حدیث نمبر: 1645
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ يُونُسُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ " .حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”نذر کا کفارہ (وہی ہے جو) قسم کا کفارہ ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نذر کا کفارہ، قسم والا کفارہ ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4253]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، نذر کا حکم قسم والا ہے، اس لیے اس کا کفارہ بھی قسم والا ہے۔
جامع الصغیر میں ہے، (النذرة يمين)
نذر قسم ہے، (وكفارته كفارة اليمين)
اور اس کا کفارہ قسم والا ہے۔
بعض روایات میں ہے، (كفارة النذر اذا لم يسم كفارة اليمين)
نذر اگر متعین نہ ہو تو اس کا کفارہ قسم والا ہے، اس لیے اس حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ اگر کسی نے کہا، لِلهِ عَلَی نذر، اللہ کی مجھ پر نذر ہے، تو اس پر کفارہ یمین لازم ہو گا، اور امام نووی کے نزدیک اس سے مراد نذر لجاج ہے، جس میں تعلیق ہوتی ہے، مثلا کوئی انسان کہتا ہے، اگر میں زید سے ہم کلام ہوں تو مجھ پر اللہ کے لیے حج ہو گا، تو شوافع کے نزدیک اگر وہ زید سے گفتگو کر کے حانث ہو جاتا ہے، یعنی قسم توڑ دیتا ہے، کیونکہ یہ نذر، قسم کے ہیں، تو اب اس کو اختیار ہے نذر پوری کرتے ہوئے حج کرے یا قسم والا کفارہ ادا کرے، احناف کا بھی یہی موقف ہے، اگر نذر معصیت کی ہے، تو اس کے بارے میں ائمہ کے اقوال گزر چکے ہیں، اگر ایسی چیز کے بارے میں نذر مانی ہے، جو اس کے بس یا طاقت سے باہر ہے، تو اس پر قسم والا کفارہ ہے، لیکن اگر بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے، یا بیٹا ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو اکثر ائمہ کے نزدیک اس پر دم لازم ہو گا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنن ابی داود میں مرفوع حدیث مروی ہے کہ جس نے غیر متعین نذر مانی، اس پر قسم والا کفارہ ہے، اور جس نے معصیت کی نذر مانی، اس پر بھی قسم والا کفارہ ہے، اور جس نے طاقت سے بڑھ کر نذر مانی، اس کا کفارہ بھی قسم والا ہے، اور سنن ابن ماجہ میں ہے، جس نے مقدرت و طاقت کے مطابق نذر مانی، وہ اسے پورا کرے۔
(تکملہ، ج 2، ص 174)
جامع الصغیر میں ہے، (النذرة يمين)
نذر قسم ہے، (وكفارته كفارة اليمين)
اور اس کا کفارہ قسم والا ہے۔
بعض روایات میں ہے، (كفارة النذر اذا لم يسم كفارة اليمين)
نذر اگر متعین نہ ہو تو اس کا کفارہ قسم والا ہے، اس لیے اس حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ اگر کسی نے کہا، لِلهِ عَلَی نذر، اللہ کی مجھ پر نذر ہے، تو اس پر کفارہ یمین لازم ہو گا، اور امام نووی کے نزدیک اس سے مراد نذر لجاج ہے، جس میں تعلیق ہوتی ہے، مثلا کوئی انسان کہتا ہے، اگر میں زید سے ہم کلام ہوں تو مجھ پر اللہ کے لیے حج ہو گا، تو شوافع کے نزدیک اگر وہ زید سے گفتگو کر کے حانث ہو جاتا ہے، یعنی قسم توڑ دیتا ہے، کیونکہ یہ نذر، قسم کے ہیں، تو اب اس کو اختیار ہے نذر پوری کرتے ہوئے حج کرے یا قسم والا کفارہ ادا کرے، احناف کا بھی یہی موقف ہے، اگر نذر معصیت کی ہے، تو اس کے بارے میں ائمہ کے اقوال گزر چکے ہیں، اگر ایسی چیز کے بارے میں نذر مانی ہے، جو اس کے بس یا طاقت سے باہر ہے، تو اس پر قسم والا کفارہ ہے، لیکن اگر بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے، یا بیٹا ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو اکثر ائمہ کے نزدیک اس پر دم لازم ہو گا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنن ابی داود میں مرفوع حدیث مروی ہے کہ جس نے غیر متعین نذر مانی، اس پر قسم والا کفارہ ہے، اور جس نے معصیت کی نذر مانی، اس پر بھی قسم والا کفارہ ہے، اور جس نے طاقت سے بڑھ کر نذر مانی، اس کا کفارہ بھی قسم والا ہے، اور سنن ابن ماجہ میں ہے، جس نے مقدرت و طاقت کے مطابق نذر مانی، وہ اسے پورا کرے۔
(تکملہ، ج 2، ص 174)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1645 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1528 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´غیر متعین نذر کے کفارہ کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” غیر متعین نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان/حدیث: 1528]
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” غیر متعین نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان/حدیث: 1528]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جس نے کوئی نذر مانی اور اس کا نام نہیں لیا یعنی صرف اتنا کہاکہ اگر میری مراد پوری ہوجائے تومجھ پرنذرہے تو اس کا کفار ہ قسم کا کفارہ ہے۔
نوٹ:
(لیکن 'لم یسم' کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مؤلف کے سوا کسی کے یہاں ہے بھی نہیں (جبکہ ابوداود نے اسی کا لحاظ رکھ کر ’’من نذرنذراً لم یسم‘‘ کا باب باندھاہے) یہ مؤلف کے راوی ’’محمد مولیٰ المغیرہ‘‘ کا اضافہ ہے جو خود مجہول راوی ہیں، یہ دیگرکی سندوں میں نہیں ہیں)
وضاحت:
1؎:
یعنی جس نے کوئی نذر مانی اور اس کا نام نہیں لیا یعنی صرف اتنا کہاکہ اگر میری مراد پوری ہوجائے تومجھ پرنذرہے تو اس کا کفار ہ قسم کا کفارہ ہے۔
نوٹ:
(لیکن 'لم یسم' کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مؤلف کے سوا کسی کے یہاں ہے بھی نہیں (جبکہ ابوداود نے اسی کا لحاظ رکھ کر ’’من نذرنذراً لم یسم‘‘ کا باب باندھاہے) یہ مؤلف کے راوی ’’محمد مولیٰ المغیرہ‘‘ کا اضافہ ہے جو خود مجہول راوی ہیں، یہ دیگرکی سندوں میں نہیں ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1528 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3863 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نذر کے کفارہ کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3863]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3863]
اردو حاشہ: قسم کا کفارہ قرآن مجید میں صراحتاً مذکور ہے اور وہ ہے: دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑے پہنانا یا غلام کی آزادی۔ اگر ان تینوں میں سے کسی کی طاقت نہ ہو تو پھر تین روزے رکھنا ہوں گے۔ اور یہی نذر کا کفارہ ہے۔ کفارے میں ترتیب ضروری نہیں بلکہ جو نسا عمل آسانی کا باعث ہو کیا جا سکتا ہے۔ اگر نیک کام کی نذر ہو اور اسے پورا کرنے کی استطاعت ہو تو نذر ہی پوری کرنی ہوگی۔ کفارہ اس صورت میں ہے جب نذر پوری کرنا ممکن نہ ہو یا نذر معصیت کی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3863 سے ماخوذ ہے۔