صحيح مسلم
كتاب المساقاة— سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
باب تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ: باب: کتے کی قیمت اور نجومی کی مٹھائی اور رنڈی کی خرچی اور بلی کی بیع حرام ہے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " شَرُّ الْكَسْبِ : مَهْرُ الْبَغِيِّ ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ " .محمد بن یوسف سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سائب بن یزید سے سنا، وہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”بدترین کمائی زانیہ کی اجرت، کتے کی قیمت اور پچھنے لگانے والے کی کمائی ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ قَارِظٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ " ،حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتے کی قیمت خبیث (پلید) ہے، زانیہ کی اجرت خبیث ہے اور سینگی لگانے والے کی کمائی خبیث ہے۔‘‘
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .معمر نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .ہشام نے ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابراہیم نے عبداللہ سے سائب بن یزید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " بری کمائی زانیہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت، اور پچھنا لگانے کی اجرت ہے " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4299]
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " پچھنا لگانے والے کی کمائی خبیث (گھٹیا) ہے ۱؎ زانیہ کی اجرت ناپاک ۲؎ ہے اور کتے کی قیمت ناپاک ہے " ۳؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1275]
وضاحت:
1؎:
«كسب الحجام خبيث» میں خبیث کا لفظ حرام ہونے کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ گھٹیا اورغیرشریفانہ ہونے کے معنی میں ہے رسول اللہ ﷺنے محیصہ رضی اللہ عنہ کویہ حکم دیا کہ پچھنا لگانے کی اجرت سے اپنے اونٹ اورغلام کوفائدہ پہنچاؤ، نیز آپ نے خود پچھنا لگوایا اور لگانے والے کواس کی اجرت بھی دی، لہٰذا پچھنا لگانے والے کی کمائی کے متعلق خبیث کا لفظ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے لہسن اور پیاز کو خبیث کہا باوجودیکہ ان دونوں کا استعمال حرام نہیں ہے، اسی طرح حجام کی کمائی بھی حرام نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ غیرشریفانہ ہے۔
یہاں خبیث بمعنی حرام ہے۔
2؎:
چونکہ زنا فحش اموراورکبیرہ گناہوں میں سے ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اورحرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد ہو۔
3؎:
کتا چونکہ نجس اورناپاک جانورہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کوجس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کاحکم دیا ہے جس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب کتے کی خریدوفروخت اوراس سے فائدہ اٹھانا منع ہے، الا یہ کہ کسی شدید ضرورت سے ہو مثلاً گھر جائیداد اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو۔
پھر بھی قیمت لینا گھٹیا کام ہے، ہدیہ کردینا چاہیے۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سینگی (پچھنا) لگانے والے کی کمائی بری (غیر شریفانہ) ہے ۱؎ کتے کی قیمت ناپاک ہے اور زانیہ عورت کی کمائی ناپاک (یعنی حرام) ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3421]
1۔
اس باب میں آپﷺ سے یہ منقول ہے۔
کہ پچھنے لگانے والے کی کمائی خبیث ہے۔
اسی طرح یہ بھی منقول ہے۔
کہ آپ ﷺنے پچھنے لگوا کر لگانے والے کو ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا۔
یہ بھی ہے کہ حضرت ابن محیصہ کے دادا نے ایسی کمائی کے بارے میں مسلسل سوال کیا تو آپ نے انھیں اس طرح کی کمائی اونٹ یا غلام کو کھلانے کی اجازت دی۔
پچھنے لگانے میں چونکہ ایک صورت یہ ہوتی تھی۔
کہ منہ سے مریض کا خون چوسا جاتا تھا۔
لہذا اس نسبت سے اسے خبیت یعنی نا پسندیدہ کہا گیا ہے۔
ورنہ یہ مطلقاً حرام نہیں۔
ایسا ہوتا تو آپ پچھنا لگانے والے کو خود عطا کرتے۔
نہ ایسی کمائی اونٹ یا غلام کو کھلانے ہی کی اجازت دیتے۔
یہ امکان بھی ہے۔
یہ امکان بھی ہے کہ پچھنے لگانے والے جسم سے نکلا ہوا خون فروخت کردیتے تھے۔
(نیل الأوطار: 321/5)
2۔
کتا چونکہ حرام جانور ہے۔
اس لئے اس کی خریدوفروخت بھی حرام ہے۔
البتہ بعض لوگ شکاری کتا (کلب معلم) خریدنے کی اجازت دیتے ہیں۔
3۔
زنا کاری سے حاصل شدہ آمدنی کےحرام ہونے کیا شک ہوسکتا ہے۔