صحيح مسلم
كتاب البيوع— لین دین کے مسائل
باب إِبْطَالِ بَيْعِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ: باب: بیع ملامسہ اور منابذہ باطل ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ " .محمد بن یحییٰ بن حبان نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملامسہ اور منابذہ کی بیعوں سے منع فرمایا۔
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .امام صاحب مذکورہ بالا حدیث اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ،حفص بن عاصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں۔
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " نُهِيَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ : الْمُلَامَسَةِ ، وَالْمُنَابَذَةِ ، أَمَّا الْمُلَامَسَة ، فَأَنْ يَلْمِسَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَ صَاحِبِهِ بِغَيْرِ تَأَمُّلٍ ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَهُ إِلَى الْآخَرِ ، وَلَمْ يَنْظُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا إِلَى ثَوْبِ صَاحِبِهِ " .عمرو بن دینار نے عطاء بن میناء سے روایت کی کہ انہوں نے ان (عطاء) کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: دو قسم کی بیعوں (یعنی) ملامسہ اور منابذہ سے منع کیا گیا ہے۔ ملامسہ یہ ہے کہ دونوں (بیچنے والے اور خریدنے والے) میں سے ہر ایک بغیر سوچے (اور غور کیے) اپنے ساتھی کے کپڑے کو چھوئے، اور منابذہ یہ ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکے اور کسی نے بھی اپنے ساتھی کے کپڑے کو (جس کے ساتھ اس کے کپڑے کا تبادلہ ہو رہا ہے) نہ دیکھا ہو (اور اسی سے بیع کی تکمیل ہو جائے)۔
تشریح، فوائد و مسائل
بيوع: بیع کی جمع ہے اور عربی زبان کی رو سے بیع اور شریکا لفظ خرید اور فروخت دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور موقع و محل کی مناسبت سے ایک معنی متعین کیا جاتا ہے۔
فوائد ومسائل: شرعی معنی کی رو سےچونکہ بیع مبادلة المال بالمال بالتراضي کانام ہے، یعنی باہمی رضامندی سے مال کے بدلے مال دینا، بیع ہے، اس لیے ہر وہ بیع ناجائز ہوگی جسں میں ربا (سود)
غرروغبن دھوکاوفریب اور نقصان ہو۔
جہالت، یعنی قیمت، مال یا مدت مجہول ہو، تنازع باہمی اختلاف اور جھگڑا کا خطرہ ہو، بیع ملامسہ اور منابذہ میں غرراور غبن کا خطرہ ہے۔
ملامسہ کی تعریف میں چارقول ہیں: (1)
بائع یا مشتری کہے، میں یہ کپڑا بیچتا یا خریدتا ہوں، اس کی قیمت یہ ہے جب خریدار اس کوہاتھ لگا دے گا، تو بیع پکی ہو جائے گی، امام ابو حنیفہ نےیہی تعریف کی ہے۔
(2)
امام شافعی کے نزدیک، کوئی شخص لپٹا ہوا کپڑا لائے یا اندھیرے اور تاریکی میں لائے اور خریدار سے کہے میں تمہیں یہ کپڑا اس شرط پر بیچتا ہوں کہ تمہارا اس کو ہاتھ لگانا ہی دیکھنے کے قائم مقام ہوگا اور دیکھنے کے بعد تم اس کو واپس نہیں کرسکو گے۔
(3)
بائع اور مشتری ہر ایک دوسرے سے اس کا کپڑا بغور دیکھے بغیر خرید لے، اور کہے جب میں نے تیرے کپڑے کو ہاتھ لگا دیا اور تو نے میرے کپڑے کو چھو لیا تو بیع لازم ہو جائے گی، راوی حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہی تعریف کی ہے جیسا کے آگے آ رہا ہے۔
(4)
بائع نے ایک چیز فروخت کی اور خریدار کو کہا، جب تم نے اس کو چھو لیا، تو تمہارا خیار مجلس یعنی سودے کی جگہ تبدیل ہوئے بغیر جو اختیار رہتا ہے، وہ ختم ہو جائے گا۔
بیع منابذہ کی بھی چار تعریفیں کی گئی ہیں (1)
محض کسی چیز کو پھینکنے سے بیع لازم ہو جائے۔
بغیر اس کے کہ خریدار اس کو الٹ پلٹ کردیکھے۔
(2)
بائع اور مشتری میں سےہرایک اپنا اپنا کپڑا ایک دوسرے کی طرف پھینک دیں، اور بغیر دیکھےاور بغیر رضامندی کے بیع ہو جائے۔
یا ایک دوسرےکو کہیں جو تیرے پاس ہے میری طرف پھینک دے اور جو میرے پاس ہے میں تیری طرف پھینک دیتا ہوں۔
(3)
سامان پھینکنا، اختیار کو ختم کردے۔
(4)
میں کنکر پھینکتا ہوں جس چیز پر گر جائے گا اس کی بیع ہو جائے گی، یعنی بیع حصاۃ والا معنی مراد۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع منابذہ اور بیع ملامسہ سے منع فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1310]
وضاحت:
1؎:
کیونکہ اس میں دھوکہ ہے، مبیع (سودا) مجہول ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع منابذہ اور ملامسہ سے منع فرمایا، ملامسہ یہ ہے کہ دو آدمی رات کو دو کپڑوں کی بیع کریں، ہر ایک دوسرے کا کپڑا چھو لے۔ منابذہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی طرف کپڑا پھینکے اور دوسرا اس کی طرف کپڑا پھینکے اور اسی بنیاد پر بیع کر لیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4517]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4513]
(2) حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بیع منابذہ بھی حرام ہے۔ اس کی وجہ بھی وہی ہے جو اوپر بیان ہو چکی ہے۔
(3) اس حدیث مبارکہ سے یہ لطیف سا اشارہ بھی نکلتا ہے کہ ایام جاہلیت میں لوگوں کے مابین جو ناجائز معاملات رواج پذیر تھے اور ان کی وجہ سے ان میں باہمی کش مکش اور قطع تعلقی کی فضا بنی رہتی تھی، شارع علیہ السلام اس بات کے بے حد حریص تھے کہ اپنی امت کو ایسے تمام معاملات سے دور کر دیں جو ان کے باہمی تعلقات کے بگاڑ کا سبب بن سکتے تھے اور جس کی وجہ سے ان کے مابین منافرت اور بغض و عناد پیدا ہو سکتے تھے۔ بیع ملامسہ و منابذہ اور دیگر ممنوع بیوع بھی اسی قبیل سے ہیں۔ لیکن باوجود ایں ہمہ، روپے پیسے اور مال و دولت کی حرص و ہوس نے لوگوں کی اکثریت کو اندھا کر دیا ہے، دولت اکٹھی کرنے ہی کو اصل مقصد حیات سمجھ لیا گیا ہے اور اس میں حلال و حرام کی بھی تمیز نہیں کی جاتی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے منع فرمایا، رہی دونوں بیع تو وہ منابذہ اور ملامسہ ہیں اور ملامسہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے: میں تمہارے کپڑے سے اپنا کپڑا بیچ رہا ہوں اور ان میں کوئی دوسرے کے کپڑے کو نہ دیکھے بلکہ صرف اسے چھولے، رہی منابذہ تو وہ یہ ہے کہ وہ کہے: جو میرے پاس ہے میں اسے پھینک رہا ہوں اور جو تمہارے پاس ہے اسے تم پھینکو تاکہ ان میں سے ایک دوسرے کی چیز خرید لے حالانکہ ان میں سے کوئ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4521]