حدیث نمبر: 1579
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، أَنَّهُ جَاءَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ السَّبَإِيِّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ ؟ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " إِنَّ رَجُلًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا ؟ ، قَالَ : لَا فَسَارَّ إِنْسَانًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِمَ سَارَرْتَهُ ؟ ، فَقَالَ : أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا ، فَقَالَ : إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا ، قَالَ : فَفَتَحَ الْمَزَادَةَ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهَا " ،

سوید بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے حدیث سنائی، انہوں نے۔۔ اہل مصر کے آدمی۔۔ عبدالرحمٰن بن وعلہ سے روایت کی کہ وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے۔ اور مجھے ابوطاہر نے حدیث بیان کی۔۔ الفاظ انہی کے ہیں۔۔: ہمیں ابن وہب نے خبر دی: مجھے مالک بن انس اور دوسروں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے۔۔ مصر کے باشندوں میں سے۔۔ عبدالرحمٰن بن وعلہ سبئی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا جو انگور سے نچوڑی جاتی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کا ایک مشکیزہ ہدیہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: نہیں، اس کے بعد اس نے ایک انسان سے سرگوشی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تم نے اس سے کیا سرگوشی کی ہے؟“ اس نے جواب دیا: میں نے اس سے یہ فروخت کرنے کو کہا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: ”جس (اللہ) نے اس کا پینا حرام کیا ہے اس نے اس کی بیع بھی حرام قرار دی ہے۔“ کہا: اس پر اس شخص نے مشکیزے کا منہ کھول دیا حتیٰ کہ جو اس میں تھا، بہہ گیا۔

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .

یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمٰن بن وعلہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اسی کے مانند روایت کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساقاة / حدیث: 1579
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 393

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 393 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´شراب پینا اور بیچنا حرام ہے`
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الذى حرم شربها حرم بيعها. . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس کا پینا حرام کیا ہے اس نے اس کا بیچنا (بھی) حرام کیا ہے. . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 393]
تخریج الحدیث: [وأخرجه مسلم 1579، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ شراب بیچنا حرام ہے، اسی طرح ہر وہ چیز جو حرام ہے اس کا بیچنا بھی حرام ہے إلا یہ کہ کسی خاص چیز کے بارے میں کوئی خاص دلیل ہو جیسے گدھوں کا بیچنا اور خریدنا حلال و جائز ہے۔ ایک جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ دور سے پیدل چل کر نماز پڑھنے کے لئے مسجد نبوی تشریف لاتے تھے، انہیں کہا گیا: اگر آپ ایک گدھا (سواری کے لئے) خرید لیں تو اندھیری رات اور قہر گرمی میں اس پر سوار ہوکر آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ میرے چلنے والے قدم میرے نامۂ اعمال میں لکھے جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے یہ سب تمھارے لئے (نامۂ اعمال میں) لکھ دیا ہے۔ [صحيح مسلم: 663 تر قيم دار السلام: 1514]
● معلوم ہوا کہ گدھے کی خریدوفروخت جائز ہے۔
➋جو شخص عدم علم کی وجہ سے کسی غلطی کا ارتکاب کرے تو وہ معذور ہے لیکن دو باتیں ہمیشہ مد نظر ہونی چاہئیں: ① جب علم ہو جائے تو فوراً رجوع کرنا چاہئے۔
② ہر وقت علم تحقیق کی جستجو میں رہنا چاہئے۔
➌ ضرورت کے وقت سرگوشی جائز ہے بشرطیکہ تین یا تین سے زیادہ آدمی ہوں۔
➍ صحابہ کرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا جذبہ کس قدر ہے کہ جیسے ہی اس صحابی کو مسئلہ معلوم ہوا تو ساری شراب بہادی۔ رضی اللہ عنہ
➎ شراب کا سرکہ بنانا جائز نہیں ہے۔
➏ قرآن کی طرح حدیث بھی حجت ہے۔
➐ حرام چیز کا تحفہ دینا قبول کرنا جائز نہیں ہے۔
➑ ضرورت کے پیش نظر سرگوشی کرنے والے سے پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ نے کیا باتیں کی ہیں؟
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 183 سے ماخوذ ہے۔