حدیث نمبر: 1536
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى أَوْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ " .

ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس وقت تک) درخت پر لگے پھل کو بیچنے سے منع فرمایا۔۔ یا کہا: ہمیں منع فرمایا۔۔ یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو جائے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ . ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُول : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " .

عمرو بن دینار نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس وقت تک) درخت پر لگے پھل کو بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَنْ : الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُخَابَرَةِ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ، وَلَا يُبَاعُ إِلَّا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ ، إِلَّا الْعَرَايَا " .

سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقالہ، مزابنہ، مخابرہ اور (پکنے کی) صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا اور (حکم دیا کہ) عرایا (کی بیع) کے سوا (پھل یا کھیتی کو) صرف دینار اور درہم کے عوض ہی فروخت کیا جائے۔

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .

امام صاحب نے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ ، وَالْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُطْعِمَ ، وَلَا تُبَاعُ إِلَّا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ ، إِلَّا الْعَرَايَا " . قَالَ عَطَاءٌ : فَسَّرَ لَنَا جَابِرٌ ، قَالَ : أَمَّا الْمُخَابَرَةُ : فَالْأَرْضُ الْبَيْضَاءُ ، يَدْفَعُهَا الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُل ، فَيُنْفِقُ فِيهَا ، ثُمَّ يَأْخُذُ مِنَ الثَّمَرِ ، وَزَعَمَ أَنَّ الْمُزَابَنَةَ : بَيْعُ الرُّطَبِ فِي النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا ، وَالْمُحَاقَلَةُ فِي الزَّرْعِ : عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ يَبِيعُ الزَّرْعَ الْقَائِمَ بِالْحَبِّ كَيْلًا .

مخلد بن یزید جزری نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ، محاقلہ، مزابنہ اور کھانے کے قابل ہونے سے پہلے پھلوں کی فروخت کرنے سے منع فرمایا اور (حکم دیا کہ پھلوں اور اجناس کی) صرف درہم و دینار ہی سے بیع کی جائے، سوائے عرایا کے۔ عطاء نے کہا: حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے ان الفاظ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: مخابرہ سے مراد وہ چٹیل زمین ہے جو ایک آدمی دوسرے کے حوالے کرے تو وہ اس میں خرچ کرے، پھر وہ (زمین دینے والا) اس کی پیداوار میں سے حصہ لے۔ اور ان کا خیال ہے کہ مزابنہ سے مراد کھجور پر لگی ہوئی تازہ کھجور کی خشک کھجور (کی معینہ مقدار) کے عوض بیع ہے اور محاقلہ یہ ہے کہ آدمی کھڑی فصل کو ماپے ہوئے غلے کے عوض بیچ دے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، قَالَ ابْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُخَابَرَةِ ، وَأَنْ تُشْتَرَى النَّخْلُ حَتَّى تُشْقِهَ " ، وَالْإِشْقَاهُ : أَنْ يَحْمَرَّ ، أَوْ يَصْفَرَّ ، أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ شَيْءٌ ، وَالْمُحَاقَلَةُ : أَنْ يُبَاعَ الْحَقْلُ بِكَيْلٍ مِنَ الطَّعَامِ مَعْلُومٍ ، وَالْمُزَابَنَةُ : أَنْ يُبَاعَ النَّخْلُ بِأَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ ، وَالْمُخَابَرَةُ : الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ ، قَالَ زَيْدٌ : قُلْتُ لِعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَذْكُرُ هَذَا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .

زید بن ابی انیسہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سے ابوولید مکی نے حدیث بیان کی جبکہ وہ عطاء بن ابی رباح کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں (زید) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ اور اس بات سے منع فرمایا ہے کہ اشقاہ سے پہلے (درخت پر لگا ہوا) کھجور (کا پھل) خریدا جائے۔ اشقاہ یہ ہے کہ اس میں سرخی یا زردی پیدا ہو جائے یا اس میں سے کچھ کھایا جا سکے (سارا پھل بیک وقت نہیں بکتا، کچھ کھانے کے قابل ہو جائے تو بیع جائز ہے)۔ اور محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کی بیع غلے کی متعین مقدار (صاع، وسق وغیرہ یا وزن) کے ساتھ کی جائے اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجور کی بیع خشک کھجور کی (ماپ یا تول کے ذریعے سے) متعین مقدار کے ساتھ کی جائے اور مخابرہ یہ ہے کہ زمین کو (جواز کی شروط پوری کیے بغیر) تہائی، چوتھائی یا اس طرح کے (کسی متعین) حصے کے عوض (بٹائی پر) دیا جائے۔ زید نے کہا: میں نے (ساتھ بیٹھے) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ نے (بھی) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ : الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُخَابَرَةِ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُشْقِحَ " ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعِيدٍ : مَا تُشْقِحُ ؟ قَالَ : تَحْمَارُّ ، وَتَصْفَارُّ ، وَيُؤْكَلُ مِنْهَا .

سلیم بن حیان نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن میناء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ، محاقلہ، مخابرہ اور رنگ تبدیل ہونے (اشقاح) سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا۔ (سلیم بن حیان نے) کہا: میں نے سعید سے پوچھا: اشقاح سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: ان میں سرخی اور زردی پیدا ہو جائے اور اس میں سے کھایا جا سکے۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ : الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُعَاوَمَةِ ، وَالْمُخَابَرَةِ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : بَيْعُ السِّنِينَ هِيَ : الْمُعَاوَمَةُ ، وَعَنِ الثُّنْيَا ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا " .

حماد بن زید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ایوب نے ابوزبیر اور سعید بن میناء سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، معاومہ، مخابرہ۔۔ ان دونوں (ابوزبیر اور سعید) میں سے ایک نے کہا: کئی سالوں کے لیے بیع کرنا ہی معاومہ ہے۔ اور استثاء والی بیر سے منع فرمایا اور عرایا (کو خشک پھل کے عوض بیچنے) کی اجازت دی۔

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْكُرُ بَيْعُ السِّنِينَ : هِيَ الْمُعَاوَمَةُ .

امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے یہی روایت حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہما کے شاگرد ابو زبیر سے بیان کرتے ہیں۔ اور اس میں معاومہ کی تشریح بیان نہیں کی گئی۔

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ، وَعَنْ بَيْعِهَا السِّنِينَ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ " .

رباح بن ابی معروف نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عطاء سے سنا، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو (اس کی اپنی پیداوار کے بدلے کرائے پر دینے)، اس (کے پھل) کو کئی سالوں کے لیے بیچنے اور پکنے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا۔

وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " .

حماد بن زید نے ہمیں مطروراق سے حدیث بیان کی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ لَقَبُهُ عَارِمٌ وَهُوَ أَبُو النُّعْمَانِ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ ، فَلْيَزْرَعْهَا ، فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا ، فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ " .

مہدی بن میمون نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں مطروراق نے عطاء سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی زمین ہو تو (بہتر ہے) وہ اسے خود کاشت کرے۔ اگر وہ خود کاشت نہ کرے تو اپنے بھائی کو کاشتکاری کے لیے دے دے۔“

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ لِرِجَالٍ فُضُولُ أَرَضِينَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ ، فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ ، فَإِنْ أَبَى ، فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ " .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں کے پاس ضرورت سے زائد، فالتو زمینیں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس ضرورت سے زائد فالتو زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے، یا اپنے مسلمان بھائی کو عطیہ و بخشش کے طور پر دے دے، اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہے تو پھر اپنے پاس ہی رکھے۔‘‘

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْخَذَ لِلْأَرْضِ أَجْرٌ ، أَوْ حَظٌّ " .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کا کرایہ اور متعین حصہ لینے سے منع فرمایا۔

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ ، فَلْيَزْرَعْهَا ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا وَعَجَزَ عَنْهَا ، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ ، وَلَا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ " .

عبدالملک نے ہمیں عطاء سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے، اگر وہ اس میں کاشتکاری کی استطاعت نہ پائے اور عاجز ہو تو (بہتر ہے) اپنے کسی مسلمان بھائی کو عاریتاً دے دے اور اس کے ساتھ زمین کی اجرت کا معاملہ نہ کرے۔“

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : سَأَلَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَطَاءً ، فَقَالَ : أَحَدَّثَكَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ ، فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ ، وَلَا يُكْرِهَا " ، قَالَ : نَعَمْ .

ہمام نے حدیث بیان کی، کہا: سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے سوال کیا اور کہا: کیا آپ کو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو (تو بہتر ہے) وہ اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشتکاری کے لیے دے دے اور اسے کرائے پر نہ دے؟“ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ " .

عمرو (بن دینار) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ (غلط شرطوں کے ساتھ بٹائی پر دینے) سے منع فرمایا۔

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ ، فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ ، وَلَا تَبِيعُوهَا " ، فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ : مَا قَوْلُهُ : وَلَا تَبِيعُوهَا : يَعْنِي الْكِرَاء ، قَالَ : نَعَمْ .

سعید بن میناء نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس فالتو زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشتکاری کے لیے دے دے اور اسے (استفادے کے لیے) فروخت نہ کرو۔“ میں (سلیم بن حیان) نے سعید سے پوچھا: ”اسے فروخت نہ کرو“ سے کیا مراد ہے؟ کیا آپ کی مراد کرایہ پر دینے سے تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنُصِيبُ مِنَ الْقِصْرِيِّ ، وَمِنْ كَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ ، فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ فَلْيُحْرِثْهَا أَخَاهُ ، وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا " .

زہیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین بٹائی پر دیتے اور (باقی ساری پیداوار میں سے حصے کے علاوہ) گاہے جانے کے بعد خوشوں میں بچ جانے والی گندم اور اس طرح کی چیزیں (پانی کی گزرگاہوں کے ارد گرد ہونے والی پیداوار) وصول کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو کاشتکاری کے لیے (عاریتاً) دے دے ورنہ اسے (خالی) پڑا دہنے دے۔“

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، جميعا عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ ابْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيّ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ الْأَرْضَ بِالثُّلُثِ ، أَوِ الرُّبُعِ بِالْمَاذِيَانَاتِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ ، فَلْيَزْرَعْهَا ، فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا ، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ ، فَإِنْ لَمْ يَمْنَحْهَا أَخَاهُ ، فَلْيُمْسِكْهَا " .

ہشام بن سعد نے مجھے حدیث بیان کی کہ انہیں ابوزبیر مکی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض، نالوں (کے کناروں کی پیداوار) کے عوض زمین لیتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو تو (بہتر ہے) وہ اسے کاشت کرے۔ اگر وہ خود اسے کاشت نہیں کرتا تو اپنے بھائی کو عاریتاً دے دے، اگر وہ اسے اپنے بھائی کو بھی نہیں دیتا تو اس کو اپنے پاس رکھ لے۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ ، فَلْيَهَبْهَا أَوْ لِيُعِرْهَا " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس (فالتو) زمین ہو تو وہ اسے ہبہ کر دے یا عاریتاً (کچھ وقت کے لیے) دے دے۔‘‘

وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ فَلْيُزْرِعْهَا رَجُلًا .

عمار بن رزَیق نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے کہا: ”وہ اسے کاشت کرے یا کسی اور آدمی کو کاشتکاری کے لیے دے۔“

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا ، حَدَّثَهُ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " . قَالَ بُكَيْرٌ : وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : كُنَّا نُكْرِي أَرْضَنَا ، ثُمَّ تَرَكْنَا ذَلِكَ حِينَ سَمِعْنَا حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین بٹائی پر دینے سے منع فرمایا۔ بکیر کہتے ہیں، مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا کہ ہم زمین بٹائی پر دیتے تھے۔ پھر جب ہم نے رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سنی تو ہم نے اسے ترک کر دیا۔

وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالی زمین کو دو تین سال کے لیے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ : عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ .

سعید بن منصور، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حمید اعرج سے حدیث بیان کی، انہوں نے سلیمان بن عتیق سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کی بیع سے منع فرمایا۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: پھلوں کی کئی سال کے لیے بیع سے (منع فرمایا)۔

وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ نُعَيْمٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْهَى عَنْ : الْمُزَابَنَةِ ، وَالْحُقُولِ " ، فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : الْمُزَابَنَةُ : الثَّمَرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْحُقُولُ : كِرَاءُ الْأَرْضِ .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ مزابنہ اور حُقول سے منع فرما رہے تھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: مزابنہ سے مراد (کھجور پر لگے) پھل کی خشک کھجور سے بیع ہے اور حقول سے مراد زمین کو (اس کی پیداوار کے متعین حصے کے عوض) بٹائی پر دینا ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البيوع / حدیث: 1536
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2196 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2196. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا جب تک وہ مشقح نہ ہوجائیں۔ عرض کیا گیا مشقح کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے فرمایا:جب تک وہ سرخ یا زرد اور کھانے کے قابل نہ ہوجائیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2196]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت انس ؓ کی روایت میں لفظ زهو استعمال ہوا ہے۔
جب کھجور کا پھل ظاہر ہوکر پختگی پر آنے کے لیے سرخ یا زرد ہوجائے تو اس حالت پر یہ لفظ بولا جاتا ہے اور اس کا موسم ہاڑ کا مہینہ ہے۔
اس وقت ثریا ستارہ صبح کے وقت طلوع ہونے لگتا ہے۔
طلوع ثریا اس کے پختہ ہونے کی علامت ہے۔
اس وقت پھلوں کے لیے خطرات کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔
حجاز کے علاقے میں اس وقت سخت گرمی ہوتی ہے اور پھل وغیرہ پک جاتے ہیں۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں: امام بخاری ؒ نے حسن ترتیب سے ان احادیث کو بیان کیا ہے۔
حضرت زید بن ثابت ؓ کی حدیث میں ممانعت کا سبب بیان ہوا ہے اور حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں ممانعت کی صراحت ہے، پھر حضرت انس اور حضرت جابر ؓ کی احادیث میں اس حکم امتناعی کی انتہا کا بیان ہے جہاں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
(فتح الباري: 502/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2196 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1316 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1316- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قدرتی آفت لاحق ہونے کی صور ت میں کچھ ادئیگی معاف کرنے کاذکر کیا۔ سفیان کہتے ہیں: مجھے صرف یہی یاد ہے، راوی نے اس میں کچھ چیز معاف کرنے کاذکر کیا ہے مجھے یہ یاد نہیں ہے، کتنا حصہ معاف کرنا چاہئے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1316]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر کسی نے مال فروخت کر دیا ہو، اس کی کٹائی سے پہلے آفت آ جائے اور مال کو نقصان پہنچ جائے، تو اصل مالک کو چاہیے کہ کچھ مال یا کچھ پیسے چھوڑ دے، اسلام انسانیت کا ہمدرد دین ہے، کسی کو ایذا نہیں دیتا۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1315 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1318 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1318 - سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سالوں کے حساب سے سودا کرنے سے منع کیا ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1318]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایک فصل کی کئی سال کے لیے بیع کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ درمیان میں فصل پر مختلف آفتیں آتی رہتی ہیں بھی سیلاب تو کبھی بیماری آ جاتی ہے، اس لیے اسلام کئی سالوں کی بیع سے روکتا ہے، اور اسلام امن چاہتا ہے، بلکہ ہر سال فصل کو بیچنا چاہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1317 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1329 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1329- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ، محاقلہ اور مخابرہ سے منع کیا ہے اور اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ کھجور کے پک کر تیار ہونے سے پہلے اسے فروخت کیا جائے اور یہ کہ اسے صرف دینار یا درہم کے عوض میں فروخت کیا جائے البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کے بارے میں اجازت دی ہے۔ مخابرہ سے مراد یہ ہے کہ زمین کو ایک تہائی یا چوتھائی پیدا وار کے عوض میں کرایہ پر دیا جائے۔ محاقلہ سے مراد یہ ہے کہ گندم کے کھیت میں موجود بالین کو فروخت کردیا جائے۔ مزابنہ سے مراد یہ ہے کھجور کے عوض میں درخت پر لگی ہوئی کھجور کو فروخت کردیا جائے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1329]
فائدہ:
اس حدیث میں بیوع کی بعض قسموں کا بیان ہے، اب بہت زیادہ جدید معاشی مسائل کھڑے ہو چکے ہیں، بیوع اور سود کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں، بہت زیادہ کم پڑھے لکھے لوگ حرام کاروبار میں پھنس چکے ہیں، ان پر تفصیلی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ وقت اور صحت میں برکت ڈالے، اس موضوع پر مستقل "اہم جدید معاشی مسائل" کے عنوان سے کتاب لکھی جائے گی، ان شاء اللہ۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1327 سے ماخوذ ہے۔