صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب تَأَلُّفِ قَلْبِ مَنْ يَخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ لِضَعْفِهِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْقَطْعِ بِالإِيمَانِ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ قَاطِعٍ. باب: کمزور ایمان والے کی تالیف قلبی کرنا، اور بغیر دلیل کے کسی کو قطعی مومن کہنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : أَوْ مُسْلِمٌ ، أَقُولُهَا ثَلَاثًا ، وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا ، أَوْ مُسْلِمٌ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ ، مَخَافَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ " .عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! فلاں کو بھی دیجیے وہ مومن ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان ہے۔“ میں نے تین دفعہ گزارش کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تینوں دفعہ یہی جواب دیا: ”یا مسلمان۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک آدمی کو دیتا ہوں حالانکہ اس کے مقابلے میں دوسرا آدمی مجھے زیادہ پسند ہوتا ہے، کہ کہیں اللہ اس کو اوندھے منھ جہنم میں نہ ڈال دے۔“
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَعْطَى رَهْطًا ، وَسَعْدٌ جَالِسٌ فِيهِمْ ، قَالَ سَعْدٌ : فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْ مُسْلِمًا ، قَالَ : فَسَكَتُّ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْ مُسْلِمًا ، قَالَ : فَسَكَتُّ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا عَلِمْتُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْ مُسْلِمًا ، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ " .عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے باپ سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو کچھ مال دیا اور سعد رضی اللہ عنہ بھی ان میں بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک آدمی کو چھوڑ دیا، اس کو کچھ نہ دیا حالانکہ وہ مجھے ان سب سے اچھا لگتا تھا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! فلاں سے اعراض کی وجہ کیا ہے؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کیوں نہیں دیا) میں تو اللہ کی قسم اس کو مومن سمجھتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(مومن) یا مسلمان۔“ تو میں کچھ دیر کے لیے چپ ہو گیا۔ پھر میں اس کے بارے میں جو کچھ جانتا تھا، اس کا مجھ پر غلبہ ہوا تو میں نے دوبارہ عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو کیوں چھوڑ دیا؟ اللہ کی قسم! میں تو اس کو مومن جانتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان۔“ تو پھر کچھ وقت خاموش رہا، پھر میں اس کے بارے میں جو علم رکھتا تھا اس نے غلبہ کیا، میں نے تیسری بار عرض کیا: (پہلی بات دہرائی) کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو کیوں نظر انداز فرمایا؟ اللہ کی قسم! میں تو اس کو مومن سمجھتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان، میں ایک آدمی کو دیتا ہوں حالانکہ دوسرا مجھے زیادہ پسند ہوتا ہے اس اندیشہ سے کہ اللہ اس کو اوندھے منہ آگ میں نہ ڈال دے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ وَزَادَ ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَسَارَرْتُهُ ، فَقُلْتُ : مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ؟ .عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال دیا اور میں بھی ان میں بیٹھا ہوا تھا۔ اوپر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کی، اور عرض کیا: فلاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کیوں فرمایا؟
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ هَذَا ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي ، ثُمَّ قَالَ : أَقِتَالًا ، أَيْ سَعْدُ ، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ .محمد بن سعد رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ کہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن اور کندھے کے درمیان اپنا ہاتھ مارا، پھر فرمایا: ”اے سعد! کیا لڑائی کرو گے؟ میں ایک آدمی کو دیتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ ، قَالَ : فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ ، قَالَ : " أَوْ مُسْلِمًا " فَسَكَتُّ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ ، قَالَ : " أَوْ مُسْلِمًا " فَسَكَتُّ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ ، قَالَ : " أَوْ مُسْلِمًا " ، قَالَ : " إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ " ، وَفِي حَدِيثِ الْحُلْوَانِيِّ تَكْرِيرُ الْقَوْلِ مَرَّتَيْنِ ،عامر بن سعد اپنے باپ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو کچھ مال دیا اور میں بھی ان میں بیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک آدمی کو نظر انداز کر دیا۔ اس کو نہ دیا حالانکہ میرے نزدیک ان سب سے پسندیدہ تھا۔ میں اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کو راز دارانہ انداز میں کہا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا معاملہ ہے آپ فلاں سے اعراض فرما رہے ہیں؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اطاعت گزار) تو میں کچھ دیر خاموش رہا پھر مجھ پر اس کے بارے میں میری معلومات غالب آ گئیں تو میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا بات ہے آپ فلاں کو نہیں دے رہے؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے صحیح مومن پاتا ہوں آپﷺ نے فرمایا: ”یا فرمانبردار‘‘ میں کچھ دیر چپ رہا۔ پھر میں اس کے بارے میں جو کچھ جانتا تھا وہ مجھ پر غالب آ گیا اور میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا وجہ ہے کہ آپﷺ فلاں کو نہیں دے رہے؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: ”یا اطاعت کیش۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ”میں ایک ایسے آدمی کو دیتا ہوں جس کے مقابلہ میں مجھے دوسرا اس سے محبوب ہوتا ہے۔ اس ڈر سے کہ وہ اوندھے منہ آگ میں ڈال دیا جائے۔‘‘
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَلَى مَعْنَى حَدِيثِ صَالِحٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ،سفیان ثوری، ابن شہاب (زہری) کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن شہاب) اور معمر سب نے (زہری) سے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث روایت کی۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ الَّذِي ذَكَرْنَا ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي ، ثُمَّ قَالَ : " أَقِتَالًا أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ " .محمد بن سعد یہ حدیث بیان کرتے ہیں یعنی زہری مذکورہ بالا حدیث انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن اور کندھے کے درمیان اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا: ”جنگ کر رہے ہو؟ اے سعد! میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔۔۔“ (آگے اسی طرح ہے جس طرح پہلی روایت میں ہے۔)