حدیث نمبر: 153
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ يَهُودِيٌّ ، وَلَا نَصْرَانِيٌّ ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ " .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت (امّتِ دعوت) کا کوئی ایک بھی فرد، یہودی ہو یا عیسائی، میرے متعلق سن لے، پھر وہ مر جائے اور اس دین پر ایمان نہ لائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا، تو وہ اہل جہنم ہی سے ہو گا۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 153
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (15474)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس ذات کے قبضے میں میری جان ہے اس کی قسم! اس امّت کا (اس دور کا) جو کوئی بھی یہودی یا نصرانی میری خبر سن لے (میری نبوت رسالت کی دعوت اس کو پہنچ جائے) اور پھر وہ (مجھ پر اور) میرے لائے ہوئے پیغام پر ایمان لائے بغیر مر جائے، تو وہ ضرور دوزخیوں میں سے ہوگا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:386]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
جس شخص کو آپ کی نبوت ورسالت کی دعوت پہنچ جائے اور وہ آپ پر ایمان لا کر آپ کے لائے ہوئے دین کو اپنا دین نہ بنائے، اور وہ اس حال میں مر جائے تو وہ دوزخ میں جائے گا، اگرچہ وہ کسی سابق رسول کے دین اور اس کی کتاب کو ماننے والا کوئی یہودی یا نصرانی ہی کیوں نہ ہو۔
الغرض آپ کی بعثت کے بعد آپ پر ایمان لائے اور آپ کی شریعت کو قبول کیے بغیر نجات ممکن نہیں۔
وحدت ادیان کا تصور کہ کسی آسمانی دین کو اپنا لو، توحید کے قائل ہو جاؤ، بس نجات کے لیے یہی کافی ہے، ایک گمراہ کن اور ملحدانہ نظریہ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 153 سے ماخوذ ہے۔