حدیث نمبر: 1557
وحَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أُمَّهُ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا ، وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الْآخَرَ ، وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا ، فَقَالَ : " أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ ؟ قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ " .

مجھے بہت سے اساتذہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی یہ حدیث سنائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ پر جھگڑنے والوں کی آواز سنی، جو بلند ہو رہی تھی، ان میں سے ایک دوسرے سے نقصان وضع کرنے کی استدعا کر رہا تھا، اور اس سے اصل رقم میں کچھ کمی کا مطالبہ کر رہا تھا اور دوسرا کہہ رہا تھا، اللہ کی قسم! میں یہ نہیں کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اس کے پاس آئے، اور فرمایا: ”کہاں ہے وہ جو اللہ کی قسم اٹھا رہا تھا، کہ میں نیکی اور بھلائی کا کام نہیں کروں گا؟‘‘ اس نے کہا، میں ہوں، اے اللہ کے رسول! میں اس کی پسند کا کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساقاة / حدیث: 1557
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2705

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
مجھے بہت سے اساتذہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی یہ حدیث سنائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ پر جھگڑنے والوں کی آواز سنی، جو بلند ہو رہی تھی، ان میں سے ایک دوسرے سے نقصان وضع کرنے کی استدعا کر رہا تھا، اور اس سے اصل رقم میں کچھ کمی کا مطالبہ کر رہا تھا اور دوسرا کہہ رہا تھا، اللہ کی قسم! میں یہ نہیں کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اس کے پاس آئے، اور فرمایا: ’’کہاں ہے وہ جو اللہ کی قسم... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3983]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: وضع سے مراد یہ ہے کہ اصل رقم میں کمی کردو، اور اس کا مطالبہ کرنے میں نرمی، اور سہولت سے کام لو، یایہ ہے جو مجھے نقصان ہو گیا ہے، اس کو چھوڑ دو اور جو باقی بچا ہے، اس کی قیمت بھی کم کر دو، جب فریقین کی آواز سن کر حضور تشریف لائے اور فرمایا، مقروض کا مطالبہ منظور نہ کرنے کی قسم اٹھانا، نیکی نہ کرنے کی قسم اٹھانا ہے، جومسلمان کے لیے زیبا نہیں ہے، تو حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آپﷺ کی بات سمجھ گئے، اور عبداللہ بن ابی حدرد کا مطالبہ منظور کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے کہ وہ جو پسند کریں، میں وہی کرنے کے لیے تیار ہوں، پھر آپﷺ کے کہنے پر آدھا قرضہ معاف کر دیا، اس حدیث سے معلوم ہوا، مقروض، قرض خواہ سے قرض کے کل یا جز کی معافی کی درخواست کر سکتا ہے، اور اس کو معاف کر دینا پسندیدہ عمل ہے، اور اس سلسلہ میں سفارش کرنا بھی درست ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3983 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2705 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2705. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آوازیں سنیں جو بلند ہورہی تھیں۔ واقعہ یہ تھا کہ ان میں سے ایک دوسرے سے قرض میں کمی کرنے اور تقاضے میں کچھ نرمی برتنے کے لیے کہہ رہا تھا جبکہ دوسرا کہتاتھا کہ اللہ کی قسم!میں ایسا نہیں کروں گا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ’’اس بات پر اللہ کی قسم اٹھانے والے صاحب کہاں ہیں جو کہتے ہیں کہ میں نیکی کاکام نہیں کروں گا؟‘‘ قسم اٹھانے والے نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ!میں موجود ہوں۔ اب میرا بھائی جو چاہتا ہے مجھے وہی پسند ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2705]
حدیث حاشیہ: آنحضرت ﷺ نے ہر دو میں صلح کا ارشاد فرمایا، اسی سے مقصد باب ثابت ہوا۔
حافظ ؒنے کہا، ان لوگوں کے نام معلوم نہیں ہوئے۔
ترجمہ باب اس سے نکلتا ہے کہ آپ نے اس شخص کو پوچھا تھا وہ کہاں ہے جو اچھی بات نہ کرنے کے لیے قسم کھارہا تھا۔
گویا آپ نے اس کے فعل کو برا سمجھا اور صلح کا اشارہ کیا۔
وہ سمجھ گیا اور آپ کے پوچھتے ہی خود بخود کہنے لگا میرا مقروض جو چاہے وہ مجھ کو منظور ہے۔
اس شخص نے آنحضرت ﷺ کے ادب و احترام میں فوراً ہی آپ کا اشارہ پاکر مقروض کے قرض میں تخفیف کا اعلان کردیا۔
بڑوں کے احترام میں انسان اپنا کچھ نقصان بھی برداشت کرلے تو بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2705 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2705 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2705. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آوازیں سنیں جو بلند ہورہی تھیں۔ واقعہ یہ تھا کہ ان میں سے ایک دوسرے سے قرض میں کمی کرنے اور تقاضے میں کچھ نرمی برتنے کے لیے کہہ رہا تھا جبکہ دوسرا کہتاتھا کہ اللہ کی قسم!میں ایسا نہیں کروں گا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ’’اس بات پر اللہ کی قسم اٹھانے والے صاحب کہاں ہیں جو کہتے ہیں کہ میں نیکی کاکام نہیں کروں گا؟‘‘ قسم اٹھانے والے نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ!میں موجود ہوں۔ اب میرا بھائی جو چاہتا ہے مجھے وہی پسند ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2705]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ’’وہ کہاں ہے جو اچھی بات نہ کرنے کے لیے قسم اٹھا رہا تھا؟‘‘ گویا آپ ﷺ نے اس فعل کو برا خیال کیا اور اسے صلح کا مشورہ دیا۔
وہ آپ کے اشارے کو سمجھ گیا اور خود بہ خود کہنے لگا: میرا مقروض جو چاہے مجھے منظور ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ حاکم ایسے فیصلے کا حکم دے سکتا ہے جس میں فریقین کی بھلائی ہو اگرچہ کسی کے حق ادائیگی میں دیر ہو جائے بشرطیکہ اس کا زیادہ نقصان نہ ہو۔
اگر فریق ثانی راضی نہ ہو تو حاکم مقروض کو پورا حق ادا کرنے کا حکم دیا، چنانچہ صاحب واقعہ نے رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام کرتے ہوئے آپ کا اشارہ پا کر مقروض کے قرض میں کمی کا اعلان کر دیا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2705 سے ماخوذ ہے۔