صحيح مسلم
كتاب الهبات— عطیہ کی گئی چیزوں کا بیان
باب كَرَاهَةِ شِرَاءِ الإِنْسَانِ مَا تَصَدَّقَ بِهِ مِمَّنْ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ: باب: جس کو جو چیز صدقہ دے پھر اس سے وہی چیز خریدنا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَوَجَدَهُ يُبَاعُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ " ،حضرت ابن عمر رضی الله تعالی عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله تعالی عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، بعد میں اسے بکتے ہوئے پایا، تو اسے خریدنے کا ارادہ کر لیا، تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مت خریدو، اور اپنے صدقہ میں رجوع نہ کرو۔‘‘
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ كِلَاهُمَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ .لیث بن سعد اور عبیداللہ دونوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ عُمَرَ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ رَآهَا تُبَاعُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ يَا عُمَرُ " .سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں سواری کے لیے ایک گھوڑا دیا، پھر انہوں نے اسے دیکھا کہ فروخت کیا جا رہا ہے۔ تو انہوں نے اس کو خریدنے کا ارادہ کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! اپنا صدقہ واپس مت لو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اب یہ کہنا کہ حضرت عمر ؓ نے یہ گھوڑا وقف کیا تھا‘اس لئے صحیح نہیں ہوسکتا کہ اگر وقف کیا ہوتا تو وہ شخص جس کو گھوڑا ملا تھا‘ اس کو بیچنے کے لئے بازار میں کیونکر کھڑا کر سکتا۔
(1)
غیر منقولہ اشیاء کا وقف تو عام ہے، مثلاً: مسجد بنانا، مدرسہ تعمیر کرانا، کنواں جاری کرنا، زمین وقف کرنا، سرائے بنوانا وغیرہ۔
امام بخاری ؒ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ منقولہ اشیاء کا وقف بھی جائز ہے جس کی صورتیں حسب ذیل ہو سکتی ہیں: ٭ موبائل ہسپتال بنا کر وقف کرنا۔
٭ ایمبولینس خرید کر وقف کرنا۔
٭ برتن وغیرہ خرید کر رکھنا تاکہ رفاہ عام میں ان کو استعمال کیا جا سکے۔
٭ مسافروں کے لیے بستر تیار کر کے وقف کرنا۔
٭ مساجد میں مصاحف رکھنا۔
٭ کتب احادیث خرید کر طلبہ اور مدرسین کو وقف کرنا۔
٭ مجاہدین کے لیے اسلحہ اور سواری کا بندوبست کرنا۔
یہ سب منقولہ اشیاء کا وقف ہے۔
ایسا کرنا جائز ہے۔
(2)
امام زہری ؒ کے اثر کے متعلق ہمارا رجحان یہ ہے کہ اگر خود اس کا محتاج ہو جائے تو نفع حاصل کرنا جائز ہے کیونکہ ایسے حالات میں وہ بھی ایک مسکین ہی شمار ہو گا۔
اسی سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔
بعد میں وہ شخص اس کو بازار میں بیچنے لگا جس کا ذکر روایت میں ہے۔
حضرت عمرفاروق ؓنے جو گھوڑا اللہ کی راہ میں دیاتھا وہ وقف نہیں تھا بلکہ غازی کی ملکیت تھا۔
اگر وقف ہوتا تو اسے فروخت کرناجائز نہیں تھا۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان: ’’اپنا صدقہ واپس نہ لو۔
‘‘ اس بات کی تائید کرتا ہے کہ وہ گھوڑا وقف نہیں تھا بلکہ غازی کی ملکیت تھا۔
اس طرح وہ اسے آگے فروخت کرنے کا حق دار ہوا کیونکہ آپ نے وہ گھوڑا کسی کو جہاد کے خیال سے بطورتعاون دیا تھا، اب وہ مجاہد اس میں تصرف کا حقدار ٹھہرا حتی کہ وہ اس کی خریدوفروخت کا بھی مستحق ہوا۔
(1)
فی سبیل اللہ دینے کے دو مفہوم ہیں: ٭ اس گھوڑے کو آپ نے وقف کر دیا تھا، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ وقف کردہ چیز کو خریدنا منع ہے۔
٭ آپ نے اس گھوڑے کو غازی کی ملک کر دیا تھا، اس نے اسے فروخت کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت عمر ؓ نے اسے خریدنا چاہا لیکن رسول اللہ ﷺ نے آپ کو منع کر دیا۔
اسے خریدنے سے منع کرنے کی دو وجہیں ممکن ہیں: ٭ صدقہ کرنے والے کی غرض آخرت میں ثواب لینا تھا، جب اسے سستے داموں خریدے گا تو گویا اس نے آخرت سے روگردانی کر کے دنیا کو اختیار کیا۔
اور ایسا کرنا نیک لوگوں کے شایان شان نہیں۔
٭ مفت میں حاصل کرنے والا شخص جب اسے فروخت کرتا ہے تو سستے داموں بیچتا ہے، صدقہ کرنے والے کو تو مزید سستا دے گا، تو جتنی مقدار کم ہو گی گویا صدقے کی اتنی مقدار اس سے واپس لے رہا ہے اور ایسا کرنا سخت منع ہے۔
شرعا اس کی اجازت نہیں۔
ہاں اگر کوئی شخص صدقہ شدہ چیز کا وارث بن جائے یا کسی تیسرے آدمی کی طرف منتقل ہونے کے بعد صدقہ کرنے والا خرید لے تو اس صورت میں کوئی کراہت نہیں۔
(2)
حضرت ابن عمر ؓ کا موقف تھا کہ اسے خرید کر اپنی ملکیت بنانا منع ہے، اگر خرید کر آگے صدقہ کر دیا جائے تو ایسا کرنا جائز ہے اور یہ ممنوعہ صورت نہیں۔
واللہ أعلم
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنا چاہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنا صدقہ واپس نہ لو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 668]
1؎:
کیونکہ صدقہ دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے، ظاہر حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء نے اپنے دیئے ہوئے صدقے کے خریدنے کو حرام کہا ہے، لیکن جمہور نے اسے کراہت تنزیہی پر محمول کیا ہے کیونکہ فی نفسہ اس میں کوئی قباحت نہیں، قباحت دوسرے کی وجہ سے ہے کیونکہ بسا اوقات صدقہ دینے والا لینے والے سے جب اپنا صدقہ خریدتا ہے تو اس کے اس احسان کی وجہ سے جو صدقہ دے کر اس نے اس پر کیا تھا وہ قیمت میں رعایت سے کام لیتا ہے، نیز بظاہر یہ حدیث ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث ((لَا تَحِلُّ الصَّدقَةُ إلَّا لِخَمْسَةٍ: لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ رَجُلِِ اِشْتَرَاهَا بِمَالِهِ...الحديث)) کے معارض ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ والی حدیث کراہت تنزیہی پر محمول کی جائیگی اور ابو سعید رضی اللہ عنہ والی روایت بیان جواز پر، یا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت نفل صدقے کے سلسلہ میں ہے اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت فرض صدقے کے بارے میں ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا، پھر اسے بکتا ہوا پایا تو خریدنا چاہا تو اور اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے مت خریدو، اپنے صدقے کو مت لوٹاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1593]
➋ صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین کسی بھی نئے اقدام سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے سوال کرلیا کرتے تھے۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ زندگی کے تمام امور ضابطہ اسلام سے مربوط ہیں۔ چنانچہ ہر مسلمان کو ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اور قرآن وسنت سے رہنمائی لینی چاہیے۔
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے، تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” تم اپنے صدقے میں آڑے نہ آؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2617]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، اس کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ بیچا جا رہا ہے۔ تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس بارے میں اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: ” اپنا صدقہ واپس نہ لو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2618]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک گھوڑا صدقہ کیا، پھر دیکھا کہ اس کا مالک اس کو کم دام میں بیچ رہا ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنا صدقہ مت خریدو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2392]
فوائد و مسائل:
(1)
خریدنا اگرچہ واپس لینا نہیں ہے لیکن اس سے ظاہری طور پرمشابہت رکھتا ہے اس لیے اس بھی منع کردیا گیا تاکہ یہ صدقہ واپس لینےکا ایک حیلہ نہ بن جائے۔
(2)
صدقہ کی ہوئی چیز واپس خریدنے کی خواہش سےمعلوم ہوتا ہے کہ ابھی دل اس میں اٹکا ہوا ہے۔
یہ مناسب نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں جو کچھ دے دیا، دےدیا، اب دوبارہ حصول کی خواہش کیوں کی جائے۔
(3)
صدقہ کی ہوئی چیز جب سستی مل رہی ہوتو جتنی رقم کم خرچ کی گویا اتنی رقم صدقہ دے کر اپنی چیز واپس لےلی اس لیے یہ جائز نہیں۔
«. . . وبه: أن عمر بن الخطاب حمل على فرس عتيق فى سبيل الله، فوجده يباع، فأراد أن يبتاعه فسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فقال: ”لا تبتعه ولا تعد فى صدقتك . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں ایک بہترین گھوڑا صدقہ کیا تھا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنے کا ارادہ کیا، پھر انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 286]
تفقه:
➊ نیز دیکھئے: [حديث: 214]
② جو شخص کسی کو صدقہ دے تو اسے واپس (یعنی دوبارہ) خرید نہیں سکتا۔
③ جسے صدقہ دیا جائے وہ ضرورت کے وقت اسے بیچ سکتا ہے۔
④ صدقہ واپس لینا جائز نہیں ہے۔
⑤ شریعت نے حیل (حیلہ بازی) کا سدباب کیا ہے۔