صحيح مسلم
كتاب المساقاة— سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
باب بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلاً بِمِثْلٍ: باب: برابر برابر اناج کی بیع۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ ، فَقَالَ : بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا ، فَذَهَبَ الْغُلَامُ ، فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ ، فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ : لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، قَالَ : وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ ، قِيلَ لَهُ : فَإِنَّهُ لَيْسَ بِمِثْلِهِ ، قَالَ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ " .معمر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنے غلام کو گندم کا ایک صاع دے کر بھیجا اور اسے کہا، اسے بیچ کر اس کے عوض جو خرید لاؤ، تو غلام گیا اور اس کے عوض صاع سے کچھ زائد جو خرید لایا، اور جب معمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آیا، تو انہیں اس کی اطلاع دی، تو معمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے پوچھا، تو نے باہمی تبادلہ کیوں کیا؟ جاؤ، اس کو واپس کر دو، اور برابر، برابر کے سوا نہ لو، کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنتا رہا ہوں، ”طعام، طعام کے بدلے برابر، برابر ہو گا۔‘‘ اور ان دنوں ہمارا طعام، کھانا جو تھے، ان سے کہا گیا، ان دونوں کی جنس ایک نہیں ہے، انہوں نے جواب دیا، مجھے اندیشہ ہے کہ یہ اس کے مشابہ ہے۔