حدیث نمبر: 1598
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ : هُمْ سَوَاءٌ " .

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا: ”(گناہ میں) یہ سب برابر ہیں۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساقاة / حدیث: 1598
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے پر، سود دینے والے پر، یہ معاملہ لکھنے والے پر، اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت بھیجی ہے، اور فرمایا، یہ سب برابر ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4093]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جس طرح سود لینے والا مجرم اور گناہ گار ہے، اسی طرح سود دینے والا، اور اس میں تعاون کرنے والا بھی گناہ گار ہے، اس لیے بینک کی ملازمت ناجائز ہے، کیونکہ بینک کا ملازم اگر سودی لین دین میں تعاون کرتا ہے، مثلا یہ معاملہ تحریر کرتا ہے، یا اس کا حساب کتاب رکھتا ہے، تو یہ گناہ کے کام میں شرکت اور تعاون ہے، نیز اجرت میں، سودی مال لیتا ہے، جو حرام مال ہے، اگر محض چوکیدار ہے یا جاروب کش ہے، سودی معاملہ میں تعاون نہیں کرتا ہے، تو اجرت مال حرام ہی سے لے گا، اس لیے یہ صورت بھی پسندیدہ نہیں ہے، اس سے بچنا بہتر ہے، جیسا کہ اگلے باب میں آ رہا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1598 سے ماخوذ ہے۔