صحيح مسلم
كتاب المساقاة— سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا
باب وَضْعِ الْجَوَائِحِ: باب: آفت سے جو نقصان ہو اس کو مجرا دینا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ " ، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ : مَا زَهْوُهَا ؟ قَالَ : تَحْمَرُّ ، وَتَصْفَرُّ ، أَرَأَيْتَكَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ ، بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ ؟ .حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کا پھل رنگت کی تبدیلی سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، ہم نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا، ذهو سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا، سرخ و زرد رنگ ہونا، بتاؤ، اگر اللہ تعالیٰ نے پھل سے محروم کر دیا، تو اپنے بھائی کا مال تمہارے لیے کیسے حلال ہو گیا؟
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُزْهِيَ " ، قَالُوا : وَمَا تُزْهِيَ ؟ قَالَ : تَحْمَرُّ ، فَقَالَ : إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ ، فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ ؟ .حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زهو
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنْ لَمْ يُثْمِرْهَا اللَّهُ ، فَبِمَ يَسْتَحِلُّ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ ؟ " .عبدالعزیز بن محمد نے حمید کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ اسے بارآور نہ کرے تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے مال کو کس بنیاد پر اپنے لیے حلال سمجھے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
کوئی بھی ایسا پہلو جس میں خریدنے والے یا بیچنے والے کے لیے نقصان ہونے کا احتمال ہو، شریعت کی نگاہوں میں ناپسندیدہ ہے، ہاں جائز طور پر سودا ہونے کے بعد نفع نقصان یہ قسمت کا معاملہ ہے۔
تجارت نفع ہی کے لیے کی جاتی ہے۔
لیکن بعض دفعہ گھاٹا بھی ہو جاتا ہے لہٰذا یہ کوئی چیز نہیں۔
آج کل ریس وغیرہ کی شکلوں میں جو دھندے چل رہے ہیں، شرعاً یہ سب حرام اور ناجائز بلکہ سود خوری میں داخل ہیں۔
حدیث کے آخری جملہ کا مطلب ظاہر ہے کہ تم نے اپنا کچا باغ کسی بھائی کو بیچ دیا اور اس سے طے شدہ روپیہ بھی وصول کر لیا۔
بعد میں باغ پھل نہ لاسکا۔
آفت زدہ ہو گیا یا کم پھل لایا تو اپنے خریدار بھائی سے جو رقم تم نے وصول کی ہے وہ تمہارے لیے کس جنس کے عوض حلال ہوگی۔
پس ایسا سودا ہی نہ کرو۔
(1)
اس حدیث میں بھی درخت پر لگے ہوئے کچے پھلوں کی خریدوفروخت کے متعلق وضاحت ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں کیونکہ کوئی بھی ایسا پہلو جس میں خریدنے یا بیچنے والے کے لیے نقصان کا اندیشہ ہے، شریعت کی نظر میں ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔
حضرت انس ؓ نے وضاحت فرمائی ہے کہ پھل جب سرخ یا ذرد ہوجائے یا کسی حد تک کھانے کے قابل ہوجائے تو اسے فروخت کرنا جائز ہے، اس کے بعد نفع یا نقصان قسمت کا معاملہ ہے۔
(2)
حدیث کے آخری جملے کا مطلب بھی واضح ہے کہ تم نے کچا باغ اپنے بھائی کو فروخت کردیا اور طے شدہ رقم وصول کرلی بعد میں باغ پھل نہ لایایا آفت زدہ ہوگیا تو آپ نے جو رقم وصول کی ہے وہ کس طرح اپنے لیے حلال خیال کرو گے؟ (3)
اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے ہاں دوتین سال تک باغات کے جو ٹھیکے ہوتے ہیں شرعاً یہ جائز نہیں۔
یعنی جب کھجور کا پھل ظاہر ہو کر پختگی پر آنے کے لیے سرخ یا زرد ہو جائے تو اس پر زها النخل کا لفظ بولا جاتا ہے۔
اور اس کا موسم اساڑھ کا مہینہ ہے۔
اس میں عرب میں ثریا ستارہ صبح کے وقت نکلنے لگتا ہے۔
ابوداؤد میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے: إذا طلع النجم صباحا رفعت العاهة عن کل بلد نجم سے مراد ثریا ہے یعنی جس موسم میں یہ ستارہ صبح کے وقت نکلنا شروع ہو جاتا ہے تو وہ موسم اب پھلوں کے پکنے کا آگیا، اور اب پھلوں کے لیے خطرات کا زمانہ ختم ہو گیا۔
و النجم هو الثریا و طلوعها یقع في أول الصیف و ذلك عند اشتداد الحر في بلاد الحجاز و ابتداء نضج الثمار و أخرج أحمد من طریق عثمان بن عبداللہ بن سراقة سألت ابن عمر رضی اللہ عنهما عن بیع الثمار فقال نهی رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم عن بیع الثمار حتی تذهب العاهة قلت و متی ذلك قال حتی تطلع الثریا۔
(نیل)
اس عبار ت کا اردو مفہوم وہی ہے جو پہلے لکھا گیا ہے۔
(1)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں: اس عنوان سے مراد کھجوروں کے درخت فروخت کرنا ہے اور قبل ازیں پھل فروخت کرنے کا ذکر تھا،اس بنا پر یہ تکرار نہیں۔
(فتح الباري: 502/4)
لیکن ہمارے نزدیک اس عنوان سے مراد کھجور کا پھل فروخت کرنا ہی ہے کیونکہ زہو کا تعلق کھجور کے اس پھل سے ہوتا ہے جو تازہ ہو۔
قبل ازیں پھلوں کا ذکر تھا اور اس عنوان میں کھجور کے پھل کا بطور خاص ذکر ہوا ہے کیونکہ عر بوں کے ہاں علاقۂ حجاز میں کھجور ہی بکثرت پائی جاتی تھی۔
(2)
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ سوال کرنے والے حضرت انس ؓ کے شاگرد خاص حضرت حمید ہیں اور جواب دینے والے حضرت انس ؓ ہیں۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2208)
(3)
بہرحال قابل انتفاع ہونے سے قبل کسی قسم کے پھل کی خریدوفروخت درست نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے کسی ایک فریق کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے جس کی وضاحت آئندہ آئے گی۔
پختہ ہونے کا مطلب یہ کہ اس کے رنگ سے اس کی پختگی ظاہر ہوجائے۔
اس سے پہلے بیچنا اس لیے منع ہوا کہ کبھی کوئی آفت آتی ہے تو سارا میوہ خراب ہوجاتا ہے یا گر جاتا ہے۔
اب گویا مشتری کا مال مفت کھالینا ٹھہرا۔
(1)
امام بخاری ؓ کا ان احادیث سے خریدوفروخت کے مسائل بیان کرنا مقصود نہیں کیونکہ اس قسم کے احکام تو کتاب البیوع میں بیان ہوں گے، اس مقام پر ایک اہم مسئلے کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ جب پھلوں میں پختگی نمایاں ہو جائے اور حاکم وقت کی طرف سے کوئی اندازہ کرنے والا اپنے اندازے سے عشر کا تعین کر دے جس کی وجہ سے غرباء و مساکین کا حق پھلوں میں بن جائے تو اس کے باوجود بھی انہیں فروخت کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ان کا حق، یعنی عشر و زکاۃ اپنے دوسرے کسی مال سے ادا کر دے، نیز ایسے حالات میں فروخت کرنے سے صدقہ وغیرہ ساقط نہیں ہو گا۔
(2)
واضح رہے کہ پھلوں وغیرہ کو فروخت کرنے کی تین صورتیں ہیں: ٭ پختگی کے بعد صرف پھل فروخت کیا جائے۔
ایسا کرنا جائز ہے، اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں۔
٭ پختگی کے بعد درختوں سمیت پھل فروخت کرنا، اس صورت میں صلاحیت سے پہلے بھی انہیں فروخت کیا جا سکتا ہے۔
٭ صرف درختوں کو فروخت کرنا، اس صورت میں پھل بھی خریدار کا ہو گا الا یہ کہ فروخت کنندہ پھل خود رکھنے کی شرط کرے۔
(3)
کھیتی کی خریدوفروخت کی بھی یہ تینوں صورتیں ہوں گی، یعنی کھیتی میں صلاحیت پیدا ہونے کے بعد صرف پیداوار فروخت کرنا یا زمین سمیت اسے فروخت کرنا یا اکیلی زمین بیچنا۔
(عمدةالقاري: 538/6)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ پکنے کے قریب ہو جائے، اور انگور کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو جائے، اور غلے کی بیع سے (بھی منع کیا ہے) یہاں تک کہ وہ سخت ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2217]
فوائد و مسائل:
(1)
مختلف اجناس کا قابل فروخت ہونا مختلف انداز سے ظاہر ہوتا ہے۔
(2)
باغ کے پھل جب کچے ہوتے ہیں تو سبز ہوتے ہیں، بعد میں آہستہ آہستہ ان کا اصلی رنگ ظاہر ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
اس وقت ان کے ضائع ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
اس وقت ان پھلوں کو بیچنا درست ہے۔
رنگ بدلنے سے اصل مقصد یہی ہے کہ اتنے بڑے ہوجائیں کہ موسمی خطرات سے نکل آئیں۔
(3)
گندم وغیرہ کی بالیوں میں دانے نرم و نازک ہوتے ہیں، بعد میں آہستہ آہستہ سخت ہو جاتے ہیں۔
اس وقت ان کے ضائع ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
اور یہ بھی اندازہ ہوجاتا ہےکہ کھیت میں کتنی پیداور ہوگی۔
اس وقت کھڑی فصل بیچنا جائز ہے، اس سے پہلے نہیں۔
(4)
پھل یا فصل کی صلاحیت ظاہر ہونے کے بعد بھی فروخت کرنے کے بعد اگر کوئی آفت آجائے، مثلاً: آندھی طوفان وغیرہ جس سے فصل تباہ ہوجائے تو فروخت کرنے والے کو چاہیے کہ قیمت وصول نہ کرے، اگر وصول کرلی ہے تو واپس کردے۔ (دیکھیے، حدیث: 2219)
(5)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود معناً صحیح، قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (سنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، رقم 2217، و الإرواء للألبانی، رقم: 1364، 1366، والموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد 12/ 37)
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمار حتى تزهي. فقيل له: يا رسول الله وما تزهي؟ قال ”حين تحمر . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کے پکنے سے پہلے انہیں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ پوچھا: گیا: یا رسول اللہ! پکنے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرخ ہو جانا . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 496]
[وأخرجه البخاري 1488، 2198، ومسلم 1555/15، من حديث مالك به وصرح حميد بالسماع عند البخاري 2197]
تفقه:
➊ چونکہ اس طرح کے سودے میں کسی ایک فریق کے شدید نقصان کا اندیشہ رہتا ہے اور شدید اختلاف پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے لہٰذا عام لوگوں کو اس سے منع کر دیا گیا ہے۔
➋ اسلامی تجارت کے خصائص میں سے ہے کہ فریقین میں سے کسی فریق کو بھی کوئی نقصان نہ ہو۔
➌ شریعت اسلامیہ میں ہر انسان کے حقوق کا خاص خیال رکھا گیا ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے ضرر سے محفوظ رہیں۔
➍ ایک چیز جو بعد میں نقصان دیتی ہے، سدِ ذرائع کے طور پر اس کے واقع ہونے سے پہلے منع کیا جا سکتا ہے۔
امام بخاری ؒ کا موقف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر پختگی سے قبل پھلوں کی خریدوفروخت درست نہیں، تاہم اگر کوئی پختگی سے پہلے ان کی خریدوفروخت کرتا ہے تو ایسا کرنے سے بیع کا معاملہ درست ہوگا لیکن آفت آجانے (بیماری لگنے)
کی صورت میں اس کا تاوان بیچنے والے کے ذمے ہوگا، یعنی فروخت کرنے والے کو خریدار کی کل رقم واپس کرنی ہوگی۔
اس سلسلے میں امام بخاری ؒ نے امام زہری ؒ والا موقف اختیار کیا ہے جیسا کہ آئندہ روایت میں اس کی وضاحت ہے۔
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ آفت کی نوعیت کو دیکھا جائے، اگر ایک تہائی سے کم نقصان ہوا ہے تو اس کا لحاظ نہیں ہوگا اور اگر نقصان ایک تہائی سے زیادہ ہوتو اس کی تلافی کی جائے گی جو بیچنے والے کے ذمے ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی اس کے بھی راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کو سیاہ رنگ اختیار کرنے سے پہلے اور دانے کو سخت ہونے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 716»
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في بيع الثمار قبل أن يبدو صلاحها، حديث:3371، والترمذي، البيوع، حديث:1228، وابن ماجه، التجارات، حديث:2217، وأحمد:3 /221، وابن حبان (الإحسان):7 /231 /حديث:4972، والحاكم:2 /19، حميد الطويل مدلس وعنعن.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور اس پر مفصل بحث کی ہے جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی درست معلوم ہوتی ہے‘ لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی وجہ سے قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۱۲ /۳۷‘ والإرواء للألباني‘ رقم: ۱۳۶۴. ۱۳۶۶) 2.گندم وغیرہ کے دانے بالیوں میں نرم و نازک ہوتے ہیں‘ پھر آہستہ آہستہ سخت ہو جاتے ہیں۔
اس وقت ان کے ضائع ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے‘ نیز یہ بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کھیت میں کتنی پیداوار ہو گی۔
اس وقت کھڑی فصل بیچنا جائز ہے‘ اس سے قبل نہیں۔
لیکن پھل یا فصل کی صلاحیت ظاہر ہونے کے بعد بھی فروخت کرنے کے بعد اگر کوئی آفت وغیرہ آ جاتی ہے جس سے فصل تباہ ہو جاتی ہے تو فروخت کرنے والے کو چاہیے کہ قیمت واپس کر دے جیسا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص باغ کا پھل وغیرہ فروخت کرے‘ پھر اس پر آفت آ جائے تو بیچنے والے کو چاہیے کہ اپنے بھائی کے مال سے کچھ نہ لے‘ یعنی اس کی قیمت وصول نہ کرے۔
آپ نے فرمایا: ’’وہ اپنے مسلمان بھائی کا مال کس وجہ سے لیتا ہے؟‘‘ (صحیح مسلم‘ المساقاۃ‘ باب وضع الجوائح‘ حدیث:۱۵۵۴) نیز اگلی روایت سے بھی اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔
بنابریں ان احادیث کی رو سے فروخت کرنے والے کے لیے آفت آنے کے بعد فصل کی قیمت اپنے پاس رکھنا جائز نہیں ہے۔
واللّٰہ أعلم۔