صحيح مسلم
كتاب المساقاة— سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
باب بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلاً بِمِثْلٍ: باب: برابر برابر اناج کی بیع۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ مِثْلًا بِمِثْلٍ مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ غَيْرَ هَذَا ، فَقَالَ : لَقَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ " .حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں، دینار، دینار کے عوض، درہم، درہم کے عوض، برابر، برابر ہوں گے، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو وہ سود ہو گا، ابو صالح کہتے ہیں، میں نے ان سے کہا ابن عباس ؓ اس کے خلاف بتاتے ہیں، تو ابو سعید ؓ نے کہا، میں ابن عباس ؓ کو مل چکا ہوں، میں نے ان سے پوچھا، بتائیے، یہ جو کچھ آپ بیان کرتے ہیں، کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا اسے اللہ عزوجل کی کتاب میں پایا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا، نہ میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور نہ ہی اسے اللہ کی کتاب میں پایا ہے، (یعنی نہ قرآن سے اخذ کیا ہے) لیکن مجھے تو حضرت اسامہ بن زید ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سود صرف ادھار میں ہے۔"
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ : أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ " .عبیداللہ بن ابی یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی، آپ نے فرمایا: ”(اگر جنسیں مختلف ہوں تو) سود ادھار میں ہی ہے۔“
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ح ، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " .طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(مختلف چیزوں کے تبادلے میں) جو دست بدست ہو اس میں سود نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ : أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ : أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ فِي الصَّرْفِ أَشَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ شَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كَلَّا لَا أَقُولُ أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ وَأَمَّا كِتَابُ اللَّهِ فَلَا أَعْلَمُهُ ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ " .عطاء بن ابی رباح نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی اور ان سے کہا: بیع صَرف (نقدی یا سونے چاندی کے تبادلے) کے حوالے سے آپ کے قول کے بارے میں کیا رائے ہے، کیا آپ نے یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اللہ کی کتاب میں پائی ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں ان میں سے کوئی بات نہیں کہتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم مجھ سے زیادہ جاننے والے ہو اور رہی اللہ کی کتاب تو میں (اس میں) اس بات کو نہیں جانتا، البتہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”متنبہ رہو! سود ادھار میں ہی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس لیے یہ معاملہ نقد بنقد کرنا ہو گا، لیکن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کو عام سمجھ لیا، کہ ادھار درست نہیں، کمی و بیشی ہر صورت میں درست ہے، جبکہ صورت حال یہ ہے کہ کمی و بیشی جنس کے بدلنے کی صورت میں جائز ہے، لیکن ادھار تبادلہ کی صورت میں بھی جائز نہیں ہے۔