صحيح مسلم
كتاب المساقاة— سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
باب اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ: باب: قرض میں سے کچھ معاف کر دینا مستحب ہے (اگر قرضدار کو تکلیف ہو)۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا ، فَكَثُرَ دَيْنُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ " ، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ : " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ " .لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عیاض بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کا ان پھلوں میں نقصان ہو گیا جو اس نے خریدے تھے، اس کا قرض بڑھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر صدقہ کرو۔“ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا لیکن وہ بھی قرض کی ادائیگی (جتنی مالیت) تک نہ پہنچا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض داروں سے فرمایا: ”جو تمہیں مل جائے، وہ لے لو، تمہارے لیے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔“
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .عمرو بن حارث نے بکیر بن اشج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آ گئی، چنانچہ اس پر بہت سارا قرض ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے خیرات دو “، تو لوگوں نے اسے خیرات دی، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہو جاتی تو آپ نے (اس کے قرض خواہوں سے) کہا: ” جو پا گئے ہو وہ لے لو، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4534]
(2) رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ بلکہ پوری امت پر انتہائی مہربان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ان کے معاملات کی اصلاح اور ان کی تدبیر فرماتے رہتے، فقراء اور محتاجوں کی بھر پور مدد کرتے۔ آپ کے ہاں اگر کچھ مال وغیرہ ہوتا تو وہ ضرورت مندوں کو دیتے اور کچھ پاس نہ ہوتا تو خوش حال صحابہ اکرم رضی اللہ عنہم سے تعاون اور صدقہ خیرات کرنے کا حکم فرماتے۔
(3) اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ جس شخص کا مال یا پھل وغیرہ کسی ارضی یا سماوی آفت سے تباہ ہو جائیں، اس کے لیے بقدر ضرورت سوال کرنا درست ہے۔ اس سے زیادہ کا سوال کرنا جائز نہیں، نیز کنگال اور آفت زدہ شخص سے اس کے ذمہ قرض کا مطالبہ کیا جائے نہ اسے قید میں ڈالا جائے اور نہ ہمہ وقت اس کے تعاقب ہی میں رہا جائے۔ امام مالک، شافعی اور جمہور اہل علم کا یہی قول ہے لیکن ضروری ہے کہ تنگ دست شخص لوگوں سے قرض لے کر ضائع کرنے والا نہ ہو۔
(4) ظاہر یہ ہے کہ یہ پھل کچا خریدا گیا ہو گا۔ پکنے سے پہلے آفت آ گئی۔ اس وقت تک آپ نے ابھی کچے پھل کے سودے سے منع نہیں فرمایا ہو گا۔ یا ممکن ہے پھل تو وقت ہی پر خردا گیا ہو مگر آفت آتے دیر نہیں لگتی۔ بارش اور آندھی وغیرہ بھی تو پھل کو ضائع کر دیتی ہے۔ نقصان کی معافی کا حکم بھی تو ایسے ہی پھل کے بارے میں ہو گا جو وقت پر خریدا گیا مگر پھر بھی نقصان ہو گیا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص کے پھلوں پر جو اس نے خریدے تھے آفت آ گئی اور اس کا قرض بہت زیادہ ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس پر صدقہ کرو “، چنانچہ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا، اس کی مقدار اتنی نہ ہو سکی کہ اس کا قرض پورا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو تمہیں ملے لے [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4682]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص ۱؎ کے پھلوں میں جو اس نے خریدے تھے، کسی آفت کی وجہ سے جو اسے لاحق ہوئی نقصان ہو گیا اور اس پر قرض زیادہ ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے صدقہ دو “ چنانچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا، مگر وہ اس کے قرض کی مقدار کو نہ پہنچا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا: ” جتنا مل رہا ہے لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 655]
1؎:
ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آ گئی چنانچہ اس پر بہت سارا قرض ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے خیرات دو “ تو لوگوں نے اسے خیرات دی، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی کہ جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے قرض خواہوں سے) فرمایا: ” جو پا گئے وہ لے لو، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہیں ہے ۱؎ “ (یہ گویا مصیبت میں تمہاری طرف سے اس کے ساتھ رعایت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3469]
1۔
اسلامی معاشرے کی تنظیم اس طرح کی جاتی ہے۔
کہ صدقات کو عام اور سود کو ختم کیا جائے۔
بخلاف لادین اور ملحد معاشرے کے اس میں سود کو بڑھایا جاتا ہے۔
اور صدقات کا باقاعدہ کوئی نظام نہیں ہوتا۔
2۔
جو شخص قرض میں دب جائےاس کے ساتھ خواص تعاون کرنا واجب ہے۔
3۔
مفلس اور دیوالیہ ہوجانے والے سے اس کے قرض خواہ اپنے قرضے کی نسبت سے حاضرہ موجودہ مال میں حصہ لے سکیں گے۔
باقی کا وہ مطالبہ نہیں کرسکتے۔
باغ یا کھیت کی بیع جب شرعی اصولوں کے تحت ہوئی ہو تو نقصان کی تلافی کرنا مستحب ہے۔
واجب نہیں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک شخص کو اس کے خریدے ہوئے پھلوں میں گھاٹا ہوا، اور وہ بہت زیادہ مقروض ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ” تم لوگ اسے صدقہ دو “ چنانچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا، لیکن اس سے اس کا قرض پورا ادا نہ ہو سکا، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو مل گیا وہ لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں ہے “ یعنی قرض خواہوں کے لیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2356]
فوائد و مسائل:
(1)
جس شخص پر اتنا زیادہ قرض ہو جائے کہ وہ ادا کرنے سے قاصر ہو تو صدقات سے اس کی مدد کرنی چاہیے۔
ایسے شخص کو زکاۃ بھی دی جا سکتی ہے۔
(2)
اگر قرض زیادہ ہو اور دوسروں کی امداد سے بھی اتنی رقم جمع نہ ہو کہ قرض ادا ہو سکے تو جتنا کچھ موجود ہو وہی قرض خواہوں میں ان کے قرضوں کی نسبت سے تقسیم کر دیا جائے مثلاً: کسی کے پاس کل قرضوں سے نصف رقم ہو تو ہر قرض خواہ کو اس کے قرض سے نصف رقم دے دی جائے۔
(3)
ممکن حد تک وصول ہو جانے کے بعد دیوالیہ سے مزید مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔