صحيح مسلم
كتاب المساقاة— سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
باب حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ: باب: پچھنے لگانے کی اجرت حلال ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ ، فَقَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ أَهْلَهُ ، فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ ، وَقَالَ : إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ أَوْ هُوَ مِنْ أَمْثَلِ دَوَائِكُمْ " .حمید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے سینگی لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی، آپ ﷺ کو ابو طیبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے سینگی لگائی، تو آپ ﷺ نے اسے دو صاع غلہ دینے کا حکم دیا، اور اس کے مالکوں سے گفتگو کی، انہوں نے اس سے محصول لینے میں کمی کر دی اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو، ان میں سے بہترین چیز سینگی لگوانا ہے یا وہ تمہاری بہترین دواؤں میں سے ہے۔‘‘
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ ، عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ ، وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ ، وَلَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ .مروان فزاری نے ہمیں حمید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا۔۔۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: ”بلاشبہ سب سے افضل جس کے ذریعے سے تم علاج کراؤ، پچھنے لگوانا اور عود بحری (کا استعمال) ہے اور تم اپنے بچوں کو گلا دبا کر (مَل کر) تکلیف نہ دو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَنَا حَجَّامًا ، فَحَجَمَهُ ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ أَوْ مُدٍّ أَوْ مُدَّيْنِ وَكَلَّمَ فِيهِ ، فَخُفِّفَ عَنْ ضَرِيبَتِهِ " .شعبہ نے ہمیں حمید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ایک پچھنے لگانے والے غلام کو بلایا اس نے آپ کو پچھنے لگائے تو آپ نے اسے ایک صاع، ایک مد یا دو مد دینے کا حکم دیا اور اس کے متعلق (اس کے مالکوں سے) بات کی تو اس کے محصول میں کمی کر دی گئی۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ لَا يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ " .عمر بن عامر انصاری نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے بھی لگوائے، آپ کسی کی اجرت کے معاملے میں کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتے تھے (بلکہ زیادہ عطا فرماتے تھے۔)
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
خراج: وہ رقم جو روزانہ مالک غلام سے وصول کرتا ہے، جس کو خريبه بھی کہتے ہیں۔
(2)
أفضل، أمثل اور خیر تینوں کا مفہوم یکساں ہے۔
(1)
مالک اپنے زر خرید غلام پر جو ٹیکس مقرر کرتا ہے جسے وہ ہر روز ادا کرتا ہے اسے ضريبة العبد کہا جاتا ہے۔
حدیث میں مذکور ابو طیبہ نے اپنے مالک کی طرف سے عائد کردہ رقم کے زیادہ ہونے کا شکوہ کیا ہوگا تو آپ ﷺ نے اس میں کمی کرنے کی سفارش کردی۔
(2)
اس حدیث میں لونڈی کے ٹیکس کی صراحت نہیں ہے۔
امام بخاری ؒ نے غلام کے ٹیکس پر اسے قیاس کیا ہے کیونکہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں، البتہ لونڈیوں کے ذرائع آمدن پر نگرانی کرنے کا حکم ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ پیشۂ زنا سے حاصل کرنے لگیں، اس لیے مالک کو چاہیے کہ لونڈی پر عائد کردہ ٹیکس کا خیال رکھے کہ وہ زنا اور بدکاری سے حاصل کرکے اسے نہ دے رہی ہو۔
اگرچہ غلام کی کمائی بھی چوری وغیرہ سے ہوسکتی ہے لیکن ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 578/4)
یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے کاموں کو بنظر حقارت دیکھنے والے غلطی پر ہیں۔
قبل ازیں ایک روایت گزر چکی ہے کہ ابو جحیفہ ؓ نے ایک سینگی لگانے والا غلام خریدا تو اس کے آلات وغیرہ توڑ ڈالے، بیٹے کے سوال کرنے پر بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے خون کی قیمت سے منع کیا ہے۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2238)
اس روایت کے پیش نظر کچھ لوگوں کو تردد تھا کہ پچھنا لگوانا اور اس پر اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟ امام بخاری ؒ نے ان روایات سے یہ ثابت کیا ہے کہ سینگی لگوانا جائز ہے اور اس پر مزدوری لینا بھی مباح ہے۔
بعض روایات میں سینگی لگانے کی اجرت کو خبیث کہا گیا ہے،اس سے مراد نہی تحریم نہیں بلکہ نہی تنزیہ ہے،یعنی بہتر ہے کہ اس طرح کے کاروبار سے بچاجائے کیونکہ بعض دفعہ خون وغیرہ انسان کے حلق سے نیچے بھی اتر سکتا ہے، اس لیے آپ نے اس کی اجرت کو لفظ"خبیث" سے تعبیر کیا ہے۔
(فتح الباري: 579/4)
اور وہ حدیث جس میں اس کی ممانعت وارد ہے وہ منسوخ ہے۔
اور یہ بھی ثابت ہوا کہ نوکروں، خادموں، غلاموں سے ان کی طاقت کے موافق خدمت لینی چاہئے۔
اور ان کی مزدوری میں بخل نہ ہونا چاہئے۔
اور یہ بھی کہ اجرت میں نقدی کے علاوہ اجناس بھی دینی درست ہیں بشرطیکہ مزدور پسند کرے۔
خراج سے یہاں وہ ٹیکس مراد ہے جو ا س کے آقا اس سے روزانہ وصول کیا کرتے تھے۔
آپ نے فرمایا کہ اس میں کمی کردیں۔
ان کا نام نافع بتلایا گیا ہے۔
حافظ ؒنے اسی کو صحیح کہا ہے۔
ابن حذاءنے کہا کہ ابوطیبہ نے 134سال کی عمر پائی تھی۔
حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ غلام یا لونڈی کے اوپر مقررہ ٹیکس میں کمی کرانے کی سفارش کرنا درست ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ اب اسلام کی برکت سے غلامی کا یہ بدترین دور تقریباً دنیا سے ختم ہو چکا ہے۔
مگر اب غلامی کے دوسرے طریقے ایجاد ہو گئے ہیں جو اور بھی بدتر ہیں۔
اب قوموں کو غلام بنایا جاتا ہے جن کے لیے اقلیت اور اکثریت کی اصطلاحات مروج ہو گئی ہیں۔
1۔
سینگی لگانے والے غلام کی کنیت ابو طیبہ اور نام نافع تھا۔
اس روایت میں راوی کو ترددہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے کتنا غلہ دیا جبکہ قبل ازیں روایت گزرچکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے کھجور کا ایک صاع عنایت فرمایا تھا۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2102)
جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا تھا کہ وہ انھیں ایک صاع دیں۔
(جامع الترمذي، البیوع، حدیث: 1278، و سنن ابن ماجة، التجارات، حدیث: 2163)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے دریافت کیا کہ تیرا یومیہ ٹیکس کس قدر ہے؟ تو اس نے کہا: دوصاع، پھر آپ کی سفارش سے اس کے مالکان نے ایک صاع معاف کردیا۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 267/6)
اس کے مالکان بنو حارثہ قبیلے کے لوگ تھے،ان میں سے حضرت محّیصہ بن مسعود ؓ بھی ہیں۔
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بنو بیاضہ کے غلام تھے، حالانکہ یہ وہم ہے کیونکہ ان کا غلام ابو ہندتھا۔
(فتح الباري: 581/4)
اس روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے اس غلام کے متعلق سفارش فرمائی تھی۔
(2)
اگر غلام کا محصول اس قدر زیادہ ہوکہ اسے ادا کرنے کی طاقت نہ ہوتو حاکم وقت اس میں تخفیف لازم کرسکتا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ اب اسلام کی برکت سے غلامی کا دور ختم ہوچکاہے لیکن اب افراد کو غلام بنانے کے بجائے قوموں کو غلام بنایا جاتا ہے جس کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد ہوچکے ہیں۔
أعاذناالله منه.
عرب میں مالک لوگ اپنے غلام کی محنت اور لیاقت کے لحاظ سے اس پر شرح مقرر کر دیا کرتے تھے کہ اتنا روز یا مہینے مہینے ہم کو دیا کرے اس کو خراج کہتے ہیں۔
(وحیدی)
کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنے قدم کی پشت پر پچھنا لگوایا، آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا کہ ابن ابی عروبہ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے یعنی قتادہ سے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1837]
➋ اب بھی بوقت ضرورت اس سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔اورظاہر ہے کہ اس عمل میں بالوں کی جگہ سے بال کاٹے جاتے ہیں۔جلد پر چیرالگایا جاتا ہے۔پس اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔تاہم کئی ایک فقہاء بال کاٹنے کی بنا پر فدیہ کے قائل ہیں۔نیز دانت نکلوانے یا کسی عمل جراحی کی صورت میں کوئی فدیہ لازم نہیں آتا۔
➌ بیماری میں علاج کرانا سنت رسول ﷺ ہے۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں کے اوپری حصہ پر اس تکلیف کی وجہ سے جو آپ کو تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2852]
(2) مذکورہ روایت بھی راجح قول کے مطابق صحیح ہے۔
«. . . ابو طيبة، فامر له رسول الله صلى الله عليه وسلم بصاع من تمر، وامر اهله ان يخففوا عنه من خراجه . . .»
”. . . ابوطیبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پچھنے لگائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے (مزدوری میں) کھجوروں کا ایک صاع دیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مالکوں کو حکم دیا کہ وہ اس پر خراج (مقرر کردہ رقم) میں کمی کر دیں . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 429]
[وأخرجه البخاري 2102، 2110، من حديث مالك، ومسلم 1577، من حديث حميد الطّويل به وصرح حميد بالسماع عند مسلم 64/1577]
تفقه:
➊ بیماری کے علاج کے لئے آلات کے ذریعے سے جسم کے کسی حصے سے خون نکالنے کے عمل کو پچھنے لگانا یا سینگی لگانا کہتے ہیں۔
➋ پچھنے لگانے کی اجرت جائز ہے اور جن احادیث میں اسے خبیث کہا گیا ہے یا پچھنے لگانے سے منع کیا گیا ہے وہ کراہیت تنزیہی پر محمول ہیں یا پھر منسوخ ہیں۔
➌ اس سے ہمارے دور میں نائیوں کی مروجہ حجامت مراد نہیں ہے جس میں وہ سر وغیرہ کے بال کاٹتے ہیں۔ اگر مروجہ حجامت میں شریعت کے خلاف کوئی بات نہ ہو تو اس کی اجرت بھی جائز اور حلال ہے۔ یاد رہے کہ داڑھی منڈوانا یا ایک مشت سے کم کاٹنا حرام ہے لہٰذا ایسی حرکت کرنے والے نائیوں (حجاموں) کی آمدنی حرام ہے۔
➍ اگر اسلامی حکومت ہو تو غلامی جائز ہے۔ میدان جہاد میں قیدی کافروں کو غلام بنا کر بعد میں بیچا جا سکتا ہے۔
➎ اچھے کام میں سفارش کرنا مسنون ہے۔
➏ بیماری کا علاج کرانا مسنون ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سینگی لگانا درست ہے، آج کل اس کے دو طریقے ہیں: ایک گلاس کے ذریعے اور دوسرا مشین کے ذریعے، سینگی لگانے والے کو اجرت دینی چاہیے۔