صحيح مسلم
كتاب المساقاة— سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
باب الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا: باب: بیع صرف اور سونے کی چاندی کے ساتھ نقد بیع۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى إِلَّا مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ " ،فضیل کے بیٹے (محمد) نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور کے عوض کھجور، گندم کے عوض گندم، جو کے عوض جو اور نمک کے عوض نمک (کی بیع) مثل بمثل (ایک جیسی) دست بدست ہو۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا (لین دین) کیا، الا یہ کہ ان کی اجناس الگ الگ ہوں۔“
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ يَدًا بِيَدٍ .یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس نے نقد بنقد کا تذکرہ نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَهُوَ رِبًا " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا، سونے کے عوض ہم وزن ہوں گے، برابر، برابر ہوں گے اور چاندی، چاندی کے عوض، ہم وزن، برابر، برابر ہوں گے، تو جس نے زیادہ لیا، یا زیادہ وصول کیا، تو اس نے سودی معاملہ کیا۔‘‘
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا " ،سلیمان بن ہلال نے ہمیں موسیٰ بن ابی تمیم سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دینار سے دینار کی بیع میں ان کے درمیان اضافہ (جائز) نہیں اور درہم سے درہم کے تبادلے میں ان کے درمیان اضافہ (جائز) نہیں۔“
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي تَمِيمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے، موسیٰ بن ابی تمیم کی مذکورہ سند ہی سے بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
ألوان، لون کی جمع ہے، انواع و اقسام کو کہتے ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کھجور کے بدلے کھجور، گیہوں کے بدلے گی ہوں، جَو کے بدلے جَو اور نمک کے بدلے نمک میں خرید و فروخت نقدا نقد ہے، جس نے زیادہ دیا، یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا، سوائے اس کے کہ جنس بدل جائے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4563]
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں مذکورہ اشیاء کی ایک دوسرے کے عوض بیع جائز ہے بشرطیکہ وہ اشیاء برابر مقدار میں ہوں، سودا نقد ہو اور اسی مجلس میں دونوں فریق چیز کو اپنے اپنے قبضے میں لے لیں۔
(3) سود لینے سے، صرف لینے والا ہی گناہ گار نہیں ہوتا بلکہ دینے والا بھی مجرم ہوتا ہے، لہٰذا سود لینے والے اور دینے والے دونوں کو اس سے بچنا چاہیے۔
(4) حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جنس بدل جائے تو کمی بیشی جائز ہے۔ امام نو وی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنس کے مختلف ہونے کی صورت میں بھی تقابض (دونوں فریقوں کا چیز قبضے میں لینا) ضروری اور و اجب ہے۔ اس پر تقریباََ تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔
(5) ”جنسیں بدل جائیں“ مثلاََ: کھجور کا سودا گندم کے ساتھ، گندم کا جو کے ساتھ، جو کا نمک کے ساتھ۔ ایسی صورت میں کمی بیشی جائز ہے، مثلاََ: دوکلو گندم دے کر نصف کلو کھجور لے تو کوئی حرج نہیں، البتہ سودا نقد ہونا چاہیے۔
«. . . مالك عن موسى بن ابى تميم عن سعيد بن يسار عن ابى هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”الدينار بالدينار، والدرهم بالدرهم، لا فضل بينهما . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دینار دینار کے بدلے اور درہم درہم کے بدلے (برابر برابر ہوں) ان کے درمیان کوئی اضافہ نہ ہو . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 515]
تفقه:
➊ سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک سنار نے پوچھا: میں سونا ڈھال کر (زیور بناتا ہوں) پھر اس کے وزن سے زیادہ قیمت پر دیتا ہوں اور یہ زیادہ قیمت (اضافہ) اپنی محنت کے بدلے میں لیتا ہوں؟ تو انہوں نے اس سنارکو منع کیا۔ وہ بار بار پوچھتا رہا اور آپ اسے منع کرتے رہے حتیٰ کہ سواری پر سوار ہونے کے لئے مسجد کے دروازے تک پہنچ گئے پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دینار دینار کے بدلے اور درہم درہم کے بدلے، اس میں کوئی زیادتی نہ ہو، یہی ہم سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد و پیان ہے اور یہی ہماراتم سے عہد و پیان ہے۔ [الموطا 633/2 ح 1362، وسنده صحيح]
● نیز دیکھتے [الموطأ حديث: 153]
➋ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ سونے چاندی کا ایک برتن، اس کے وزن سے زیادہ قیمت پر بیچا تو سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے انھیں کہا: میں نے رسول اللہ کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا ہے الا یہ کہ وہ برابر برابر ہو۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: معاویہ کے معاملے میں کون میرا عذر مانتا ہے، میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے سناتا ہے۔ میں اس علاقے میں ہی نہیں رہوں گا جس میں(اے معاویہ!) تم رہتے ہو۔ پھر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ((مدینہ میں) عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور یہ قصہ سنایا تو انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھ بھیجا: ایسی خرید و فروخت دوبارہ نہ کرومگر برابر برابر۔ [الموطا 634/2 ح 1364، وسنده صحيحي،]
●اس قسم کے اور بھی بہت سے آثار موطا امام مالک میں موجود ہیں جن سےاس قسم کے سودے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
➌ سود کی بہت کی قسمیں ہیں جن میں بہت سے لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
➍ نیز دیکھئے [الموطأ ح 259، البخاري 2177، و مسلم 1584]