حدیث نمبر: 1540
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِمْ مِنْهُمْ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ، وَقَالَ : ذَلِكَ الرِّبَا ، تِلْكَ الْمُزَابَنَةُ " ، إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ ، يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا " .

سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے بشیر بن یسار سے، انہوں نے اپنے گھرانے سے تعلق رکھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ سے، جن میں سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ اور آپ نے فرمایا: ”یہ سود ہے، یہی (بیع) مزابنہ (کھجور کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنا) ہے۔“ ہاں، البتہ آپ نے عریہ کو بیچنے یا خریدنے کی اجازت دی (عَرِیہ یہ ہے) کہ کوئی خاندان ایک دو کھجور کے درخت (جو بطور عطیہ دے گئے) ان سے حاصل ہونے والی خشک کھجور کے اندازے کے مطابق لے لیں تاکہ وہ اس کا تازہ پھل کھائیں (اور جنہیں درخت دیے گئے ہیں، انہیں خشک کھجور دے دیں)۔

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا " .

لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی، انہوں نے بشیر بن یسار سے اور انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے (بعض) صحابہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کو (اس سے حاصل ہونے والی) خشک کھجور کی مقدار کے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى ، غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاقَ ، وَابْنَ الْمُثَنَّى جَعَلَا مَكَانَ الرِّبَا : الزَّبْنَ ، وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : الرِّبَا .

محمد بن مثنیٰ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر سب نے (عبدالوہاب) ثقفی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے: مجھے بشیر بن یسار نے اپنے خاندان سے تعلق رکھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ آگے یحییٰ سے سلیمان بن بلال کی حدیث (3887) کے مانند حدیث ذکر کی۔ لیکن اسحاق اور ابن مثنیٰ نے لفظ ربا کی بجائے لفظ زبن (مزابنہ) استعمال کیا ہے، تاہم ابن ابی عمر نے ربا ہی کہا۔

وحَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .

سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے بشیر بن یسار سے، انہوں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔۔ انہی (سلیمان، لیث اور ثقفی) کی حدیث کے ہم معنی۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ ، حَدَّثَاهُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ، إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا ، فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ " .

ولید بن کثیر نے کہا: مجھے بنو حارثہ کے مولیٰ بشیر بن یسار نے حدیث بیان کی کہ رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما دونوں نے اسے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ، یعنی تازہ کھجور کی خشک کھجور کے عوض بیع سے منع فرمایا، سوائے عرایا والوں کے کیونکہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البيوع / حدیث: 1540
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1540 | سنن ابي داود: 3363

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
بشیر بن یسار اپنے محلہ کے بعض صحابہ سے بیان کرتے ہیں، ان میں حضرت سہل بن ابی حشمہ ﷺ بھی داخل ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تازہ پھل کو خشک پھل کے عوض بیچنے سے منع فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ سود ہے، یہ مزابنہ ہے۔‘‘ مگر آپﷺ نے عریہ بیچنے کی رخصت دی، یہ ایک دو کھجوریں ہیں یعنی ان کا پھل جسے کوئی گھرانہ، اندازہ کر کے خشک کھجوروں کے عوض لے لیتا ہے تاکہ تازہ کھجوریں کھا سکیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3887]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ کی حرمت کا سبب سود قرار دیا ہے اور ظاہر بات ہے اگر تازہ کھجوریں خشک کھجوروں کے عوض برابر، برابر بھی دی جائیں تو تازہ کھجوروں نے خشک ہو کر کم ہونا ہے۔
اس طرح کمی و بیشی ہو جائے گی جو سود ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1540 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3363 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بیع عرایا جائز ہے۔`
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (درخت پر پھلے) کھجور کو (سوکھے) کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے لیکن عرایا میں اس کو «تمر» (سوکھی کھجور) کے بدلے میں اندازہ کر کے بیچنے کی اجازت دی ہے تاکہ لینے والا تازہ پھل کھا سکے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3363]
فوائد ومسائل:
عرایا عریہ کی جمع ہے۔
اس کا مطلب ومفہوم یہ ہے کہ عاریتا کسی کھجور کے ایک یا دو درخت دے دینا یہ حسن سلوک کا عمل ہے۔
جب اپنے باغ کے درختوں میں سے کوئی درخت عاریتاً ہمسایئوں یا دوسرے مستحقین کو دیا جائے تو ان کا بار بار آنا جانا شاق گزر سکتا ہے۔
اپنے ہی درختوں کے دیئے ہوئے تازہ پھل کا خشک کھجور سے تبادلہ رسول اللہ ﷺ نے جائز قرار دیا۔
تاکہ حسن سلوک کا عمل بار بار آنے جانے کی زحمت کے سبب منقطع نہ ہوجائے۔
غیر متعین مقدار کے تازہ پھل کی خشک پھل سےبیع کو ممنوع قرار دیا گیا۔
توعرایا کے مستحسن اقدام کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا عرایا میں تازہ کھجور کا خشک کھجور سے تبادلہ کوئی تجارتی عمل نہیں۔
رسول اللہ ﷺنے اس اجازت کو پانچ وسق کی مقدار تک محدود فرما دیا ہے۔
(صحیح البخاري، باب بیع التمر علی رؤوس النخل بالذھب أو الفضة، حدیث:2190)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3363 سے ماخوذ ہے۔