حدیث نمبر: 1608
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ ، فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ ، فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ " .

ابوخثیمہ نے ہمیں ابوزبیر سے خبر دی، اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کا گھر میں یا باغ میں کوئی شریک ہو تو اسے حق نہیں کہ اسے بیچے، یہاں تک کہ اپنے شریک کو بتائے، پھر اگر وہ راضی ہو تو (اسے) لے لے اور اگر ناپسند کرے تو چھوڑ دے۔“ (اور وہ دوسرے کو بیچ دیا جائے۔)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شِرْكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ ، فَإِذَا بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .

عبداللہ بن ادریس نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن جریج نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مشترک جائیداد پر، جو تقسیم نہ ہوئی ہو شفعہ کا فیصلہ فرمایا، وہ گھر ہو یا باغ ہو اس کے لیے (جو اس کا شریک ملکیت ہے) اسے بیچنا جائز نہیں یہاں تک کہ وہ اپنے شریک کو بتائے اگر وہ (شریک) چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔ اگر اس نے (اسے) فروخت کر دیا اور اس (شریک) کو اطلاق نہ دی تو یہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا۔

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ : أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ فِي أَرْضٍ أَوْ رَبْعٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يَعْرِضَ عَلَى شَرِيكِهِ ، فَيَأْخُذَ أَوْ يَدَعَ ، فَإِنْ أَبَى فَشَرِيكُهُ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ " .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفعہ ہر مشترکہ چیز میں ہے، زمین ہو، یا مکان یا باغ (ایک شریک کے لیے) جائز نہیں ہے، کہ اپنے شریک پر پیش کیے بغیر فروخت کر دے، شریک لے لے، یا چھوڑ دے، اگر وہ شریک کو اطلاع دینے سے انکاری ہے، تو وہی حقدار ہے، جب تک اس کو اطلاع نہ دے۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساقاة / حدیث: 1608
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2492 | سنن نسائي: 4704

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
0 [صحيح مسلم، حديث نمبر:4127]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
ربعة يا ربع: گھر، مسکین یا زمین ہے، اصل میں اس گھر کو کہتے ہیں، جس میں انسان موسم بہار میں رہتا ہے، پھر ہر گھر پر اطلاق کرنے لگے، اور بعض دفعہ زمین کو بھی ربع کہہ دیتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4127 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4704 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کھجور کے درخت میں حصہ داری اور شرکت کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم میں اگر کسی کے پاس کوئی زمین یا کھجور کا درخت ہو تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اپنے حصہ دار و شریک سے نہ پوچھ لے " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4704]
اردو حاشہ: "’اپنے شریک پر" یہیں پر باب سے تعلق ہے کہ شریک تبھی بنے گا اگر دونوں اس کے مشترکہ مالک ہوں گے۔ اس مسئلے کی مزید تفصیل اور وضاحت جاننے کے لیے دیکھیے، حدیث: 4650 کے فوائد ومسائل۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4704 سے ماخوذ ہے۔