حدیث نمبر: 156
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ، ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : " فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلام ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ : تَعَالَ صَلِّ لَنَا ، فَيَقُولُ : لَا ، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ ، تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الأُمَّةَ .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کا ایک گروہ مسلسل حق پر (قائم رہتے ہوئے) لڑتا رہے گا، وہ قیامت کے دن تک (جس بھی معرکے میں ہوں گے) غالب رہیں گے، کہا: پھر عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتریں گے تو اس طائفہ (گروہ) کا امیر کہے گا: آئیں ہمیں نماز پڑھائیں، اس پر عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے: نہیں، اللہ کی طرف سے اس امت کو بخشی گئی عزت و شرف کی بنا پر تم ہی ایک دوسرے پر امیر ہو۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 156
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه مسلم في ((صحيحه)) في الجهاد، باب: قوله صلی اللہ علیہ وسلم : ((لا تزال طائفة من امتي ظاهرين علی الحق لا يضرهم من خالفهم)) برقم (4931) انظر ((التحفة)) برقم (2840)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا اور حق پر ہوگا، اور وہ قیامت تک (دشمنوں پر) غالب ہوگا۔ پھر عیسیٰ بن مریم ﷺ اتریں گے، تو اس طائفہ کا امیر کہے گا: آئیے! ہمیں جماعت کرائیے! تو عیسیٰ ؑ جواب دیں گے نہیں، تم ایک دوسرے پر امیر ہو، اللہ نے اس امت کو یہ عزت و شرف بخشا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:395]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
جب عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا، تو بیت المقدس میں نماز کے لیے امام مہدی علیہ السلام آگے بڑھ چکے ہوں گے، وہ پیچھے ہٹ کر عیسیٰ علیہ السلام کو امامت کی دعوت دیں گے، لیکن وہ انکی دعوت کو قبول نہیں فرمائیں گے، تا کہ یہ بات واضح ہوجائے کہ اس دین کے تابع ہو کر اترے ہیں۔
جب ان کا اس امت کا ایک فرد ہونا ظاہر ہو جائے گا، تو بعد میں اگر وہ امام بھی بن جائیں گے تو کوئی شبہ پیدا نہیں ہوگا۔
وہ کتاب وسنت کے مطابق ہی حکمرانی کریں گے اور اس امت کے ایک فرد متصور ہوں گے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 156 سے ماخوذ ہے۔