وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَأَنَا أُرَى أَنَّ عِنْدَهُ مِنْهُ عِلْمًا ، فَقَالَ : إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ ، وَكَانَ أَخَا الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ لِأُمِّهِ ، وَكَانَ أَوَّلَ رَجُلٍ لَاعَنَ فِي الْإِسْلَامِ ، قَالَ : فَلَاعَنَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْصِرُوهَا ، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ ، فَهُ وَلِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ ، فَهُ وَلِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ " ، قَالَ : فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ .محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، کیونکہ میں سمجھتا تھا انہیں اس کا علم ہے، انہوں نے بتایا، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ غلط کاری کی تہمت لگائی۔ جو براء بن مالک کا اخیافی (ماں کی طرف سے) بھائی تھا۔ یہ پہلے شخص تھے، جنہوں نے اسلام کے دور میں لعان کیا، اس نے بیوی سے لعان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت پر نظر رکھنا، اگر اس نے بچہ، سفید اور کھلے بالوں والا اور خراب آنکھوں والا جنا تو وہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کا ہے، اور اگر بچہ سرمئی آنکھوں والا، گھنگھریالے بالوں والا، باریک پنڈلیوں والا جنا تو وہ شریک بن سحماء کا ہو گا۔‘‘ تو مجھے بتایا گیا کہ اس نے سرمئی آنکھوں والا، گھنگھریالے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
جَعْدًا: گھٹےاورمظبوط جسم والا یا گھنگھریالے بالوں والا، یا پستہ قد، بخیل۔
(2)
سبط: کھلےبالوں والا۔
(3)
تام الخلقت: پورے جسم والا۔
(4)
قضيء العينين: جس کی آنکھوں میں، آنسوؤں کی کثرت یا سرخی سے خرابی اور بگاڑ ہو۔
(5)
حَمْشَ السَّاقَيْنِ: پتلی پنڈلیوں والا۔
(6)
حموشه: باریکی کوکہتے ہیں۔