حدیث نمبر: 1612
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ : أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ " وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ ، وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبْ الْأَرْضَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " ،

حضرت ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان زمین کے بارے میں جھگڑا تھا۔ تو وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کا تذکرہ ان سے کیا، تو انہوں نے فرمایا: اے ابو سلمہ، اس زمین سے کنارہ کش ہو جا کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایک بالشت برابر زمین دبا لی، اسے ساتوں زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔‘‘

وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، أَخْبَرَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى : أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ : أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ : أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ .

امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساقاة / حدیث: 1612
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2453 | صحيح البخاري: 3195 | معجم صغير للطبراني: 932

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2453 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2453. حضرت ابو سلمہ سے روایت ہے کہ ان کے اور کچھ لوگوں کے درمیان ایک جھگڑا تھا۔ حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے اس کا ذکر کیا گیاتو انھوں نے فرمایا: ابو سلمہ!زمین کے معاملے میں اجتناب کرو کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اگر کسی نے ایک بالشت کے برابر بھی کسی کی زمین ہڑپ کی تو اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائےگا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2453]
حدیث حاشیہ: چوں کہ زمینوں کے سات طبق ہیں۔
اس لیے ظلم سے حاصل کی ہوئی زمین سات طبقوں تک طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالی جائے گی۔
زمین کے سات طبق کتاب و سنت سے ثابت ہیں۔
ان کا انکار کرنے والا قرآن و حدیث کا منکر ہے۔
تفصیلات کا علم اللہ کوہے۔
﴿وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ﴾ (المدثر: 31)
امام شوکانی ؒفرماتے ہیں: و فیه أن الأرضین السبع أطباق کالسموات و هو ظاهر قوله تعالیٰ و من الأرض مثلهن خلافا لمن قال إن المراد بقوله سبع أرضین سبعة أقالیم۔
(نیل)
یعنی اس سے ثابت ہوا کہ آسمانوں کی طرح زمینوں کے بھی سات طبق ہیں جیسا کہ آیت قرآنی و منَ الأَرضِ مثلهُن میں مذکور ہے یعنی زمینیں بھی ان آسمانوں ہی کے مانند ہیں۔
اس میں ان کی بھی تردید ہے جو سات زمینوں سے ہفت اقلیم مراد لیتے ہیں جو صحیح نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2453 سے ماخوذ ہے۔