صحيح مسلم
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب الْمُطَلَّقَةُ ثَلاَثًا لاَ نَفَقَةَ لَهَا: باب: مطلقہ بائنہ کے نفقہ نہ ہونے کابیان۔
وحدثنا وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : تَزَوَّجَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ ، فَطَلَّقَهَا فَأَخْرَجَهَا مِنْ عَنْدِهِ ، فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ عُرْوَةُ ، فقَالُوا : إِنَّ فَاطِمَةَ قَدْ خَرَجَتْ ، قَالَ عُرْوَةُ : فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ ، فقَالَت : " مَا لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ خَيْرٌ فِي أَنْ تَذْكُرَ هَذَا الْحَدِيثَ " .عروہ بن زبیر نے کہا: یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی سے شادی کی، بعد میں اسے طلاق دے دی اور اسے اپنے ہاں سے بھی نکال دیا۔ عروہ نے اس بات کی وجہ سے ان پر سخت اعتراض کیا، تو انہوں نے کہا: فاطمہ (بھی اپنے خاوند کے گھر سے) چلی گئی تھی۔ عروہ نے کہا: اس پر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا: فاطمہ بنت قیس کے لیے اس حدیث کو بیان کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے۔
وَحدثنا وَحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَت : " مَا لِفَاطِمَةَ خَيْرٌ أَنْ تَذْكُرَ هَذَا " ، قَالَ : تَعْنِي قَوْلَهَا : لَا سُكْنَى ، وَلَا نَفَقَةَ .شعبہ نے ہمیں عبدالرحمٰن بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (قاسم) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اس بات کو بیان کرنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے کہ ”نہ رہائش ہے نہ خرچ۔“
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : لِعَائِشَةَ : أَلَمْ تَرَيْ إِلَى فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ ، فَخَرَجَتْ ، فقَالَت : " بِئْسَمَا صَنَعَتْ " ، فقَالَ : أَلَمْ تَسْمَعِي إِلَى قَوْلِ فَاطِمَةَ ، فقَالَت : " أَمَا إِنَّهُ لَا خَيْرَ لَهَا فِي ذِكْرِ ذَلِكَ " .سفیان نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے اور انہوں نے اپنے والد (قاسم) سے روایت کی، انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا آپ نے فلانہ بنت حکم کو نہیں دیکھا؟ اس کے شوہر نے اسے تین طلاقیں دیں تو وہ (اس کے گھر سے) چلی گئی۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اس نے برا کیا۔ عروہ نے پوچھا: کیا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا قول نہیں سنا؟ تو انہوں نے جواب دیا: دیکھو! اس کو بیان کرنے میں اس کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے۔