہ ہمارے بعض اسلاف گندگی کھانے والی مرغی کو اپنے گھر تین دن تک خوراک کھلاتے، پھر اسے ذبح کر کے کھاتے تھے جیسا کہ ابن ابی شیبہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا ہے۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 147/5، رقم: 24598)
بہرحال یہ ان کی احتیاط تو ہو سکتی ہے لیکن اس کے حلال ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے۔
(فتح الباري: 802/9)
فراغت سے کھا اور قسم کا کفارہ ادا کردے‘ باب کی مناسبت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعریوں کو اپنے حصہ یعنی خمس میں سے یہ اونٹ دیئے۔
ابوموسیٰ اوران کے ساتھیوں نے یہ خیال کیا کہ شاید آنحضرت ﷺ کو وہ قسم یاد نہ رہی ہو کہ میں تم کو سواریاں نہیں دینے کا اور ہم نے آپ کو یاد نہیں دلایا‘ گویا فریب سے ہم یہ اونٹ لے آئے‘ ایسے کا م میں بھلائی کیوں کر ہوسکتی ہے۔
اسی صفائی کے لئے انہوں نے مراجعت کی جس سے معاملہ صاف ہوگیا۔
1۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کا مطلب تھا کہ مرغی نہ کھانے کی قسم اٹھانا اچھا نہیں کیونکہ مرغی حلال جانور ہے۔
اسے کھاؤ اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی نے کام کرنے یا نہ کرنے کی قسم اٹھائی حالانکہ اس کے لیے قسم توڑنا اس پر قائم رہنے سے بہتر ہے تو اس قسم کو توڑ دیا جائے اور ایسی قسم کاکفارہ لازم ہے۔
3۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ خمس مسلمانوں کی ضروریات کے لیے ہوتا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جو اونٹ آئے تھے وہ مال خمس سے تھے اور رسول اللہ ﷺنے لوگوں کی ضروریات کے لیے انھیں دے دیے۔
مال غنیمت تو مجاہدین میں تقسیم ہو گیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں خمس بھیجا گیا جو آپ نے اپنی صوابدید کے مطابق صرف کیا۔
واللہ أعلم۔
(1)
یہ غزوۂ تبوک کا واقعہ ہے اور درج ذیل آیات اسی واقعہ کے پس منظر میں نازل ہوئیں: ''اور نہ ان لوگوں پر ہی کچھ الزام ہے جو آپ کے پاس حاضر ہوئے تاکہ آپ انہیں سواری مہیا کر دیں، تو آپ نے کہا: میرے پاس تمہارے لیے سواری کا بندوبست نہیں، تو وہ واپس چلے گئے اور اس غم سے ان کی آنکھیں اشکبار تھیں کہ ان کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے۔
'' (التوبة: 92/9) (2)
ایک دوسری روایت میں یہ واقعہ ذرا تفصیل سے بیان ہوا ہے، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھیوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری مانگنے کے لیے بھیجا۔
میں نے جا کر عرض کی: اللہ کے رسول! میرے ساتھیوں نے مجھے سواری طلب کرنے کے لیے آپ کے پاس بھیجا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’واللہ! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا۔
‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصے میں تھے مگر میں سمجھ نہ سکا۔
میں افسردہ ہو کر واپس آیا اور اپنے ساتھیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کی اطلاع دی۔
مجھے ایک تو یہ غم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سواری مہیا نہیں کی اور دوسرا یہ کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ناراض ہیں۔
مجھے واپس آئے ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ میں نے سنا حضرت بلال رضی اللہ عنہ مجھے پکار رہے ہیں۔
میں نے جواب دیا تو وہ کہنے لگے: چلو، تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلا رہے ہیں۔
میں حاضر خدمت ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’یہ اونٹوں کے تین جوڑے ہیں جو میں نے ابھی ابھی سعد سے خریدے ہیں۔
یہ چھ اونٹ لے لو اور اپنے ساتھیوں سے کہنا کہ یہ اونٹ اللہ تعالیٰ نے یا اللہ کے رسول نے تمہیں سواری کے لیے دیے ہیں، انہیں اپنے کام میں لاؤ۔
‘‘ (صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4415)
1۔
جب حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ حضرت عثمان ؓ کے عہد خلافت میں کوفہ کے گورنر بنا کر بھیجے گئے تو اس وقت یہ واقعہ پیش آیا تھا قبیلہ جَرم یمن میں رہتا تھا بعد میں کوفے بسیرا کر لیا اس تعلق کی وجہ سے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے ان کا اعزاز و اکرام کیا۔
(عمدة القاري: 349/12)
2۔
غزوہ تبوک میں شمولیت کے لیے اشعری حضرات کے پاس سواریاں نہیں تھیں اس لیے انھوں نے سواریاں کا مطالبہ کیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ کسی اور وجہ سے ناراض تھے، اتفاق سے آپ کے پاس سواریاں نہیں تھیں اس لیے آپ نے انکار کردیا۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اس انکار کی وجہ سے بہت پریشان ہوئے کہ شاید آپ مجھ پر کسی وجہ سے ناراض ہیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 44۔
15)
3۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس غنیمت کے اونٹ آئے تھے جبکہ دوسری روایات میں ہے کہ آپ نے انھیں حضرت سعد ؓ سے خریدا تھا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 44۔
15)
ممکن ہے کہ حضرت سعد ؓ کو غنیمت کے مال سے بطور حصہ اونٹ ملے ہوں اور آپ نے ان سے خرید کیے ہوں۔
واللہ اعلم۔
4۔
اونٹوں کی تعداد کے متعلق بھی اختلاف ہے بعض میں پانچ اور کسی میں چھ ہے بعض روایات میں ہے کہ آپ نے دو، دو کر کے انھیں عطا فرمائے۔
ممکن ہے کہ اصل تو پانچ ہی ہوں اور چھٹا ویسے ہی تبعاً دے دیا ہو۔
متعدد واقعات بھی ہو سکتے ہیں۔
واللہ اعلم۔
(1)
تلكا: تاخیر، ہچکچاہٹ سے کام لیا۔
(2)
نهب ابل: غنیمت کے اونٹ۔
فوائد ومسائل: یہ داخل ہونے والا تیم اللہ کا فرد، خود زھدم جرمی ہے، کیونکہ بنو تیم اللہ اور بنو جرم دونوں قبیلہ قضاعہ کے خاندان ہیں، اس لیے بنو زھدم کو بعض دفعہ بنو تیم اللہ بھی کہہ دیا جاتا ہے، اور آپﷺ نے حضرت سعد سے اونٹ غنیمت کے اونٹوں کے عوض حاصل کئے تھے، کہ جب غنائم حاصل ہوں گے، تمہیں اونٹ دے دیں گے، یا حضرت سعد کو یہ اونٹ غنیمت میں حاصل ہوئے تھے، اس لیے انہیں غنیمت کے اونٹوں سے تعبیر کر دیا، یہ اونٹ چھ تھے اگرچہ بعض راویوں نے انہیں پانچ کہہ دیا ہے، یا پانچ تھے، کسر کو پورا کرتے ہوئے انہیں چھ سے تعبیر کر دیا گیا ہے۔
بُقْعٌ، أَبْقَعُ کی جمع ہے، چتکبرا، جس میں سیاہی و سفیدی ہو، سفیدی کے غلبہ کی بنا پر ان کو بقع الذري کی بجائے عام روایات میں غر الذري قرار دیا گیا ہے، اس لیے متن میں معنی سفید کوہان کیا گیا ہے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم آپ سے سواریاں مانگ رہے تھے ۱؎، آپ نے فرمایا: ” قسم اللہ کی! میں تمہیں سواریاں نہیں دے سکتا، میرے پاس کوئی سواری ہے بھی نہیں جو میں تمہیں دوں “، پھر ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، اتنے میں کچھ اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے تین اونٹوں کا حکم دیا، تو جب ہم چلنے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ تعالی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3811]
(2) ”میں نے نہیں دیں“ یعنی اب اللہ تعالیٰ نے اونٹ بھیج دیے جو میں نے تم کو دیے۔ باقی رہی قسم تو اس کا جواب آگے ذکر ہے۔
(3) اس حدیث میں قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کا ذکر ہے۔ جمہور اس کے قائل ہیں‘ البتہ احناف اسے درست نہیں سمجھتے کہ جب کفارہ کا سبب ہی واقع نہیں ہوا تو کفارہ کیسے ہوسکتا ہے؟ حالانکہ جب نیت قسم توڑنے کی ہوگئی تو بہتر ہے کفارہ پہلے دے دیا جائے تاکہ کفارہ لازم ہی نہ آئے اگرچہ بعد میں ادا کرنا بھی درست ہے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” زمین پر کوئی ایسی قسم نہیں جو میں کھاؤں پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھوں مگر میں وہی کروں گا “ (جو بہتر ہو گا)۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3810]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعری قبیلہ کے چند لوگوں کے ہمراہ آپ سے سواری مانگنے کے لیے حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کی قسم! میں تم کو سواری نہیں دوں گا، اور میرے پاس سواری ہے بھی نہیں کہ تم کو دوں “، پھر ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، پھر آپ کے پاس زکاۃ کے اونٹ آ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے سفید کوہان والے تین اونٹ دینے کا حکم دیا، جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2107]
فوائد و مسائل:
(1)
قسم کی تین قسمیں ہیں: (ا)
لغو: جس میں قسم کا لفظ بولا جائے لیکن قسم کا ارادہ نہ ہو جیسے بعض لوگ عادت کے طور پر بلا ارادہ قسم کے لفظ بول دیتے ہیں۔
اس پر کوئی مواخذہ نہیں تاہم اس سے اجتناب بہتر ہے۔
(ب)
غموس: یعنی جھوٹی قسم جو کسی کو دھوکا دینے کے لیے کھائی جائے۔
یہ کبیرہ گناہ ہے، اس پر توبہ استغفار کرنا چاہیے اور آئندہ بچنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے تاہم اس پر کفارہ واجب نہیں۔
(ج)
معقدہ: جو مستقبل میں کسی کام کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کلام میں تاکید اور پختگی کے لیے ارادہ نیت سے کھائے۔
اس قسم کو توڑنے پر کفارہ ادا کرنا ضروری ہے۔ (دیکھیئے: تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف سورہ المائدہ 5: 89)
۔
(2)
قسم کا کفارہ دس غریب آدمیوں کو کھانا کھلانا یا انہیں لباس مہیا کرنا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ (سورۃ مائدۃ: 89)
(3)
ایک آدمی کو خوراک کے طور پر ایک مدغلہ (تقریبا چھ سو گرام)
کافی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں روزے کی حالت میں ہم بستری کر لینے والے کو ساتھ مسکینوں میں تقسیم کرنے کے لیے پندرہ صاع کھجوریں دی تھیں۔
اور ایک صاع میں چار مد ہوتے ہیں۔
بعض علماء کے نزدیک خوراک اور لباس میں عرف کا اعتبار ہے یعنی جسے عام لوگ کہیں کہ اس نے کھانا کھلا دیا قرآن مجید سے یہی ارشارہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ﴾ (المائدۃ، 5: 89)
’’اوسط درجے کا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔‘‘
یعنی اس کی مقدار مقرر نہیں۔
اپنی استطاعت کے مطابق سادہ یا عمدہ کھانا یا لباس دینا چاہیے۔
(4)
نیکی کا کام نہ کرنے یا گناہ کرنے کی قسم کھانا بھی ناجائز ہے۔
اس پر بھی کفارہ ادا کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَجْعَلُوا اللَّـهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ﴾ (البقرۃ، 2: 224)
’’اور اللہ تعالیٰ کو اپنی قسموں کا (اس طرح)
نشانہ نہ بناؤ کہ بھلائی اور پرہیز گاری اور لوگوں کے درمیان صلح کرانا چھوڑ بیٹھو۔‘‘
(5)
جو کام نہ کرنے کی قسم کھائی ہو کفارہ اسے انجام دینے سے پہلے بھی دیا جاسکتا ہے بعد میں بھی۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مرغی حلال جانور ہے۔ اس کا گوشت اور اس کا انڈہ کھا نا جائز ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم، دارمی، بیہقی اور مسند أحمد میں بھی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر باب باندھا ہے «بــاب لـحـم الدجاج» اور امام ترمذی بھی فرماتے ہیں:«باب ما جاء فى اكل الدجاج»
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو پاکیزہ کھانا ہی کھاتے تھے اور ایسے کھانے کے قریب تک نہیں جاتے تھے کہ جس میں کراہت ہو۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرغی کا گوشت کھانا اس کے حلال ہونے کی واضح دلیل ہے۔ اس کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ مرغی کے گوشت کو حرام قرار دے۔ صرف اس شبہ سے کہ اس کی خوراک میں حرام چیز میں استعمال ہوتی ہیں کیونکہ حلت اور حرمت میں جانور کی غذا کا اعتبار نہیں بلکہ شریعت کا اعتبار ہے کیونکہ بعض جانور ایسے ہیں کہ جن کی خوراک پھل، سبزیاں اور حلال اشیاء میں اس کے باوجود وہ حرام ہیں مثلاً گیدڑ، بندر وغیرہ ایسے جانوروں کو کھانا ہر گز حلال نہیں، حالانکہ ان کی خوراک پاکیزہ ہوتی ہے مگر شریعت نے انھیں حرام قرار دیا ہے۔
اگر حرام اور حلال ہونے کی علت جانور کے کھانے (خوراک) کو تسلیم کر لیں کہ جس کی خوراک پاک ہوگی اس کا گوشت حلال اور جس کی خوراک نجس اور حرام ہو گی اس کا گوشت حرام ہوگا تو فرض کریں کہ کوئی شخص خنزیر کے بچے کو پیدائش ہی سے گھر میں پالتا ہے، اسے حلال اور پاک غذا مہیا کرتا ہے تو کیا وہ حلال ہو جائے گا؟ اگر اس بارے میں کوئی شخص اپنی عقل کو فیصل مانے گا تو اس کے مطابق تو حلال ہوگا کیونکہ اس نے کبھی حرام اور نجس چیز کھائی ہی نہیں اور اپنا فیصلہ اگر شریعت کی طرف لے جائے گا پھر یہ حرام ہوگا۔
ان تمام دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ حلت اور حرمت میں جانور کی خوراک کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ شریعت کا اعتبار ہوگا۔
شبہ کا رد۔۔۔ جولوگ برائلر مرغی کو حرام قرار دیتے ہیں وہ اسے جلالہ پر قیاس کرتے ہیں جسے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عـن أكل الجلالة والبانها۔» (ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجه)
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام نے حلالہ کے کھانے سے اور ان کے دودھ سے منع کیا ہے۔“
اس حدیث سے جلالہ کی قطعی حرمت ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے استعمال سے اس وقت تک روکا گیا ہے جب تک کہ اس گندی خوراک کی بد بو زائل نہ ہو جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ: «إنـه كـان يـحبس الدجاجة الـجـلالـة ثـلاثـا»
”عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جلالہ مرغی کو تین دن بند رکھتے تھے (پھر استعمال کر لیتے تھے)۔ [رواه ابن ابي شيبه]
علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ارواء الغليل: 151/8)
یہ صرف اس لیے کرتے تھے تا کہ اس کا پیٹ صاف ہو جائے اور گندگی کی بو اس کے گوشت سے جاتی رہے۔ اگر جلالہ کی حرمت گوشت کی نجاست کی وجہ سے ہوتی تو وہ گوشت جس نے حرام پرنشو و نما پائی ہے کسی بھی حال میں پاک نہ ہوتا۔ جیسا کہ ابن قدامہ نے کہا ہے کہ اگر جلالہ نجس ہوتی تو دو تین دن بند کرنے سے بھی پاک نہ ہوتی۔ (المغنی: 41/9)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس صحیح اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ جلالہ کی حرمت اس کے گوشت کا نجس اور پلید ہونا نہیں بلکہ علت اس کے گوشت سے گندگی کی بد بو وغیرہ کا آنا ہے۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ´´و الـمـعـتـبـر فـي جـواز اكل الجلالة زوال رائحة الـنـجـاسة عن تعلف بالشيى الطاهر على الصحيح ``(فتح الباری: 565/9) جلالہ کے کھانے کا لائق ہونے میں معتبر چیز نجاست وغیرہ کی بدبو کا زائل ہونا ہے۔ یعنی جب بد بو زائل ہو جائے تو اس کا کھانا درست ہے۔
علامہ صنعانی بھی فرماتے ہیں: ´´ قيـل بـل الإعتبار بالرائحة و النتن `` کہ حلالہ کے حلال ہونے میں بد بو کے زائل ہونے کا اعتبار کیا جا تا ہے۔ (سبل السلام: 77/3)
جلالہ کے بارے میں اہل لغت کے اقوال جان لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ اکثر اہل لغت نے لکھا ہے: ´´ألـجـلالة هي البقرة التي تتبع النجاسات`` کہ جلالہ وہ گائے ہے جو نجاسات کو تلاش کرتی ہے۔ (لسان العرب: 336/2، الصحاح للجوهري: 1258/4، القاموس المحيط: 591/1)
این منظور الافریقی لکھتے ہیں: ´´و الجلالة من الحيوان التي تأكل الجلة العذرة`` جلالہ وہ حیوان جو انسان کا پاخانہ وغیرہ کھاتے ہیں۔ (لسان العرب: 336/2)
اس قول کے مطابق برائلر مرغی جس کو لوگ حرام قرار دیتے ہیں جلالہ بنتی ہی نہیں ہے کیونکہ وہ انسان کا پاخانہ نہیں کھاتی۔ لہٰذا اسے جلا لہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ اس میں جلالہ کی علت نہیں پائی جاتی اور جب علت نہ رہی تو جلالہ والا حکم بھی اس پر نہیں لگ سکتا۔
لہٰذا برائلر مرغی جس کی غذا حلال اور حرام چیزوں کے مرکبات سے تیار ہوتی وہ حلال ہے جس میں کوئی شبہ نہیں۔ اس کی غذا کا اعتبار نہیں بلکہ شریعت کا اعتبار ہے۔
آخر میں یہ بات بھی اچھی طرح یادر ہے کہ مرغی کی خوراک میں جو خون مردار اور دوسری حرام اشیاء ڈالی جاتی ہیں اگر چہ یہ انسانوں کے لیے حرام ہیں جانوروں کے لیے حرام نہیں کیونکہ وہ تو مکلف ہی نہیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کے لیے جن اشیاء کا کھانا حرام قرار دیا ہے ان کی خرید وفروخت بھی (چند ایک جانور چھوڑ کر) حرام قرار دی ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: «لـعـن الـلـه اليهود - ثلاثا أن الله حرم عليهم الشحوم فباعوها و أكلوا أثمانها و إن الله إذا حرم على قوم أكل شيى حرم عليهم ثمنه»
”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین مرتبہ دہرائے پھر کہا: اللہ تعالیٰ نے ان پر چر بی کا کھانا حرام کر دیا تو انہوں نے اسے فروخت کر کے اس کی قیمت استعمال کرنی شروع کر دی اور یقینا اللہ تعالیٰ جس کسی قوم پرکسی چیز کا کھانا حرام کر دیتا ہے اس کی قیمت بھی ان پر حرام کر دیتا ہے“۔ [صحيح سنن ابي داؤد للالباني: 667/2 و أحمد]
اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: «إن الـلـه حـرم الـخمر وثمنها وحرم الميتة و ثمنها و حرم الخنزير و ثمنه»
”بے شک اللہ نے شراب، مردار، خنزیر کو حرام قرار دیا ہے اور ان کی قیمتیں بھی حرام کی ہیں“۔ [صحيح ابوداؤد: 666/2]
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین سے معلوم ہوتا ہے کہ جن چیزوں کا کھانا انسان کے لیے حرام ہے ان کی خرید و فروخت کرنا بھی حرام ہے۔ (سوائے چند جانوروں کے جیسے کہ گھریلو گدھا ہے) ایسا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ہے اور حرام کمائی کھانے اور جمع کرنے میں مصروف ہے۔ ہمارے ان بھائیوں کو چاہیے کہ وہ مرغی کی خوراک تیار کرنے میں حرام اشیاء کی خرید و فروخت سے اجتناب کریں۔ خوراک میں مردار اور خون ڈالنے کی بجائے مچھلی کا چورا ڈال لیں۔ جب حلال چیز کی خرید و فروخت میں کفایہ ہے تو پھر حرام کی کیا ضرورت ہے؟ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ «هـذا ما عندي والله اعلم بالصواب» (آپ کے مسائل اور ان کا حل از مفتی مبشر أحمد ربانی)۔