وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح ، وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : قُلْتُ لِمَالِك : حَدَّثَكَ نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ ، قَالَ : نَعَمْ " .یحییٰ بن یحییٰ نے کہا۔۔ اور الفاظ انہی کے ہیں۔۔ میں نے امام مالک سے پوچھا: کیا آپ سے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور بچے (کے نسب) کو اس کی ماں کے ساتھ ملا دیا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " لَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَامْرَأَتِهِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا اور ان میں جدائی ڈال دی۔
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .یحییٰ قطان نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک شخص نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی اور اپنے نومولود کا انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق لعان کرایا، پھر بچہ عورت کے حوالے کر کے ان کے درمیان علیحدگی کرا دی۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4748) (2)
شوہر کی طرف سے چار قسمیں، چار گواہوں کے قائم مقام ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے اپنے آپ سے حد قذف (تہمت لگانے کی حد)
کو دور کرے۔
شوہر کی طرف سے قسمیں اٹھانے کے بعد اگر عورت لعان نہ کرے تو اس پر حد واجب ہوگی۔
اگر اس نے لعان کیا اور قسم اٹھائی تو اس نے بھی خاوند کی طرح اپنے آپ کا دفاع کر لیا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے ایک مشہور اختلافی مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ لعان قسم ہے یا شہادت! جمہور اہل علم اسے قسم کہتے ہیں جبکہ فقہائے اہل کوفہ کے نزدیک یہ شہادت ہے۔
اس اختلاف کا نتیجہ یہ ہے کہ قسم ہونے کی صورت میں ہر قسم کے میاں بیوی کے درمیان لعان ہو سکتا ہے، خواہ وہ مسلمان ہوں یا کافر، آزاد ہوں یا غلام اور شہادت کی صورت میں صرف ان میاں بیوی کے درمیان لعان ہوگا جو شہادت کے اہل ہیں۔
گواہی کے لیے ایمان اور آزادی بنیادی شرط ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان اور پیش کردہ حدیث سے رجحان ظاہر کیا ہے کہ وہ جمہور اہل علم کے ہم نوا ہیں۔
واللہ أعلم
اگر وہ مرد اس عورت سے صحبت نہ کر چکا ہوتا تو بے شک اگر اس نے سارا مہر ادا کر دیا ہوتا تواس کو اس میں سے کچھ یعنی نصف واپس ملتا آخری جملہ کا مطلب ہے کہ تو نے اس عورت سے صحبت بھی کی پھر اسے بد نام بھی کیا۔
اب مال مہر کا سوال ہی کیا ہے؟ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اسلام میں عورت کی عزت کو خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے۔
اپنی عورت پر جھوٹا الزام لگانا اس کے شوہر کے لیے بہت گناہ ہے۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیوی سے اگر خلوت ہو جائے تو وہ حق مہر کی حق دار ہو جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تو سچا ہے تو اس سے خلوت کر چکا ہے، لہذا دیا ہوا حق مہر اب تیرا نہیں رہا اور اگر تو جھوٹا ہے تو پھر بھی حق مہر کا مطالبہ فضول ہے کیونکہ تو نے اس سے خلوت بھی کی اور پھر الٹا اسے تہمت لگا کر بدنام کیا، اب تو حق مہر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
‘‘ (2)
دخلت بها کے الفاظ سے امام بخاری رحمہ اللہ نے ثابت کیا ہے کہ خلوت ہی سے وہ عورت حق مہر کی مالک بن جائے گی جبکہ دوسرے حضرات کا موقف ہے کہ عورت تو باہمی ملاپ سے حق مہر کی حق دار ہو گی کیونکہ حدیث کی ایک روایت میں ہے کہ تو نے اس کی شرمگاہ کو اپنے لیے حلال سمجھا، اس لیے تو حق مہر واپس لینے کا مجاز نہیں ہے اور اگر خلوت صحیحہ یا ملاپ ہو چکا ہے تو پورا حق مہر اسے ملے گا اور اسے پوری عدت گزارنی ہو گی۔
واللہ أعلم
امام شافعی اور امام احمد اور اکثر اہلحدیث کا یہی قول ہے اور عویمر نے جو طلاق دی اس کی ضرورت نہ تھی۔
وہ یہ سمجھے کہ لعان طلاق نہیں ہے۔
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے کہ لعان کے بعد مرد جب تک طلاق نہ دے طلاق نہیں پڑتی۔
بعضوں نے کہا لعان سے نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور خود بخود دونوں میں جدائی ہوجاتی ہے۔
(وحیدی)
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف لعان کرنے سے ہی میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہو جائے گی۔
خاوند کو طلاق دینے کی ضرورت نہیں ہے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور اکثر اہل حدیث کا یہی موقف ہے۔
لعان کے بعد عورت عدت پوری کرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے کی حق دار ہوگی جو تین حیض یا وضع حمل ہے۔
2۔
واضح رہے کہ لعان صرف اس صورت میں ہے جب خاوند اپنی بیوی پر تہمت زنا لگائے۔
عام عورتوں پر تہمت کے متعلق وہی حکم ہے جو حد قذف کے متعلق سورہ النور آیت: 4میں ہے۔
3۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لعان کے بعد اس حمل سے جو بچہ ہو گا اس بچے نسبت شوہر کی طرف نہیں بلکہ اس کی ماں کی طرف کی جائے گی۔
وہ اپنی ماں کا اور ماں اس کی وارث ہوگی۔
واللہ اعلم۔
والد نے اس بچے کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کر دیا تو گویا اس کا نسب والد سے منقطع ہو گیا، یعنی اب وہ اس کا باپ نہیں اور اس کی والدہ ہی اس کی وارث ہوگی۔
(1)
واقعہ یہ ہے کہ عراق میں حضرت مصعب بن زبیر کے وقت شادی شدہ جوڑے میں لعان ہوا تو انھوں نے ان کی درمیان علیحدگی نہ کرائی۔
اس سلسلے میں حضرت سعید بن جبیر سے سوال ہوا تو انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت کیا اور حدیث بیان کی۔
(فتح الباري: 565/9) (2)
مدخول بہا عورت کے متعلق تو اہل علم کا اتفاق ہے کہ لعان کے بعد وہ حق مہر سے محروم نہیں کی جائے گی بلکہ وہ تمام حق مہر کی حق دار ہے۔
غیر مدخول بہا کے متعلق اختلاف ہے، جمہور اہل علم کا موقف ہے کہ وہ دوسری مطلقہ عورتوں کی طرح نصف حق مہر کی حق دار ہوگی، البتہ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ کسی چیز کی مستحق نہیں کیونکہ چور بھی اور چتر بھی۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر عورت لعان کے بعد اپنے آپ کی تکذیب کرے اور زنا کا اعتراف کرے تو اس پر زنا کی حد تو لگے گی لیکن حق مہر سے محروم نہیں ہوگی کیونکہ وہ اقرار زنا سے پہلے ہی مال کی حق دار بن چکی ہے۔
(فتح الباري: 566/9)
(1)
لعان کرنے والے مرد اور عورت میں جدائی کرانا ضروری ہے۔
اب اس امر میں اختلاف ہے کہ جدائی صرف لعان سے ہو جائے گی یا حاکم وقت ان دونوں کے درمیان جدائی کرائے گا۔
اس کے متعلق گزشتہ ابواب میں وضاحت ہوچکی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ مرد کے ذمے عورت کا خرچہ یا رہائش کا بندوبست نہیں ہے کیونکہ ان کے درمیان طلاق اور وفات کے بغیر ہی جدائی عمل میں آ گئی ہے۔
(سنن أبي داود، الطلاق، حدیث: 2256) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ لعان کے بعد خود بخود میاں بیوی میں جدائی ہو جائے گی۔
خواہ حاکم وقت نہ بھی کرائے کیونکہ وہ عورت اب اس شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکی ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے: حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں لعان کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔
اس کے بعد یہ طریقہ جاری ہوا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کرا دی جائے گی، پھر یہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکیں گے۔
(سنن أبي داود، الطلاق، حدیث: 2257)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی اور وہ کبھی اکٹھے نہیں ہو سکیں گے۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 410/7)
ایک روایت میں ہے کہ عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے پہلےتین طلاقیں دے دی تھیں۔
(صحیح البخاري، الطلاق، حدیث: 5259)
چونکہ انھیں علم نہ تھا کہ لعان بذات خود ہمیشہ کے لیے علیحدگی کا باعث ہے، اس لیے انھوں نے اپنی بیوی کو بذریعہ طلاق ہی اپنے اوپر حرام کر دینا چاہا۔
یہ ان کی اس سے انتہائی نفرت کی علامت تھی۔
واللہ أعلم
(1)
یہ حدیث تین احکام پر مشتمل ہے: ٭لعان مشروع ہے۔
٭لعان کے بعد مرد اور عورت میں علیحدگی ہوگی۔
٭اگر شوہر بچے کی نفی کر دے تو اسے ماں کے ساتھ لاحق کیا جائے گا ہاں، اگر پیدائش کے دوسرے یا تیسرے دن نفی کرتا ہے تو اس کی نفی نہیں ہوگی، یعنی بچے کی پیدائش کے فورًا بعد نفی کا اعتبار ہوگا۔
اس صورت میں بچہ ماں کا وارث ہوگا اور ماں بچے کی وارث ہوگی۔
(2)
بعض شافعی حضرات نے یہاں تک غلو کیا ہے کہ شوہر نے اگر نومولود کا انکار کیا ہے تو بچی ہونے کی صورت میں اس سے نکاح بھی ہوسکے گا، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ منکوحہ کی بیٹی ہونے کی وجہ سے اس سے نکاح حرام ہے۔
(فتح الباري: 570/9)
واللہ أعلم
(1)
عنوان اور پیش کی گئی حدیث کا مقصد ہے کہ حاکم وقت کو چاہیے کہ وہ حالات کے پیش نظر لعان کرنے والوں کو وعظ و نصیحت کرے، لعان سے پہلے بھی کیونکہ ان دونوں کو اس کی سنگینی سے آگاہ کرنا چاہیے آخر ان میں سے ایک تو ضرور جھوٹا ہے، لہٰذا جھوٹے آدمی کو اس اقدام سے بچنا چاہیے اور ایک بے گناہ اور معصوم پر تہمت زنا سے باز رہنا چاہیے اور لعان کے بعد بھی وہ اپنا دعوت و ارشاد کا فریضہ ادا کرے تا کہ اگر کسی نے جھوٹ بولا ہےتو اس سے توبہ کرے اور اس گناہ کی تلافی کا سامان کرے۔
(2)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث میں لعان سے پہلے اور بعد میں وعظ کرنے کے دونوں احتمال ہیں، البتہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ یہ وعظ لعان سے پہلے ہونا چاہیے کیونکہ جب لعان سے متعلقہ آیات اتریں تو آپ نے ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور اس کی بیوی کو بلایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔
کیا تم میں سے کوئی تائب ہوگا؟ یہ وعظ سن کر حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں قسم اٹھاتا ہوں کہ میں سچا ہوں۔
(فتح الباري: 568/9)
بہرحال لعان کرنے والوں کو وعظ و نصیحت لعان سے پہلے اور لعان کے بعد دونوں وقت کرنی چاہیے شاید ان میں سے کسی کے دل میں بات اتر جائے اور اپنے گناہ کی تلافی کرے۔
واللہ أعلم
تو اس پر حد جاری ہو گی۔
کیونکہ اگر وہ اپنے الزام میں سچا ہے تو وہ اس سے اس کے عوض فائدہ اٹھا چکا ہے۔
اور اگر الزام میں جھوٹا ہے تو پھر تو مہر کے مطالبہ کا کوئی حق ہی نہیں ہے اگر وہ غیر مدخولہ ہے تو پھر جمہور کے نزدیک مطلقہ کی طرح آدھا مہر ملے گا ابو زناد، حماد اور حکم کے نزدیک پورا مہر ملے گا، امام زہری رحمۃ اللہ علیہ، اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک کچھ نہیں ملے گا۔
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کے زمانہ امارت میں مجھ سے لعان ۱؎ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کر دی جائے؟ تو میں نہیں جان سکا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ چنانچہ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی، بتایا گیا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے میری بات سن لی، اور کہا: ابن جبیر! آ جاؤ تمہیں کوئی ضرورت ہی لے کر آئی ہو گی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پالان پر بچھائے جانے والے کمبل پر لیٹے ہیں۔ میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا لعان کرنے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1202]
وضاحت:
1؎:
لعان کا حکم آیت کریمہ ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاء﴾ (النور: 6) میں ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ عدالت میں یا کسی حاکم مجازکے سامنے پہلے مرد چار بار اللہ کا نام لے کرگواہی دے کہ میں سچا ہوں اورپانچویں بار کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو، اسی طرح عورت بھی اللہ کا نام لے کر چاربار گواہی دے کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے اورپانچویں بار کہے کہ اگر اس کا شوہرسچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو، ایسا کہنے سے شوہر حد قذف (زناکی تہمت لگانے پر عائد سزا) سے بچ جائے گا اوربیوی زنا کی سزاسے بچ جائے گی اور دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لیے جدائی ہوجائے گی۔
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ مصعب بن زبیر رضی الله عنہ کی امارت کے زمانے میں مجھ سے پوچھا گیا: کیا لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آ گیا، ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، مجھ سے کہا گیا کہ وہ قیلولہ فرما رہے ہیں، مگر انہوں نے میری بات چیت سن لی۔ اور مجھے (پکار کر) کہا: ابن جبیر! اندر آ جاؤ، تم کسی (دینی) ضرورت ہی سے آئے ہو گے، میں اندر داخل ہوا، دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے کجاوے کے نیچے ڈالنے والا کمبل بچھائے ہوئ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3178]
وضاحت:
1؎:
جولوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کا کوئی گواہ بجز خود ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چارمرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں اور پانچویں مرتبہ کہیں کہ اس پر اللہ کی تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو، اور اس عورت سے سزا اس طرح دور ہو سکتی ہے کہ وہ چارمرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یقیناً اس کا مرد جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے اور پانچویں دفعہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو اگر اس کا خاوند سچوں میں سے ہو (النور: 6-9)
2؎:
اگر گناہ سرزد ہوا ہے تو اسے قبول کر لو اور متعینہ سزا جھیل جاؤ ورنہ آخرت کا عذاب تو بہت بھاری اور سخت ہو گا۔
سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں لعان کرنے والوں سے فرمایا: " تم دونوں کا حساب اللہ پر ہے، تم میں سے ایک تو جھوٹا ہے ہی (مرد سے فرمایا) اب تجھے اس پر کچھ اختیار نہیں "، اس پر اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مال کا کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تمہارا کوئی مال نہیں، اگر تم اس پر تہمت لگانے میں سچے ہو تو مال کے بدلے اس کی شرمگاہ حلال کر چکے ہو اور اگر تم نے اس پر جھوٹ بولا ہے تب تو کسی طرح بھی تم مال کے مستحق نہیں۔" [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2257]
لعان کی صورت میں شوہرکوحق سے کچھ نہیں ملے گا۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کا حکم دیا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور بچے کو ماں کی سپردگی میں دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3507]
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کرنے والوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے کہا: تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ تم میں سے کوئی ایک ضرور جھوٹا ہے، (مرد سے کہا:) تمہارا اب اس (عورت) پر کچھ حق و اختیار نہیں ہے ۱؎، مرد نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مال کا کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: " تمہارا کوئی مال نہیں ہے۔ اگر تم نے اس پر صحیح تہمت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3506]
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کسی نے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگایا (تو کیا کرے)؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے ایک مرد اور عورت کے مابین تفریق کر دی تھی۔ آپ نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کا ارادہ رکھتا ہے "، آپ نے یہ بات ان دونوں سے تین بار کہی پھر بھی ان دونوں نے (توبہ کرنے سے) انک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3505]
(2) "میرا مال" اس کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ یہ نکاح عورت کے جرم کی وجہ سے ختم ہورہا ہے‘ لہٰذا مجھے مہر واپس ملنا چاہیے۔ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے سچ یا جھوٹ کا یقین نہیں۔ ممکن ہے تو سچا ہو اور ممکن ہے وہ بے گناہ ہو‘ اس لیے مہر واپس نہیں مل سکتا۔ اگر تم سچے بھی ہو تب بھی تم نے اس سے بہت فائدہ اٹھالیا ہے‘ لہٰذا مہر کی واپسی کا مطالبہ تمہیں زیب نہیں دیتا۔
(3) عربی متن میں ’’قَاَلَ أَیُّوْبُ‘‘ کا ترجمہ سلاست کے پیش نظر نہیں کیا گیا۔ اس کا مفہوم اس طرح سمجھیے کہ یہ روایت سعید بن جبیر سے ایوب سختیانی اور عمروبن دینار آدمی کا اپنے مال کے بارے میں سوال اور رسول اللہﷺ کا جواب بھی ِذکر کرتے ہیں۔ ایوب یہ حصہ محفوظ نہ رکھ سکے۔ عمروبن دینار کی موجودگی میں ایوب نے یہ حدیث بیان کی تو اس وقت عمرو نے یہ کہا تھا کہ اس حدیث کی کچھ حصہ آپ بیان نہیں کررہے۔ اور پھر وہ حصہ بیان کیا۔ عمرو کی روایت اگلے باب میں آرہی ہے۔
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق نہیں کی (لعان کے بعد انہیں ایک ساتھ رہنے دیا)۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے دونوں لعان کرنے والے مرد اور عورت کے مابین تفریق کر دی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3504]
(2) احناف کا موقف ہے کہ لعان سے تفریق واقع نہیں ہوتی‘ قاضی تفریق کرے تو تب جدائی واقع ہوگی‘ پھر اس جدائی میں بھی ان کا اختلاف ہے۔ ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ طلاق بائنہ ہوگی اور خاوند بعد ازاں اپنے آپ کو جھٹلا دے‘ یعنی الزام واپس لے لے تو دونوں میں دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس تفریق سے وہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے پر حرام ہوجائیں گے۔ صحیح موقف جمہور (مالک، شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ) کا ہے کہ محض لعان ہی سے جدائی واقع ہوجائے گی‘ قاضی کی تفریق کی ضرورت ہے نہ طلاق ہی کی۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے پر ابدی طور پر حرام ہیں‘ آپس میں ان کا کبھی نکاح نہیں ہوسکتا‘ چاہے خاوند اپنے موقف سے پھر بھی جائے کیونکہ قسم جب واقع ہوجائے اور اس کے نتیجے میں احکام لاگو ہوجائیں ور فیصلہ ہوجائے تو وہ قسم واپس نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح لعان بھی ختم نہیں ہوتا‘ لیکن اس صورت میں خاوند پر حد قذف ضرور لگے گی کیونکہ اس نے صرف تہمت ہی نہیں لگائی بلکہ لعان کرکے اس سرعام ذلیل بھی کیا‘ لہٰذا اور کچھ نہیں تو کم ازکم حد قذف ضرور لگے گی۔ واللہ أعلم۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ، شرح سنن النسائي: 29/148، 149‘ و152، 153‘ وفتح الباري: 9/459،460‘ والمغني:11/150‘ طبعة دار عالم الکتب)
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی امارت کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا (کہ جب وہ دونوں لعان کر چکیں گے تو) کیا ان دونوں کے درمیان تفریق (جدائی) کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر چلا گیا، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3503]
(2) "جدائی ڈال دی" کیونکہ اس قدر الزام تراشی کے بعد ان کا بطور خاوند بیوی رہنا بے غیرتی ہے۔ یہ متفق علیہ مسئلہ ہے۔
(3) عالم دین سے مسئلہ پوچھا جائے اور اسے علم نہ ہو تو وہ بڑے عالم سے پوچھ کر بتائے۔ اور اس میں کوئی سبکی محسوس نہ کرے۔ ذاتی اجتہادات کی طرف بعد میں آئے۔ ایک ہی شخص کو ہر چیز کا علم نہیں ہوتا۔ عالم دین کی عزت وتوقیر کرنی چاہیے اور مسئلہ پوچھنے کے لیے خود سفر کرکے عالم کی خدمت میں حاضر ہو۔ راہ چلتے یا مسجد میں آتے جاتے گلی میں روک لینا عالم کی شان میں کوتاہی ہے‘ الا یہ کہ بہت زیادہ بے تکلفی ہو اور آتے جاتے دورانِ گفتگو کوئی مسئلہ پوچھ لیا جائے جیسا کہ استاد شاگرد اکٹھے جارہے ہوں تو کسی مسئلے پر بحث چھڑ جاتی ہے۔
(4) لعان سے پہلے قاضی کو چاہیے کہ پہلے انہیں وعظ ونصیحت کرے اور سمجھائے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرد نے اپنی بیوی سے لعان کیا، اور اس کے بچے کا انکار کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور بچہ کو ماں کو دیدیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2069]
فوائد و مسائل:
(1)
لعان سے نکاح ختم ہوجاتا ہے، اس کے بعد یہ مرد اس عورت سے کبھی نکاح نہیں کرسکتا۔
(2)
لعان کی صورت میں عورت کا خاوند بچے کا باپ نہیں کہلائے گا۔
بچہ اس مرد کا وارث بھی نہیں ہوگا، البتہ عورت کےماں ہونے میں کوئی شک نہیں، اس لیے وہ اپنی ماں اور ننھیالی رشتے داروں کا وارث ہوگا اور وہ اس کے وارث ہوں گے۔
«. . . 232- وبه: أن رجلا لاعن امرأته فى زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم وانتفى من ولدها، ففرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهما وألحق الولد بالمرأة. . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے اپنی بیوی کے ساتھ لعان کیا، پھر اس عورت کے بچے کا باپ ہونے سے انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی اور بچہ ماں کو سونپ دیا یعنی بچہ ماں کی طرف منسوب ہوا . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 371]
تفقہ:
➊ لعان کیلئے دیکھئے: حدیث سابق: 6
➋ لعان شدہ عورت کے بچے کی نسبت اس کی ماں کی طرف ہوتی ہے۔ اس بچے کو اس عورت کے شوہر کی طرف منسوب نہیں کیا جاتا لہٰذا یہ بچہ لعان والے باپ کی وراثت کا حقدار نہیں ہوتا اور نہ اس کا ’’باپ" اس کا وارث ہوتا ہے بلکہ اس کی ماں عصبہ ہوتی ہے۔
➌ صحیح بخاری کی احادیث سے ثابت ہے کہ جب لعان کرنے والے نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی لہٰذا جدائی کا سبب طلاق ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جدائی کا سبب لعان ہے لیکن یہ قول محل نظر ہے۔
➍ جو شخص اپنی بیوی سے لعان کر تا ہے اور اس پر زنا کی تہمت لگا تا ہے تو اس شخص پر حد قذف نہیں لگتی۔
➎ قول راجح میں زنا کا عینی گواہ قاذف کے حکم میں نہیں ہے اگر چہ چار کا نصاب بھی پورا نہ ہو۔
➏ حاکم پر لازم ہے کہ شرعی احکامات طاقت سے نافذ کرے۔
➐ بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر شوہر اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور لعان نہ کرے تو اسے (شوہر کو) کوڑے لگیں گے۔ دیکھئے: [التمهيد 15/38 بحواله ابن ابي شيبه عن الشعبي وسنده حسن]
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قاضی لعان کرنے والوں کو وعظ و نصیحت کرے تاکہ وہ اصل حقیقت واضح کر دیں لعان کی صورت پیدا ہی نہ ہو۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ لعان کے بعد بھی وعظ کرے تا کہ جھوٹا توبہ کرے۔ لعان کے بعد میاں اور بیوی کے درمیان مستقل ہمیشہ کے لیے جدائی ہو جاتی ہے۔