حدیث نمبر: 1498
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، قَالَ سَعْدٌ : بَلَى ، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ " .

عبدالعزیز نے ہمیں سہیل سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (صالح) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت بخشی، کیوں نہیں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(لوگو!) جو بات تمہارا سردار کہہ رہا ہو، اس کو سنو۔“

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أأمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے اللہ کے رسول! اگر میں کسی مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھوں تو کیا اسے چار گواہوں کے لانے تک، مہلت دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‘‘

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، قَالَ : كَلَّا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، إِنْ كُنْتُ لَأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ، إِنَّهُ لَغَيُورٌ وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي " .

سلیمان بن بلال سے روایت ہے، کہا: مجھے سہیل نے اپنے والد (صالح) کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو میں اسے ہاتھ نہ لگاؤں حتیٰ کہ چار گواہ پیش کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں تو اسے اس سے پہلے ہی تلوار کا نشانہ بناؤں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(لوگو!) جو تمہارا سردار کہہ رہا ہے اس بات کو سنو! بلاشبہ وہ غیرت والا ہے، میں اس سے زیادہ غیور ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللعان / حدیث: 1498
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے اللہ کے رسول! بتائیے ایک آدمی، دوسرے آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ پاتا ہے۔ کیا اس کو قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، کیوں نہیں؟ اس ذات کی قسم، جس نے آپﷺ کو حق دے کر بھیجا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنے سردار کی بات سنو، وہ کیا کہتا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3761]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ (بَلَى)
کیوں کا لفظ آپ کی بات کا انکار کرنے کے لیے نہیں کہا تھا ان کا مقصد یہ تھا کہ اس کی اجازت ہونی چاہیے کون غیرت مند جواں ہمت یہ کر سکتا ہے کہ اس وقت اپنے آپ پر قابو پائے اور گواہوں کی تلاش میں نکلے اس لیے آپﷺ نے فرمایا، اس غیرت مند کی بات سنی ہو، اس میں کسی قدر غیرت و حمیت ہے۔
وہ اس قدر غیرت مند تھے کہ باکرہ دوشیزہ ہی سے شادی کرتے تھے اور اگر کسی بیوی کو طلاق دے دیتے تھے تو ان کی غیرت سے خوفزدہ ہو کر کوئی اس شادی کرنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1498 سے ماخوذ ہے۔