صحيح مسلم
كتاب المساقاة— سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
باب تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الأَرْضِ وَغَيْرِهَا: باب: ظلم کرنا اور دوسرے کی زمین چھیننا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا ، طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .عباس بن سہل بن سعد ساعدی نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی نے زمین کی ایک بالشت (بھی) ظلم کرتے ہوئے کاٹ لی، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سات زمینوں سے اس کا طوق (بنا کر) پہنائے گا۔“
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ : أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، أَنَّ أَرْوَى خَاصَمَتْهُ فِي بَعْضِ دَارِهِ فَقَالَ : دَعُوهَا وَإِيَّاهَا فَإِنِّي ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ ، طُوِّقَهُ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا وَاجْعَلْ قَبْرَهَا فِي دَارِهَا ، قَالَ : فَرَأَيْتُهَا عَمْيَاءَ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ ، تَقُولُ : أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشِي فِي الدَّارِ مَرَّتْ عَلَى بِئْرٍ فِي الدَّارِ ، فَوَقَعَتْ فِيهَا فَكَانَتْ قَبْرَهَا .عمر بن محمد کے والد (محمد بن زید) نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ارویٰ نے ان کے ساتھ گھر کے کسی حصے کے بارے میں جھگڑا کیا تو انہوں نے کہا: اسے اور گھر کو چھوڑ دو، (جو چاہے کرتی رہے) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ فرما رہے تھے: ”جس نے حق کے بغیر ایک بالشت زمین بھی حاصل کی، قیامت کے دن وہ سات زمینوں (تک) اس کی گردن کا طوق بنا دی جائے گی۔“ (پھر اس کی ایذا رسانی سے تنگ آ کر انہوں نے دعا کی:) اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اس کے گھر ہی میں اس کی قبر بنا دے۔ (محمد بن زید نے) کہا: میں نے اس عورت کو دیکھا وہ اندھی ہو گئی تھی، دیواریں ٹٹولتی پھرتی تھی اور کہتی تھی: مجھے سعید بن زید کی بددعا لگ گئی ہے۔ ایک مرتبہ وہ گھر میں چل رہی تھی، گھر میں کنویں کے پاس سے گزری تو اس میں گر گئی اور وہی کنواں اس کی قبر بن گیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّ أَرْوَى بِنْتَ أُوَيْسٍ ادَّعَتْ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا ، فَخَاصَمَتْهُ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَقَالَ سَعِيدٌ : أَنَا كُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا ، طُوِّقَهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ : لَا أَسْأَلُكَ بَيِّنَةً بَعْدَ هَذَا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَعَمِّ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا ، قَالَ : فَمَا مَاتَتْ حَتَّى ذَهَبَ بَصَرُهَا ، ثُمَّ بَيْنَا هِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ " .حماد بن زید نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ارویٰ بنت اویس نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے خلاف دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کی کچھ زمین پر قبضہ کر لیا ہے اور مروان بن حکم کے پاس مقدمہ لے کر گئی تو حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں اس بات کے بعد بھی اس کی زمین کے کسی حصے پر قبضہ کر سکتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ اس (مروان) نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جس نے (عام یا کسی کی) زمین میں سے ایک بالشت بھی ظلم سے حاصل کی اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنایا جائے گا۔“ تو مروان نے ان سے کہا: اس کے بعد میں آپ سے کسی شہادت کا مطالبہ نہیں کروں گا۔ اس کے بعد انہوں (سعید) نے کہا: اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اسے اس کی زمین ہی میں ہلاک کر دے۔ (عروہ نے) کہا: وہ (اس وقت تک) نہ مری یہاں تک کہ اس کی بینائی ختم ہو گئی، پھر ایک مرتبہ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے میں جا گری اور مر گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا ، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جس نے زمین میں سے ایک بالشت بھی ظلم کرتے ہوئے حاصل کی قیامت کے دن اسے سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اقتطع: غصب کر لیا، ناجائز طور پر قبضہ کر لیا۔
فوائد ومسائل: (1)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ زمینیں سات ہیں، اور ان کا طوق بنانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اوپر نیچے ہیں، اور قرآن مجید کی آیت ﴿وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ﴾ زمینیں بھی (آسمانوں)
جتنی ہیں، اس کا مؤید ہے، لیکن اس کی ہئیت و کیفیت کو پوری طرح قرآن و حدیث میں بیان نہیں کیا گیا، اصل مقصد یہاں ظلم و زیادتی سے ڈرانا اور باز رکھنا ہے کہ معمولی ظلم کے نتائج بھی انتہائی سنگین نکلیں گے۔
(2)
اس حدیث کی تشریح اور توجیہ میں علماء کے مندرجہ ذیل اقوال ہیں۔
(ا)
زمین غصب کرنے والے کو اس چیز کا مکلف ٹھہرا دیا جائے گا کہ اس نے جتنی زمین غصب کی تھی، اتنی زمین، ساتوں زمینوں تک اٹھا کر میدان محشر میں لائے گا، لیکن وہ یہ کام نہیں کر سکے گا، اور یہ ذمہ داری اس کے گلے کا ہار بن جائے گی۔
(ب)
اس شخص کو اتنی زمین، میدان محشر تک لانے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، اور اس کے لیے اس کی گردن کو وسیع کر کے، اتنی مٹی کو اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔
(ج)
اس شخص کو سات زمینوں تک زمین میں دھنسا دیا جائے گا، اور اس طرح ساری زمین اس کے گلے کا طوق ہو گی، (اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہو گا کہ اتنی زمین گلے کا طوق بنا، لیکن یہ کام کر نہیں سکے گا، اس طرح وہ مسلسل عذاب میں مبتلا رہے گا۔
) (ط)
اس ظلم کا گناہ، اس کے گلے کا ہار ہو گا، وہ اس سے چھٹکارا نہیں حاصل کر سکے گا۔
(فتح الباری، ج 5، ص 130۔
دارالسلام)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، زمین پر ملکیت ہو سکتی ہے، اور دوسرا اس پر غاصبانہ قبضہ کر سکتا ہے، جس کی سزا انتہائی سنگین ہے۔
جس نے بالشت بھر زمین بھی چھینی تو ساتوں طبقوں تک گویا اس کو چھینا۔
اس لیے قیامت کے دن ان سب کا طوق اس کے گلے میں ہوگا۔
دوسری روایت میں ہے کہ وہ سب مٹی اٹھا کر لانے کا اس کو حکم دیا جائے گا۔
بعض نے کہا طوق پہنانے کا مطلب یہ ہے کہ ساتوں طبقوں تک اس میں دھنسا دیا جائے گا۔
حدیث سے بعض نے یہ نکالا کہ زمینیں سات ہیں جیسے آسمان سات ہیں۔
(وحیدی)
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان احادیث سے ﴿وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ﴾ کی تفسیر کی ہے کہ آسمانوں کی طرح زمین کے بھی سات طبقات ہیں اور وہ آسمانوں کی طرح ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔
2۔
تیسری حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ جاہلیت میں محرم کو صفر تک مؤخر کر دیتے تھے۔
قرآن کریم نے ان کے اس عمل کو نسیئی سے تعبیر کیا ہے وہ تقدیم و تاخیر اس لیے کرتے تھے کہ اس مہینے میں جنگ اور لوٹ مار کر سکیں اس لیے وہ محرم کو صفر بنا لیتے۔
وہ ہر سال اسی طرح کرتے اور محرم کو دوسرے مہینے کی طرف منتقل کرتے رہتے حتی کہ وہ اپنے مخصوص وقت میں گھوم آتا جس سے وہ اسے آگے لے گئے تھے۔
الغرض رسول اللہ ﷺ کے حج کے موقع پر مہینے اسی حالت کی طرف لوٹ آئے تھے جس حالت میں اللہ تعالیٰ نے انھیں ترتیب دیا تھا۔
اور حج ذوالحجہ میں ہوا جو اس کا وقت ہے جبکہ حضرت ابو بکر ؓ کا اس سے پہلے حج ذوالقعدہ میں ہوا تھا۔
واللہ أعلم الغرض نص قرآنی سے سات آسمانوں اور انھی کی طرح سات زمینوں کا وجود ثابت ہوا۔
جو ان کا انکار کرتا ہے وہ گویا قرآن کا انکار کرتا ہے۔
اب سات آسمانوں اور سات زمینوں کی کھوج لگانا انسانی اختیارات سے تجاوز کرنا ہے۔
اس حدیث سے علماء نے یہ بھی استنباط کیا ہے کہ زمین کا مالک، اس کے انتہائی نچلے حصہ کا بھی مالک ہے اور اس کی اجازت کے بغیر، اس کے نچلے حصہ سے دوسرا فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اور اگر اس کی زمین سے کوئی گیس، تیل یا کان نکالتی ہے، تو وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
(2)
حضرت سعید نے بددعا کی تھی کہ وہ اندھی ہو کر، گھر کے کنویں میں گرے اور وہی اس کی قبر بنے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور وہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔
اس حدیث سے علماء نے یہ بھی استنباط کیا ہے کہ زمین کا مالک، اس کے انتہائی نچلے حصہ کا بھی مالک ہے اور اس کی اجازت کے بغیر، اس کے نچلے حصہ سے دوسرا فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اور اگر اس کی زمین سے کوئی گیس، تیل یا کان نکالتی ہے، تو وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
(2)
حضرت سعید نے بددعا کی تھی کہ وہ اندھی ہو کر، گھر کے کنویں میں گرے اور وہی اس کی قبر بنے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور وہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔