صحيح مسلم
كتاب المساقاة— سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
باب فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ: باب: مفلس کو مہلت دینے کی اور قرض وصول کرنے میں آسانی کرنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، أَنَّ حُذَيْفَةَ ، حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَقَالُوا : أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا ؟ قَالَ : لَا ، قَالُوا : تَذَكَّرْ ، قَالَ : كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ ، فَآمُرُ فِتْيَانِي : أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ ، وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : تَجَوَّزُوا عَنْهُ " .منصور نے ہمیں ربعی بن حراش سے حدیث بیان کی کہ حضرت حذیفہ (بن یمان رضی اللہ عنہ) نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کی روح کا فرشتوں نے استقبال کیا تو انہوں نے پوچھا: کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: یاد کر، اس نے کہا: میں (دنیا میں) لوگوں کے ساتھ قرض کا معاملہ کرتا تو اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگدست کو مہلت دیں اور خوشحال سے نرمی برتیں۔ (انہوں نے) کہا: اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: (تم بھی) اس کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو۔“
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : " رَجُلٌ لَقِيَ رَبَّهُ ، فَقَالَ : مَا عَمِلْتَ ؟ قَالَ : مَا عَمِلْتُ مِنَ الْخَيْرِ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ رَجُلًا ذَا مَالٍ ، فَكُنْتُ أُطَالِبُ بِهِ النَّاسَ ، فَكُنْتُ أَقْبَلُ الْمَيْسُورَ ، وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمَعْسُورِ ، فَقَالَ : تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي " ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .نُعَیم بن ابی ہند نے ربعی بن حراش سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت حذیفہ اور حضرت ابومسعود (انصاری) رضی اللہ عنہما اکٹھے ہوئے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک آدمی اللہ عزوجل کے حضور پیش ہوا تو اللہ نے پوچھا: ”تو نے کیا عمل کیا؟“ اس نے کہا: میں نے کوئی نیکی نہیں کی، سوائے اس کے کہ میں مالدار آدمی تھا، میں لوگوں سے اس (میں سے دیے ہوئے قرض) کا مطالبہ کرتا تو مالدار سے خوش دلی سے قبول کرتا اور تنگ دست سے درگزر (مزید مہلت دیتا یا نہ دے سکتا تو معاف) کرتا۔ فرمایا: ”(تم بھی) میرے بندے سے درگزر کرو۔“ (یہ سن کر) حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ رَجُلًا مَاتَ ، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَقِيلَ لَهُ : مَا كُنْتَ تَعْمَلُ ؟ قَالَ : فَإِمَّا ذَكَرَ ، وَإِمَّا ذُكِّرَ ، فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ ، فَكُنْتُ أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ ، وَأَتَجَوَّزُ فِي السِّكَّةِ ، أَوْ فِي النَّقْدِ ، فَغُفِرَ لَهُ " ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .عبدالملک بن عمیر نے ربعی بن حراش سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: ”ایک آدمی فوت ہوا اور جنت میں داخل ہوا تو اس سے کہا گیا: تو کیا عمل کرتا تھا؟۔۔ کہا: اس نے خود یاد کیا یا اسے یاد کرایا گیا۔۔ اس نے کہا: (اے میرے پروردگار!) میں لوگوں سے (قرض پر) خرید و فروخت کرتا تھا، تو میں تنگ دست کو مہلت دیتا اور سکہ اور نقدی وصول کرنے میں نرمی کرتا تھا، تو اس کی مغفرت کر دی گئی۔“ اس پر حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی یہی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " أُتِيَ اللَّهُ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ ، آتَاهُ اللَّهُ مَالًا ، فَقَالَ لَهُ : مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا ؟ قَالَ : وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا ، قَالَ : يَا رَبِّ ، آتَيْتَنِي مَالَكَ ، فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَكَانَ مِنْ خُلُقِي الْجَوَازُ ، فَكُنْتُ أَتَيَسَّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ ، فَقَالَ اللَّهُ : أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْكَ ، تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي " ، فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ : هَكَذَا سَمِعْنَاهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سعد بن طارق نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے بندوں میں سے ایک بندہ پیش کیا گیا: اللہ نے اسے مال دیا تھا، تو اللہ نے اس سے پوچھا: تو نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ انہوں نے کہا: اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔ اس نے عرض کی: میرے رب! تو نے مجھے مال دیا تھا، میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور میری عادت نرمی اور آسانی کرنا تھی۔ میں مالدار پر آسانی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا تھا۔ تو اللہ عزوجل نے فرمایا: تمہاری نسبت میں اس کا زیادہ حق رکھتا ہوں، (فرشتو!) تم بھی میرے بندے سے درگزر کرو۔“ حضرت عقبہ بن عامر جہنی اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے بھی یہ حدیث اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے سنی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
مالدار کی تعریف میں اختلاف ہے بعض نے کہا جس کے پاس اپنا اور اپنے اہل و عیال کا خرچہ موجود ہو۔
ثوری اور ابن مبارک اور امام احمد اور اسحاق نے کہا جس کے پاس پچاش درہم ہوں۔
اور امام شافعی نے کہا کہ اس کی کوئی حد مقرر نہیں کرسکتے۔
کبھی جس کے پاس ایک درہم ہو مالدار کہلا سکتاہے جب وہ اس کے خرچ سے فاضل ہو اور کبھی ہزار رکھ کر بھی آدمی مفلس ہوتا ہے جب کہ اس کا خرچہ زیادہ ہو اور عیال بہت ہوں اور وہ قرض دار رہتا ہو۔
(1)
قرض دار اگرچہ مال دار ہی کیوں نہ ہو اس سے بھی درگزر والا معاملہ کرنا چاہیے۔
اس پر سختی نہ کی جائے۔
اگر وہ مزید مہلت طلب کرے تو خوش دلی کے ساتھ اسے مہلت دی جائے۔
(2)
مال دار کون ہے؟اس کی تعریف میں اختلاف ہے،تاہم حالات وظروف کے پیش نظر بعض اوقات انسان ایک درہم کمانے سے غنی ہوجاتا ہے اور کبھی ہزار درہم رکھنے کے باوجود فقیر رہتا ہے کیونکہ اس کے ہاں اہل وعیال کی کثرت ہوتی ہے۔
(3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ انتہائی مہربان ہے۔
وہ معمولی سی نیکی کے عوض بہت بڑے گناہ گار کو معاف کردیتا ہے کیونکہ انسان جب اچھی نیت سے کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وہ خسارے میں نہیں رہتا۔
(4)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مال دار کو مہلت دینے میں اس کے ظلم کا ساتھ دیتا ہے،اس میں اجرو ثواب کی امید نہیں رکھی جاسکتی لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اس موقف کی تردید فرمائی ہے اور ثابت کیا ہے کہ مال دار کو مہلت دینے میں اجر ملے گا۔
بہر حال عرف عام میں جو بھی مال دار ہو اس کے ساتھ بھی حسن سلوک اور اچھے برتاؤ سے پیش آنا چاہیے۔
(5)
حدیث کے آخر میں (قال فتجا وزواعنه)
کا ترجمہ ہم نے یہ کیا ہے: "انھوں نے بھی اس سے نرمی اختیار کی۔
"اس لفظ کی دو سورتیں ہیں: اگر (فتجا وزواعنه)
ہو اور فعل ماضی ہوتو اس کے معنی وہی ہوں گے جو ہم نے کیے ہیں،یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فرشتوں نے اس سے نرمی اختیار کی۔
" اور(فتجا وزواعنه)
اگر فعل امر ہوتو پھر معنی ہوں گے: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا: "تم بھی اس کے ساتھ نرمی کرو۔
"صحیح مسلم وغیرہ سے دوسرے معنی کی تائید ہوتی ہے۔
(صحیح مسلم،المساقاۃ،حدیث: 3993(1560)
حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مر گیا تو اس سے پوچھا گیا: تم نے کیا عمل کیا ہے؟ تو اس کو یا تو یاد آیا یا یاد لایا گیا، اس نے کہا: میں سکہ اور نقد کو کھوٹ کے باوجود لے لیتا تھا، اور تنگ دست کو مہلت دیا کرتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2420]
فوائد و مسائل:
(1)
لین دین میں نرمی کرنا اللہ تعالی کی بہت پسند ہے۔
(2)
وفات کےبعد تین مشہور سوالوں (تیرارب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تیرا دین کیاہے؟)
کےعلاوہ بھی بعض معاملات کےبارے میں پوچھا جاتاہے۔
(3)
سکے میں چشم پوشی کا مطلب یہ ہے کہ سکے کی معمولی خرابی کونظر انداز کردیتا تھا جب کہ عام لوگ اس کس وجہ سے سکہ قبول کرنے سے انکار کردیتے تھے جس طرح آج کل گھسا ہواسکہ یا پھٹا ہوا نوٹ قبول کرنے سے انکار کردیا جاتاہے۔
(4)
اللہ کے ہاں حسن اخلاق کی بہت قدروقیمت ہے۔
(5)
مقروض کوقرض کی ادائیگی مزید مہلت دے دینا بہت بڑی نیکی ہے۔
(6)
بعض اوقات ایک نیکی انسان کو نظر میں معمولی ہوتی ہے لیکن وہ بخشش کا ذریعہ بن جاتی ہے، اس لیے چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی طرف بھی پوری توجہ دینی چاہیے۔