صحيح مسلم
كتاب المساقاة— سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
باب الأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلاَّ لِصَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ. باب: کتوں کے قتل کا حکم پھر اس حکم کا منسوخ ہونا اور اس امر کا بیان کہ کتے کا پالنا حرام ہے مگر شکار یا کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے لیے یا ایسے ہی اور کسی کام کے واسطے۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ ، وَلَا مَاشِيَةٍ ، وَلَا أَرْضٍ ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ " . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي الطَّاهِرِ : وَلَا أَرْضٍ .امام صاحب اپنے دو اساتذہ ابو طاہر اور حرملہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، جو شکاری یا مویشیوں کے لیے یا زمین کے لیے نہیں ہے، تو اس کے اجر سے دو قیراط ہر دم کم ہوں گے۔‘‘ ابو طاہر کی حدیث میں، زمین کا ذکر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا ، إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ ، أَوْ صَيْدٍ ، أَوْ زَرْعٍ ، انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَذُكِرَ لِابْنِ عُمَرَ ، قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ صَاحِبَ زَرْعٍ .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، الا یہ کہ وہ مویشیوں یا شکار یا کھیتی کے لیے ہو، اس کے اجر سے ہر دن ایک قیراط کم ہو گا۔‘‘ امام زہری بیان کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو بتائی گئی، تو انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ ابوہریرہ ؓ پر رحم فرمائے، وہ کھیتی کے مالک تھے، (اور جس کو کسی چیز سے واسطہ پڑتا ہے، وہ اس کے مسائل کو خوب یاد رکھتا ہے۔)
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ، إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ ، أَوْ مَاشِيَةٍ " ،ہشام دستوائی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا، سوائے کھیتی یا مویشیوں (کی حفاظت کرنے) والے کتے کے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ،اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث سنائی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث سنائی، کہا: مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .حرب نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَزِينٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا ، لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ ، وَلَا غَنَمٍ ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، جو شکار یا بکریوں کے لیے نہیں ہے، اس کے عمل سے ہر دن ایک قیراط کم ہو گا۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
محض شوقیہ کتا پالنا منع ہے۔
اس لیے کہ اس سے بہت سے خطرات ہوتے ہیں۔
بڑا خطرہ یہ کہ ایسے کتے موقع پاتے ہی برتنوں میں منہ ڈال کر ان کو گندا کرتے رہتے ہیں۔
اور یہ آنے جانے والوں کو ستاتے بھی ہیں۔
ان کے کاٹنے کا ڈر ہوتا ہے۔
اسی لیے ایسے گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں داخل ہوتے جس میں یہ موذی جانور رکھا گیا ہو۔
ایسے مسلمان کی نیکیوں میں سے ایک قیراط نیکیاں کم ہوتی رہتی ہیں جو بے منفعت کتے کو پالتا ہو۔
حافظ صاحب فرماتے ہیں: فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فَضِيلَةُ الْغَرْسِ وَفَضِيلَةُ الزَّرْعِ وَأَنَّ أجر فاعلى ذلك مستمر مادام الْغِرَاسُ وَالزَّرْعُ وَمَا تَوَلَّدَ مِنْهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَقَدِ اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي أَطْيَبِ الْمَكَاسِبِ وَأَفْضَلِهَا فَقِيلَ التِّجَارَةُ وَقِيلَ الصَّنْعَةُ بِالْيَدِ وَقِيلَ الزِّرَاعَةُ وَهُوَ الصَّحِيحُ وَقَدْ بَسَطْتُ إِيضَاحَهُ فِي آخِرِ بَابِ الْأَطْعِمَةِ مِنْ شَرْحِ الْمُهَذَّبِ وَفِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ أَيْضًا أَنَّ الثَّوَابَ وَالْأَجْرَ فِي الْآخِرَةِ مُخْتَصٌّ بِالْمُسْلِمِينَ وَأَنَّ الْإِنْسَانَ يُثَابُ عَلَى مَا سُرِقَ مِنْ مَالِهِ أَوْ أَتْلَفَتْهُ دَابَّةٌ أَوْ طَائِرٌ وَنَحْوُهُمَا الخ۔
و في الحدیث الحث علی تکثیر الأعمال الصالحة و التحذیر من العمل بما ینقصها و التنبیه علی أسباب الزیادة فیها و النقص منها لتجنتب أو ترتکب و بیان لطف اللہ تعالیٰ بخلقه في إباحة مالهم به نفع و تبلیغ نبیهم صلی اللہ علیه وسلم أمور معاشهم و معادهم و فیه ترجیح المصلحة الراجحة علی المفسدة لوقوع استثناء ما ینتفع به مما حرم اتخاذہ (فتح الباري)
یعنی نیکیوں میں سے ایک قیراط کم ہونے کا سبب ایک تو یہ ہے کہ رحمت کے فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے، یا یہ کہ اس کتے کی وجہ سے آنے جانے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
یا اس لیے کہ بھی کہ بعض کتے شیطان ہوتے ہیں یا اس لیے کہ باوجود نہی کے کتا رکھا گیا، اس سے نیکی کم ہوتی ہے یا اس لیے کہ وہ برتنوں میں منہ ڈالتے رہتے ہیں۔
جہاں گھر والے سے ذار غفلت ہوئی اور کتے نے فوراً پاک پانی کو ناپاک کر ڈالا۔
اب اگر عبادت کے لیے وہ استعمال کیا گیا تو اس سے پاکی حاصل نہ ہوگی۔
الغرض یہ جملہ وجوہ ہیں جن کی وجہ سے محض شوقیہ کتا پالنے والوں کی نیکیاں روزانہ ایک ایک قیراط کم ہوتی رہتی ہیں۔
مگر تہذیب مغرب کا برا ہو آج کل نئی تہذب میں کتا پالنا بھی ایک فیشن بن گیا ہے۔
امیر گھرانوں میں محض شوقیہ پلنے والے کتوں کی اس قدر خدمت کی جاتی ہے کہ ان کے نہلانے دھلانے کے لیے خاص ملازم ہوتے ہیں۔
ان کی خوراک کا خاص اہتمام ہوتا ہے۔
استغفر اللہ! مسلمانوں کو ایسے فضول بے ہودہ فضول خرچی کے کاموں سے بہرحال پرہیز لازم ہے۔
حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ حدیث ہذا بہت سے فوائد پر مشتمل ہے جن میں سے اعمال صالحہ کی کثرت پر رغبت دلانا بھی ہے اور ایسے اعمال بد سے ڈرانا بھی جن سے نیکی برباد ہو اورگناہ لازم آئے۔
حدیث ہذا میں ہر دو امور کے لیے تنبیہ ہے کہ نیکیاں بکثرت کی جائیں اور برائیوں سے بکثرت پرہیز کیا جائے۔
اور یہ بھی کہ اللہ کی اپنی مخلوق پر مہربانی ہے کہ جو چیز اس کے لیے نفع بخش ہے وہ مباح قرار دی ہے اور اس حدیث میں تبلیغ نبوی بابت امور معاش و معاد بھی مذکو رہے۔
اوراس حدیث سے یہ بھی ظاہر ہے کہ بعض چیزیں حرام ہوتی ہیں جیسا کہ کتا پالنا، مگر ان کے نفع بخش ہونے کی صورت میں ان کو مصلحت کی بنا پر مستثنیٰ بھی کر دیا جاتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو مویشی کی نگہبانی، یا شکار یا کھیتی کی رکھوالی کے علاوہ کسی اور غرض سے کتا پالے تو ہر روز اس کے ثواب میں سے ایک قیراط کے برابر کم ہوتا جائے گا ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2844]
ان مقاصد کے علاوہ کتا رکھنا گناہ اور خسارے کا سودا ہے۔
کہ ہر روز اس کے ثواب میں سے ایک قیراط کم ہوتا رہتا ہے۔
اور اللہ جانتا ہے کہ یہ وزن کس قدر ہوگا۔
جبکہ اوزان میں قیراط 2125 گرام چاندی کے وزن پر بولا جاتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کتا پالے گا اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا، سوائے کھیت یا ریوڑ کے کتے کے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3204]
فوائد و مسائل:
(1)
ممنوع کام کے ارتکاب کی سزا یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پہلے سے کیے ہوئے نیک کاموں کا ثواب ضائع ہو جائے۔
(2)
قیراط ایک چھوٹا سا وزن ہے جو ایک ماشیہ یا اس سےکم ہوتا ہے جبکہ نبی اکرم ﷺ نے جنازے میں شرکت کی ترغیب میں اس کی مقدار احد پہاڑ کے برابر بیان فرمائی ہے۔
اس حدیث میں مذکور قیراط سے کیا مراد ہے اس کی بابت رسول اللہ ﷺ سے وضاحت نہیں ملتی لہٰذا اس سے کوئی سا بھی وزن مراد لےلیا جائے ایک مسلمان کے لیے باعث حسرت و ندامت ہے کہ روزانہ اس کے اجر وثواب سے احد پہاڑ کے برابر یا ایک قیراط معروف وزن کے برابر ثواب کم کر دیا جائے۔
واللہ اعلم۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس کسی نے مال مویشی کے تحفظ کیلئے (رکھے گئے کتے) یا شکاری کتے یا زراعت کی دیکھ بھال و حفاظت کرنے والے کتے کے علاوہ دوسرا کوئی کتا (شوقیہ طور پر) رکھا تو اس کے ثواب میں سے ہر روز ایک قیراط ثواب کم ہو جاتا ہے۔ “ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1147»
«أخرجه البخاري، الحرث والمزارعة، باب إقتناء الكلب للحرث، حديث:2322، ومسلم، المساقاة، باب الأمر بقتل الكلاب...، حديث:1575.»
تشریح: 1. مذکورہ بالاحدیث سے معلوم ہوا کہ دل کے بہلاوے اور شوقِ فضول کی تکمیل کے لیے کتا رکھنا ممنوع ہے‘ البتہ شکار کے لیے اور کھیتی باڑی اور جانوروں وغیرہ کی دیکھ بھال کے لیے رکھنے کی اجازت ہے۔
ان مقاصد کے سوا کسی اور مقصد کے لیے کتا رکھنے کی وجہ سے یومیہ ایک قیراط ثواب میں کمی واقع ہوتی ہے۔
2.قیراط ایک چھوٹا سا وزن ہے جو ایک ماشہ یا اس سے کم ہوتا ہے جبکہ نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازے میں شرکت کی ترغیب میں اس کی مقدار احد پہاڑ کے برابر بیان فرمائی ہے۔
اس حدیث میں مذکور قیراط سے کیا مراد ہے؟ اس کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضاحت نہیں ملتی‘ لہٰذا اس سے کوئی سا بھی وزن مراد لیا جائے ایک مسلمان کے لیے باعث حسرت و ندامت ہے کہ روزانہ اس کے اجر و ثواب میں سے احد پہاڑ کے برابر یا ایک قیراط معروف وزن کے برابر ثواب کم کر دیا جائے۔
واللّٰہ أعلم۔