صحيح مسلم
كتاب المساقاة— سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
باب بَيْعِ الْقِلاَدَةِ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ: باب: سونے اور نگینوں والے ہار کی بیع۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ : أَنَّهُ سَمِعَ عُلَيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ وَهِيَ مِنَ الْمَغَانِمِ تُبَاعُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلَادَةِ ، فَنُزِعَ وَحْدَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ " .علی بن رباح لخمی نے کہا: میں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، جبکہ آپ خیبر میں تھے، ایک ہار لایا گیا، اس میں نگینے تھے اور سونا تھا اور وہ ان غنائم میں سے تھا جو فروخت کی جا رہی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سونے کے بارے میں حکم دیا جو ہار میں تھا، تو اکیلے اسی کو الگ کر دیا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے (جو لین دین کر رہے تھے) فرمایا: ”سونے کے عوض سونا برابر برابر وزن کا (خریدو اور بیچو۔)“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : " اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ ، فَفَصَّلْتُهَا ، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ " ،لیث نے ہمیں ابوشجاع سعید بن یزید سے حدیث بیان کی، انہوں نے خالد بن ابی عمران سے، انہوں نے حنش صنعانی سے اور انہوں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا، اس میں سونا اور نگینے تھے۔ میں نے انہیں الگ الگ کیا تو مجھے اس میں بارہ دینار سے زیادہ مل گئے، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے الگ الگ کرنے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .امام صاحب مذکورہ بالا روایت دو اور اساتذہ سے سعید بن یزید ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْوُقِيَّةَ الذَّهَبَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ " .حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہم خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اور سونے کا ایک اوقیہ، یہودیوں کو دو یا تین دینار کے عوض بیچ رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا، سونے کے عوض فروخت نہ کرو، الا یہ کہ دونوں ہم وزن ہوں۔‘‘
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَافِرِيِّ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَغَيْرِهِمَا ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ يَحْيَى الْمُعَافِرِيَّ ، أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ حَنَشٍ : أَنَّهُ قَالَ : " كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي غَزْوَةٍ فَطَارَتْ لِي وَلِأَصْحَابِي قِلَادَةٌ فِيهَا ذَهَبٌ وَوَرِقٌ وَجَوْهَرٌ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا ، فَسَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، فَقَالَ : انْزِعْ ذَهَبَهَا فَاجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ وَاجْعَلْ ذَهَبَكَ فِي كِفَّةٍ ثُمَّ لَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ " .عامر بن یحییٰ معافری نے حنش سے خبر دی کہ انہوں نے کہا: ہم ایک غزوے میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، میرے اور میرے ساتھیوں کے حصے میں ایک ہار آیا جس میں سونا، چاندی اور جواہر تھے۔ میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، چنانچہ میں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کا سونا اتار لو اور اسے ایک پلڑے میں رکھو اور اپنا سونا دوسرے پلڑے میں رکھو، پھر برابر برابر کے سوا نہ لو (کیونکہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: ”جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ (اس طرح کی بیع میں) مثل بمثل (یکساں) کے سوا ہرگز نہ لے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم خیبر کی لڑائی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم یہود سے سونے کا اوقیہ دینار کے بدلے بیچتے خریدتے تھے (قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہو گئے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں۔" [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3353]
سونے کا تبادلہ سونے کے ساتھ یا چاندی کا چاندی کے ساتھ ہو تو وزن برابر برابر اور معاملہ نقد ہونا ضروری ہے۔
ورنہ سود ہوگا۔
سونا کسی دوسری چیز کے ساتھ خلط ہونے کی صورت میں علیحدہ کرلیا جائے۔
مخلوط اشیاء میں سونے یا چاندی کے صحیح وزن کا تعین اس وقت تک نہیں ہوسکتا۔
جب تک ان کو الگ الگ نہ کرلیا جائے پھر سونے یا چاندی کے ساتھ لگی ہوئی ہر چیز کی الگ قیمت بھی متعین ہوجائےگی اور سود کا امکان بھی نہ رہے گا۔