صحيح مسلم
كتاب الوصية— وصیت کے احکام و مسائل
باب وَصيَّةُ الرَّجُلِ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ باب: وصیت کے لکھے ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، واللفظ لابن المثنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ ، إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " ،یحییٰ بن سعید قطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کو، جس کے پاس کچھ ہو اور وہ اس میں وصیت کرنا چاہتا ہو، اس بات کا حق نہیں کہ وہ دو راتیں (بھی) گزارے مگر اس طرح کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي كِلَاهُمَا ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُمَا ، قَالَا : وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ ، وَلَمْ يَقُولَا يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ ،عبدہ بن سلیمان اور عبداللہ بن نمیر دونوں نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، البتہ ان دونوں نے کہا: ”اس کے پاس (مال) ہو جس میں وصیت کرے (قابل وصیت مال ہو۔)“ اور اس طرح نہیں کہا: ”جس میں وصیت کرنا چاہتا ہو۔“ (مفہوم وہی ہے، الفاظ کا فرق ہے۔)
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَقَالُوا جَمِيعًا : لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ ، فَإِنَّهُ قَالَ : يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ كَرِوَايَةِ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ .ایوب، یونس، اسامہ بن زید لیثی اور ہشام بن سعد سب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عبیداللہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور ان سب نے کہا: ”اس کے پاس کوئی (ایسی) چیز ہے جس میں وہ وصیت کرے۔“ البتہ ایوب کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: ”وہ اس میں وصیت کرنا چاہتا ہو“ عبیداللہ سے یحییٰ کی روایت کی طرح۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ ثَلَاثَ لَيَالٍ ، إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : مَا مَرَّتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ذَلِكَ إِلَّا وَعِنْدِي وَصِيَّتِي ،عمرو بن حارث نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”کسی مسلمان آدمی کے لیے، جس کے پاس کوئی (ایسی) چیز ہو جس میں وہ وصیت کرے، یہ جائز نہیں کہ وہ تین راتیں (بھی) گزارے مگر اس طرح کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے مجھ پر ایک رات بھی نہیں گزری مگر میری وصیت میرے پاس موجود تھی۔
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ .یونس، عقیل اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ عمرو بن حارث کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
ما حق امري، يعني لا يحق له، اس کے لیے درست اور صحیح رویہ نہیں ہے کہ وہ اپنے پاس وصیت لکھ کر نہ رکھے۔
فوائد ومسائل: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر کسی کے پاس وصیت کے قابل چیز موجود ہو، اس پر قرضہ ہو، کسی کی امانت ہو، یا کوئی اور لازم چیز ہو، جس کو اب وہ خود ادا نہیں کر سکتا، تو اس پر اس صورت میں وصیت کرنا لازم ہے، مثلا اس کے ذمہ روزے رہتے ہیں، حج کرنا لازم ہے، لیکن کر نہیں سکتا ہے، کسی غیر وارث کے حق میں وصیت کرنے کی ضرورت ہے، مثلا اس کے پوتے، پوتیاں ہیں، جو اپنے چچاؤں کی موجودگی میں وارث نہیں بن سکتے، ان ضروری صورتوں کے بغیر جمہور کے نزدیک جس میں ائمہ اربعہ داخل ہیں، وصیت ضروری نہیں ہے، لیکن امام داؤد اور بعض تابعین کے نزدیک، غیر وارث، رشتہ داروں کے حق میں ہر صورت میں وصیت کرنا فرض ہے۔
(1)
امام مسلم ؓ نے یہ روایت ذکر کرنے کے بعد ابن عمر ؓ کا یہ فرمان بھی نقل کیا ہے: جب سے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے میں نے ایک رات بھی ایسی نہیں گزاری کہ میری وصیت میرے پاس نہ ہو۔
(صحیح مسلم، الوصیة، حدیث: 4207 (1627)
اس حدیث میں تحریری وصیت کا ذکر مبالغے کے طور پر ہے کہ اس کا اہتمام کرنا چاہیے ورنہ کتابت کے بغیر بھی وصیت کو گواہی کے ساتھ قبول کیا جاتا ہے۔
(2)
اس حدیث کے مطابق وصیت کا لکھا ہوا ہونا ہر وقت ضروری ہے کیونکہ موت کا علم نہیں کب اللہ کی طرف سے پیغام آ جائے اور انسان کا اخروی سفر شروع ہو جائے۔
اس بنا پر سفر کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے اور دنیوی طور پر جو لین دین ہے وہ لکھا ہوا اپنے پاس تیار رکھے جیسا کہ حضرت ابن عمر ؓ کے عمل سے پتہ چلتا ہے۔
(3)
حدیث کے آخر میں ذکر کردہ متابعت کو امام دارقطنی ؒ نے متصل سند سے بیان کیا ہے جس کے الفاظ مذکورہ حدیث سے کچھ مختلف ہیں۔
(سنن الدارقطني: 90/4، وفتح الباري: 439/5)
بہرحال انسان جن فرائض و واجبات میں کوتاہی کا مرتکب ہوا ہے، ان کے لیے وصیت ضروری ہے اور جن میں کوتاہی نہیں کی ان کے لیے مستحب ہے۔
واللہ أعلم
(فتح الباري، ج 5، ص 441، مکتبة دارالسلام)
دو یا تین راتوں کی گنجائش پیدا کرنے سے اصل مقصود یہ ہے کہ وصیت کی ضرورت ہو تو اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ موت کا تو کوئی پتہ نہیں ہے، اس لیے اس معاملہ میں سستی اور تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کسی مسلمان کو یہ اس بات کا حق نہیں کہ وہ دو راتیں ایسی حالت میں گزارے کہ وہ کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو اور اس کے پاس وصیت تحریری شکل میں موجود نہ ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الوصايا/حدیث: 2118]
وضاحت:
1؎:
آیت میراث کے نزول سے پہلے وصیت کرنا لازمی اور ضروری تھا، لیکن اس آیت کے نزول کے بعد ورثاء کے حصے متعین ہوگئے اس لیے ورثاء سے متعلق وصیت کا سلسلہ بند ہوگیا، البتہ ان کے علاوہ کے لیے تہائی مال میں وصیت کی جا سکتی ہے، اور یہ وصیت اس حدیث کی روشنی میں تحریری شکل میں موجود رہنی چاہیے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ہو مناسب نہیں ہے کہ اس کی دو راتیں بھی ایسی گزریں کہ اس کی لکھی ہوئی وصیت اس کے پاس موجود نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2862]
حدیث میں (يبيت ليلتين)سے مراد یہ ہے کہ اسے وصیت لکھنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
تحدید مراد نہیں ہے۔
کیوکہ مسند ابی عوانۃ اور السنن کبریٰ للبیقی میں (ليلة او ليلتين)ایک ر ات یا دو راتوں کا زکر ہے۔
صحیح مسلم اور سنن نسائی میں (ثلاث لیال) تین راتوں کازکر بھی ملتاہے۔
بہرحال انسان کو اپنی موت سے کبھی غافل نہیں ہوناچاہیے۔
نہ معلوم کس وقت بلاوا آجائے۔
لہذا اگر کوئی قرض ہو یا امانت یا کوئی اور اہم معاملہ تو چاہیے کہ اسے اپنے ہاں لکھ رکھے۔
تاکہ وارثوں کو اس کی تنفیذ میں آسانی رہے۔
اورحقوق کے معاملے میں مرنے والے پر کوئی بوجھ باقی نہ رہ جائے۔
اس صورت میں یہ امرواجب ہے۔
لیکن اگرکوئی حق واجب نہ ہو تو وصیت کرنا مستحب ہے واجب نہیں۔
جیسے کہ درج ذیل حدیث میں آرہاہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس مسلمان کے پاس وصیت کرنے کے قابل کوئی چیز ہو، اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2699]
فوائد و مسائل:
(1)
وصیت ایسی چیز ہے کہ ا س کا فائدہ اور ثواب مرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے، جب وصیت پر عمل کیا جاتا ہے۔
(2)
انسان کو اپنی موت کے وقت کا علم نہیں، ممکن ہے بندے کو اس حال میں موت آئے کہ اسے وصیت کرنے کا موقع نہ ملے، اس لیے بہتر ہے کہ وصیت ہر وقت تیار رکھی جائے۔
(3)
پہلے سے وصیت لکھ رکھنے کا یہ بھی فائدہ ہے کہ انسان اس میں حسب خواہش تبدیلی کرسکتا ہے۔
(4)
قرض اور امانت وغیرہ کی تفصیل ہمیشہ لکھ کر رکھنی چاہیے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ضروری ہو مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں ایسی گزارے جس میں اس کے پاس اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3645]
(2) علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وصیت واجب نہیں ہے‘ صرف اس شخص کے لیے واجب ہے جس کے ذمے حقوق ہوں‘ مثلاً: فرض‘ امانت وغیرہ‘ تاہم مستحب ضرور ہے
«. . . 249- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”ما حق امرئ مسلم له شيء يوصي فيه يبيت ليلتين إلا ووصيته عنده مكتوبة.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی مسلمان کے پاس وصیت والی کوئی چیز ہے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے پاس لکھنے (یا لکھوانے) کے بغیر دو راتیں بھی گزارے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 388]
تفقه: ➊ اس حدیث سے وصیت کا وجوب ثابت ہوتا ہے لیکن دوسری صحیح حدیث نے اس حکم کو منسوخ کردیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فلا وصیة لوارث» پس وارث کے لئے کوئی وصیت نہیں ہے۔ [سنن الترمذي: 2120 وسنده حسن وقال الترمذي: ”هذا حديث حسن“ ورواه ابوداود: 2870 وابن ماجه: 2713]
➋ جو شخص وارثوں کے علاوہ کسی دوسرے کے بارے میں ثلث (ایک تہائی) میں سے وصیت کرنا چاہتا ہے تو اس کے لکھنے میں جلدی کرے۔ اس جلدی کے مستحب ہونے پر اجماع ہے۔ دیکھئے: [التمهيد 14/292]
➌ قرآن مجید میں والدین اور رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کا حکم ہے جسے «لا وصية لوارث» والی حدیث نے منسوخ کردیا ہے لہٰذا معلوم ہوا کہ حدیث کے ساتھ نسخِ قرآن جائز ہے۔
➍ اگر کسی شخص کا بیٹا فوت ہو جائے تو بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے پوتوں پوتیوں کے بارے میں وصیت لکھ دے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کسی مسلمان کو یہ لائق نہیں ہے کہ وہ اپنی کسی چیز کو وصیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو مگر دو راتیں بھی اسی حالت میں گزار دے کہ اس کے پاس وصیت تحریری شکل میں موجود نہ ہو۔ “ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 818»
«أخرجه البخاري، الوصايا، باب الوصايا....، حديث:2738، ومسلم، الوصية، حديث:1627.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وصیت ہر وقت تحریری شکل میں موجود رہنی چاہیے۔
2.آیت میراث کے نزول سے پہلے وصیت کرنا ہر ایک کے لیے ضروری اور لازمی تھا لیکن جب میراث کی آیت نازل ہوئی تو یہ وصیت ختم ہوگئی‘ یعنی جن کے حصے قرآن میں متعین و مقرر کر دیے گئے ہیں ان کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں‘ البتہ میراث کے علاوہ اگر کوئی وصیت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے‘ مثلاً: بیٹے کی موجودگی میں پوتے کی میراث ختم ہے مگر اس کی تعلیم و تربیت‘ نگہداشت اور دیکھ بھال کے لیے تہائی مال کی وصیت کی جا سکتی ہے۔