صحيح مسلم
كتاب البيوع— لین دین کے مسائل
باب تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلاَّ فِي الْعَرَايَا: باب: تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا حرام ہے مگر عریہ میں درست ہے۔
قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا " ، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ : أَنْ تُبَاعَ .حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی رخصت دی ہے، یعنی فروخت کرنے کی عرایا کی تفسیر اگلے باب میں آ رہی ہے۔
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ " ، وَالْمُزَابَنَةُ : أَنْ يُبَاعَ ثَمَرُ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ ، وَالْمُحَاقَلَةُ : أَنْ يُبَاعَ الزَّرْعُ بِالْقَمْحِ ، وَاسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ بِالْقَمْحِ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ، وَلَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ " . وقَالَ سَالِمٌ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِالرُّطَبِ أَوْ بِالتَّمْرِ ، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ " .حضرت سعید المسیب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، مزابنہ یہ ہے کہ درختوں کا پھل، خشک کھجوروں کے عوض بیچا جائے اور محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی، گندم کے عوض فروخت کی جائے یا زمین گندم کے عوض بٹائی پر دی جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ " .حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے مالک کو اجازت دی ہے کہ وہ اسے اندازہ کر کے چھواروں کے عوض بیچ دے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يُحَدِّثُ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، حَدَّثَهُ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا " .سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی کہا: مجھے نافع نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے بارے میں رخصت دی (عریہ یہ ہے) کہ گھر والے (اپنی طرف سے دیے گئے درخت کے پھل کا) خشک کھجور کے حوالے سے اندازہ لگا کر اسے لے لیں تاکہ وہ تازہ کھجور کھا سکیں۔
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَال : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ،عبدالوہاب نے ہمیں کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے: مجھے نافع نے اسی سند سے اسی کے مانند خبر دی۔
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : وَالْعَرِيَّةُ : النَّخْلَةُ تُجْعَلُ لِلْقَوْمِ ، فَيَبِيعُونَهَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا .یحییٰ بن سعید اسی سند سے بیان کرتے ہیں، ہاں اس میں یہ ہے کہ عریہ وہ کھجور ہے، جو کسی قوم کو دی جاتی ہے تو وہ اسے اندازہ کر کے خشک کھجوروں کے عوض بیچ دیتے ہیں۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا " . قَالَ يَحْيَى : الْعَرِيَّةُ : أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخَلَاتِ لِطَعَامِ أَهْلِهِ رُطَبًا بِخَرْصِهَا تَمْرًا .لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کو (اس سے حاصل ہونے والی) خشک کھجور کی مقدار کے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی۔ یحییٰ نے کہا: عریہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے گھر والوں کی خوراک کے لیے کھجور کا تازہ پھل (اس سے حاصل ہونے والی) خشک کھجور کے اندازے کے عوض خرید لے۔ (یہ تعریف تازہ پھل لینے والے کے نقطہ نظر سے ہے۔ مفہوم ایک ہی ہے)۔
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلًا " .عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی کہ اس (کے پھل) کا اندازہ کرتے ہوئے اسے کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض فروخت کر دیا جائے۔
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : أَنْ تُؤْخَذَ بِخَرْصِهَا ،یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث روایت کی، اور (فروخت کر دیا جائے کی بجائے) ”حاصل کر لیا جائے“ کے الفاظ بیان کیے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا .ایوب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی بیع میں اس کے اندازے کی مقدار (کے حساب سے لین دین) کی اجازت دی۔