صحيح مسلم
كتاب الفرائض— وراث کے مقررہ حصوں کا بیان
باب مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ: باب: متروکہ مال ورثاء کے لیے ہے۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ ، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمَيِّتِ عَلَيْهِ الدَّيْنُ ، فَيَسْأَلُ : هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ ؟ فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ وَإِلَّا ، قَالَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ ، قَالَ : أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا ، فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " ،یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی (ایسے) شخص کی میت لائی جاتی جس پر قرض ہوتا تو آپ پوچھتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ .عقیل، ابن شہاب (زہری) کے بھتیجے اور ابن ابی ذئب سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنْ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِهِ ، فَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا ، فَأَنَا مَوْلَاهُ وَأَيُّكُمْ تَرَكَ مَالًا ، فَإِلَى الْعَصَبَةِ مَنْ كَانَ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، زمین پر جو بھی مؤمن ہے، میں سب لوگوں سے، اس کا زیادہ قریبی ہوں، (حقدار ہوں) تو تم میں جس نے بھی کوئی قرض چھوڑا یا بال بچے چھوڑے، تو میں اس کا کارساز یا مددگار ہوں، اور تم میں سے جس نے مال چھوڑا، تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، جو بھی ہوں۔‘‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً ، فَادْعُونِي فَأَنَا وَلِيُّهُ وَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ مَالًا ، فَلْيُؤْثَرْ بِمَالِهِ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانَ " .ہمام بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ وہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ بھی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کی کتاب کی رو سے میں مومنوں کے، (ان کی اپنی ذات سمیت) سب لوگوں کی نسبت زیادہ قریب ہوں، تم میں سے جو قرض یا اولاد چھوڑ جائے تو مجھے بلانا میں اس کا ولی ہوں اور جو مال چھوڑ جائے تو اس کے مال کے معاملے میں (ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد) اس کے عصبہ (قریب ترین مرد رشتہ دار) کو ترجیح دی جائے، وہ جو بھی ہو۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ مَالًا ، فَلِلْوَرَثَةِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا ، فَإِلَيْنَا " ،معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی: ہمیں شعبہ نے عدی سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوحازم سے سنا، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے مال چھوڑا وہ اس کے ورثاء کا ہے اور جس نے بوجھ (بے سہارا اولاد ہو یا قرض) چھوڑا وہ ہمارے ذمہ ہے۔“
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا وَلِيتُهُ .محمد بن جعفر (غندر) اور عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر غندر کی حدیث میں ہے: ”جس نے بوجھ چھوڑا اس کی ذمہ داری میں نے لے لی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس لیے نماز میں (مقروض)
کے لیے زکاۃ کا مال خرچ کے لیے تملیک کی شرط نہیں ہے۔
اس کا مطلب تو یہ ہے کہ گردنوں کی آزادی اور تاوان میں آئے ہوؤں کو نکالنے میں خرچ کیا جائے، اس لیے یہاں تملیک کا سوال نہیں ہے، یہ کہا جائے، مردہ کی مال تملیک نہیں ہو سکتا، اس لیے اس کی طرف سے قرضہ زکوٰۃ کی مد سے ادا نہیں کیا جا سکتا۔
نیز جب امام (حکومت)
نے زکاۃ وصول کر لی تو اس کی ملکیت میں آ چکی اب نئی ملکیت کی ضرورت نہیں۔
(تکملہ ج 2، ص 45)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وفات پا جاتا، اور اس کے ذمہ قرض ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ” کیا اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے اس نے کچھ چھوڑا ہے “؟ تو اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ” تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو “، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتوحات عطا کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں مومنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2415]
فوائد و مسائل:
(1)
نبئ اکرم ﷺ کا مقروض شخص کا جنازہ نہ پڑھنا تنبیہ کےلیے تھا۔
(2)
اسلامی حکومت کوایسے مقروض افراد کی مالی امداد کرنی چاہیے جو قرض ادا کرنے کےقابل نہیں۔
(3)
اگر کوئی شخص مقروض فوت ہوجائے، جب کہ اس کے وارث نادار ہوں اورادائیگی کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اسلامی حکومت کا فرض ہےکہ قرض خواہوں کی بیت المال سےادائیگی کرے۔
(4)
ناداروں یتیموں اورکام نہ کرسکنے والے افراد کی کفالت اسلامی حکومت کی ذمے داری ہے۔
(5)
مزید فوائد کےلیے دیکھیے حدیث: 2407۔