صحيح مسلم
كتاب المساقاة— سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
باب فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ: باب: مفلس کو مہلت دینے کی اور قرض وصول کرنے میں آسانی کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1561
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ وَكَانَ مُوسِرًا ، فَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ ، تَجَاوَزُوا عَنْهُ " .شقیق نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کا حساب لیا گیا تو اس کی کوئی نیکی نہ ملی، سوائے یہ کہ وہ لوگوں سے معاملات کرتا تھا اور وہ مالدار آدمی تھا۔ تو وہ اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں۔ کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم اس کی نسبت اس کا زیادہ حق رکھتے ہیں، تم بھی اس سے درگزر کرو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کا محاسبہ کیا گیا، تو اس کے پاس کوئی نیکی نہ پائی گئی، سوائے اس کے کہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہتا تھا اور مالدار تھا، اور اپنے نوکروں کو یہ ہدایت دیتا تھا کہ وہ تنگدست سے درگزر کریں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ہم درگزر کرنے کے اس سے زیادہ حقدار ہیں، اس سے درگزر کرو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3997]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: لم يوجد له من الخير شئي: میں الخير سے مراد اعمال صالحہ ہیں، ایسے وہ ایمان دار تھا، کیونکہ ایمان کے بغیر معافی ممکن نہیں ہے اور نہ کوئی عمل اس کے بغیر نجات کا باعث بن سکتاہے، جیسا کے اگلی روایت میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1561 سے ماخوذ ہے۔