صحيح مسلم
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب فِي الإِيلاَءِ وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ وَتَخْيِيرِهِنَّ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ}: باب: ایلاء دار عورتوں سے علیحدہ ہونا۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حدثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا النَّاسُ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى ، وَيَقُولُونَ : طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ ، فقَالَ عُمَرُ : فَقُلْتُ : لَأَعْلَمَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، قَالَ : فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فقَالَت : مَا لِي وَمَا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، عَلَيْكَ بِعَيْبَتِكَ ، قَالَ : فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ ، فَقُلْتُ لَهَا : يَا حَفْصَةُ ، أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ ، لَقَدْ عَلِمْتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحِبُّكِ ، وَلَوْلَا أَنَا لَطَلَّقَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَكَتْ أَشَدَّ الْبُكَاءِ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَت : هُوَ فِي خِزَانَتِهِ فِي الْمَشْرُبَةِ فَدَخَلْتُ ، فَإِذَا أَنَا بِرَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا عَلَى أُسْكُفَّةِ الْمَشْرُبَةِ ، مُدَلٍّ رِجْلَيْهِ عَلَى نَقِيرٍ مِنْ خَشَبٍ وَهُوَ جِذْعٌ يَرْقَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَنْحَدِرُ ، فَنَادَيْتُ : يَا رَبَاحُ ، اسْتَأْذِنْ لِي عَنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَى الْغُرْفَةِ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيَّ ، فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا رَبَاحُ ، اسْتَأْذِنْ لِي عَنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَى الْغُرْفَةِ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ، ثُمَّ رَفَعْتُ صَوْتِي ، فَقُلْتُ : يَا رَبَاحُ ، اسْتَأْذِنْ لِي عَنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَنَّ أَنِّي جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَةَ ، وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَرْبِ عَنْقِهَا لَأَضْرِبَنَّ عَنْقَهَا ، وَرَفَعْتُ صَوْتِي فَأَوْمَأَ إِلَيَّ أَنِ ارْقَهْ ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى حَصِيرٍ ، فَجَلَسْتُ فَأَدْنَى عَلَيْهِ إِزَارَهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ ، وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ ، فَنَظَرْتُ بِبَصَرِي فِي خِزَانَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ الصَّاعِ ، وَمِثْلِهَا قَرَظًا فِي نَاحِيَةِ الْغُرْفَةِ وَإِذَا أَفِيقٌ مُعَلَّقٌ ، قَالَ : فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ ، قَالَ : " مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ " قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَمَا لِي لَا أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِكَ ، وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ لَا أَرَى فِيهَا إِلَّا مَا أَرَى ، وَذَاكَ قَيْصَرُ ، وَكِسْرَى فِي الثِّمَارِ وَالْأَنْهَارِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفْوَتُهُ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ ، فقَالَ : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الْآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا " ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ حِينَ دَخَلْتُ وَأَنَا أَرَى فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَشُقُّ عَلَيْكَ مِنْ شَأْنِ النِّسَاءِ ، فَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مَعَكَ ، وَمَلَائِكَتَهُ ، وَجِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَأَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَكَ ، وَقَلَّمَا تَكَلَّمْتُ وَأَحْمَدُ اللَّهَ بِكَلَامٍ إِلَّا رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ يُصَدِّقُ قَوْلِي الَّذِي أَقُولُ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ آيَةُ التَّخْيِيرِ : عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ سورة التحريم آية 5 ، وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ سورة التحريم آية 4 ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، وَحَفْصَةُ تَظَاهَرَانِ عَلَى سَائِرِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَطَلَّقْتَهُنَّ ؟ قَالَ : " لَا " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، وَالْمُسْلِمُونَ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى ، يَقُولُونَ : طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ، أَفَأَنْزِلُ فَأُخْبِرَهُمْ أَنَّكَ لَمْ تُطَلِّقْهُنَّ ، قَالَ : " نَعَمْ ، إِنْ شِئْتَ " ، فَلَمْ أَزَلْ أُحَدِّثُهُ حَتَّى تَحَسَّرَ الْغَضَبُ عَنْ وَجْهِهِ وَحَتَّى كَشَرَ فَضَحِكَ ، وَكَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا ، ثُمَّ نَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَزَلْتُ فَنَزَلْتُ أَتَشَبَّثُ بِالْجِذْعِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ مَا يَمَسُّهُ بِيَدِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا كُنْتَ فِي الْغُرْفَةِ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ " ، فَقُمْتُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي : لَمْ يُطَلِّقْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ سورة النساء آية 83 ، فَكُنْتُ أَنَا اسْتَنْبَطْتُ ذَلِكَ الْأَمْرَ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّخْيِيرِ " .
سماک ابوزمیل سے روایت ہے، (انہوں نے کہا:) مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار فرمائی، کہا: میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگوں کو دیکھا وہ (پریشانی اور تفکر میں) کنکریاں زمین پر مار رہے ہیں، اور کہہ رہے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے، یہ واقعہ انہیں پردے کا حکم دیے جانے سے پہلے کا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے (دل میں) کہا: آج میں اس معاملے کو جان کر رہوں گا۔ انہوں نے کہا: میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی! تم اس حد تک پہنچ چکی ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دو؟ انہوں نے جواب دیا: خطاب کے بیٹے! آپ کا مجھ سے کیا واسطہ؟ آپ اپنی گھٹڑی (یا تھیلا وغیرہ جس میں قیمتی ساز و سامان سنبھال کر رکھا جاتا ہے یعنی اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا) کی فکر کریں۔ انہوں نے کہا: پھر میں (اپنی بیٹی) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا: حفصہ! کیا تم اس حد تک پہنچ گئی ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دو؟ اللہ کی قسم! تمہیں خوب معلوم ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے محبت نہیں رکھتے۔ اگر میں نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیتے۔ (میری یہ بات سن کر) وہ بری طرح سے رونے لگیں۔ میں نے ان سے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: وہ اپنے بالا خانے پر سامان رکھنے والی جگہ میں ہیں۔ میں وہاں گیا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رَباح چوبارے کی چوکھٹ کے نیچے والی لکڑی پر بیٹھا ہے۔ اس نے اپنے دونوں پاؤں لکڑی کی سوراخ دار سیڑھی پر لٹکا رکھے ہیں۔ وہ کھجور کا ایک تنا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر (قدم رکھ کر) چڑھتے اور اترتے تھے۔ میں نے آواز دی: رباح! مجھے اپنے پاس، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، حاضر ہونے کی اجازت لے دو۔ رباح نے بالا خانے کی طرف نظر کی، پھر مجھے دیکھا اور کچھ نہ کہا۔ میں نے پھر کہا: رباح! مجھے اپنے پاس، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، حاضر ہونے کی اجازت لے دو، رباح نے (دوبارہ) بالا خانے کی طرف نگاہ اٹھائی، پھر مجھے دیکھا، اور کچھ نہ کہا، پھر میں نے اپنی آواز کو بلند کی اور کہا: اے رباح! مجھے اپنے پاس، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، حاضر ہونے کی اجازت لے دو، میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا ہے کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کی (سفارش کرنے کی) خاطر آیا ہوں، اللہ کی قسم! اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کی گردن اڑانے کا حکم دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا، اور میں نے اپنی آواز کو (خوب) بلند کیا، تو اس نے مجھے اشارہ کیا کہ اوپر چڑھ آؤ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، میں بیٹھ گیا، آپ نے اپنا ازار درست کیا اور آپ (کے جسم) پر اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا اور چٹائی نے آپ کے جسم پر نشان ڈال دیے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کے کمرے میں دیکھا تو صرف مٹھی بھر جو ایک صاع کے برابر ہوں گے، جَو اور کمرے کے ایک کونے میں اتنی ہی کیکر کی چھال دیکھی۔ اس کے علاوہ ایک غیر دباغت شدہ چمڑا لٹکا ہوا تھا۔ کہا: تو میری آنکھیں بہ پڑیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابن خطاب! تمہیں رُلا کیا چیز رہی ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ کے نبی! میں کیوں نہ روؤں؟ اس چٹائی نے آپ کے جسم اطہر پر نشان ڈال دیے ہیں، اور یہ آپ کا سامان رکھنے کا کمرہ ہے، اس میں وہی کچھ ہے جو مجھے نظر آرہا ہے، اور قیصر و کسریٰ نہروں اور پھلوں کے درمیان (شاندار زندگی بسر کر رہے) ہیں، جبکہ آپ تو اللہ کے رسول اور اس کی چنی ہوئی ہستی ہیں، اور یہ آپ کا سارا سامان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن خطاب! کیا تمہیں پسند نہیں کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا ہو؟“ میں نے عرض کی: کیوں نہیں! کہا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپ کے چہرے پر غصہ دیکھ رہا تھا، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کو (اپنی) بیویوں کی حالت کی بنا پر کیا دشواری ہے؟ اگر آپ نے انہیں طلاق دے دی ہے تو اللہ آپ کے ساتھ ہے، اس کے فرشتے، جبرئیل، میکائیل، میں، ابوبکر اور تمام مومن آپ کے ساتھ ہیں۔ اور میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے کم ہی کوئی بات کہی، مگر میں نے امید کی کہ اللہ میری اس بات کی تصدیق فرما دے گا جو میں کہہ رہا ہوں۔ (چنانچہ ایسے ہی ہوا) اور یہ تخییر کی آیت نازل ہو گئی: ”اگر وہ (نبی) تم سب (بیویوں) کو طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ ان کا رب، انہیں تم سے بہتر بیویاں بدلے میں دے۔“ اور ”اگر تم دونوں ان کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی، تو اللہ خود ان کا نگہبان ہے، اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے (ان کے) مددگار ہیں۔“ عائشہ بنت ابی بکر اور حفصہ رضی اللہ عنہن دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں کے مقابلے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتی تھیں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ان کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں مسجد میں داخل ہوا تھا تو لوگ کنکریاں زمین پر مار رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ کیا میں اتر کر انہیں بتا دوں کہ آپ نے ان (بیویوں) کو طلاق نہیں دی؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اگر چاہو۔“ میں مسلسل آپ سے گفتگو کرتا رہا یہاں تک کہ آپ کے چہرے سے غصہ دور ہو گیا، اور یہاں تک کہ آپ کے لب ہلے اور آپ ہنسے۔ آپ کے سامنے والے دندانِ مبارک سب انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (بالا خانے سے نیچے) اترے۔ میں تنے کو تھامتے ہوئے اترا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے اترے جیسے زمین پر چل رہے ہوں، آپ نے تنے کو ہاتھ تک نہ لگایا۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ بالا خانے میں 29 دن رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”مہینہ 29 دن کا ہوتا ہے۔“ چنانچہ میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا، اور بلند آواز سے پکار کر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی، اور (پھر) یہ آیت نازل ہوئی: ”اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں، اور اگر وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اپنے معاملات سنبھالنے والوں کی طرف لوٹا دیتے، تو وہ لوگ جو ان میں اس سے اصل مطلب اخذ کرتے ہیں اسے ضرور جان لیتے۔“ تو میں ہی تھا جس نے اس معاملے کی اصل حقیقت کو اخذ کیا، اور اللہ تعالیٰ نے تخییر کی آیت نازل فرمائی۔
حدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، يُحَدِّثُ قَالَ : مَكَثْتُ سَنَةً وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ : عَنْ آيَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَسْأَلَهُ هَيْبَةً لَهُ ، حَتَّى خَرَجَ حَاجًّا فَخَرَجْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا رَجَعَ فَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ إِلَى الْأَرَاكِ لِحَاجَةٍ لَهُ ، فَوَقَفْتُ لَهُ حَتَّى فَرَغَ ، ثُمَّ سِرْتُ مَعَهُ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، " مَنِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَزْوَاجِهِ ؟ فقَالَ : تِلْكَ حَفْصَةُ ، وَعَائِشَةُ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا مُنْذُ سَنَةٍ ، فَمَا أَسْتَطِيعُ هَيْبَةً لَكَ ، قَالَ : فَلَا تَفْعَلْ مَا ظَنَنْتَ أَنَّ عَنْدِي مِنْ عِلْمٍ ، فَسَلْنِي عَنْهُ ، فَإِنْ كُنْتُ أَعْلَمُهُ أَخْبَرْتُكَ ، قَالَ : وَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ إِنْ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَا نَعُدُّ لِلنِّسَاءِ أَمْرًا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِنَّ مَا أَنْزَلَ ، وَقَسَمَ لَهُنَّ مَا قَسَمَ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا أَنَا فِي أَمْرٍ أَأْتَمِرُهُ ، إِذْ قَالَت لِي امْرَأَتِي : لَوْ صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا فَقُلْتُ لَهَا : وَمَا لَكِ أَنْتِ وَلِمَا هَاهُنَا وَمَا تَكَلُّفُكِ فِي أَمْرٍ أُرِيدُهُ ؟ فقَالَت لِي : عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا تُرِيدُ أَنْ تُرَاجَعَ أَنْتَ ، وَإِنَّ ابْنَتَكَ لَتُرَاجِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ ، قَالَ عُمَرُ : فَآخُذُ رِدَائِي ثُمَّ أَخْرُجُ مَكَانِي حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا : يَا بُنَيَّةُ ، إِنَّكِ لَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ ؟ فقَالَت : حَفْصَةُ وَاللَّهِ إِنَّا لَنُرَاجِعُهُ ، فَقُلْتُ : تَعْلَمِينَ أَنِّي أُحَذِّرُكِ عُقُوبَةَ اللَّهِ وَغَضَبَ رَسُولِهِ يَا بُنَيَّةُ ، لَا يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ الَّتِي قَدْ أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا وَحُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ لِقَرَابَتِي مِنْهَا فَكَلَّمْتُهَا ، فقَالَت لِي أُمُّ سَلَمَةَ : عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، قَدْ دَخَلْتَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَبْتَغِيَ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِهِ ، قَالَ : فَأَخَذَتْنِي أَخْذًا كَسَرَتْنِي ، عَنْ بَعْضِ مَا كُنْتُ أَجِدُ فَخَرَجْتُ مِنْ عَنْدِهَا وَكَانَ لِي صَاحِبٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِذَا غِبْتُ أَتَانِي بِالْخَبَرِ ، وَإِذَا غَابَ كُنْتُ أَنَا آتِيهِ بِالْخَبَرِ ، وَنَحْنُ حِينَئِذٍ نَتَخَوَّفُ مَلِكًا مِنْ مُلُوكِ غَسَّانَ ، ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسِيرَ إِلَيْنَا ، فَقَدِ امْتَلَأَتْ صُدُورُنَا مِنْهُ ، فَأَتَى صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَدُقُّ الْبَابَ ، وَقَالَ : افْتَحِ افْتَحْ ، فَقُلْتُ : جَاءَ الْغَسَّانِيُّ ، فقَالَ : أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ ، فَقُلْتُ : رَغِمَ أَنْفُ حَفْصَةَ ، وَعَائِشَةَ ، ثُمَّ آخُذُ ثَوْبِي فَأَخْرُجُ حَتَّى جِئْتُ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ يُرْتَقَى إِلَيْهَا بِعَجَلَةٍ وَغُلَامٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدُ عَلَى رَأْسِ الدَّرَجَةِ ، فَقُلْتُ : هَذَا عُمَرُ فَأُذِنَ لِي ، قَالَ عُمَرُ : فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَلَمَّا بَلَغْتُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَعَلَى حَصِيرٍ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْءٌ ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَإِنَّ عَنْدَ رِجْلَيْهِ قَرَظًا مَضْبُورًا ، وَعَنْدَ رَأْسِهِ أُهُبًا مُعَلَّقَةً ، فَرَأَيْتُ أَثَرَ الْحَصِيرِ فِي جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَيْتُ ، فقَالَ : " مَا يُبْكِيكَ ؟ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ كِسْرَى ، وَقَيْصَرَ فِيمَا هُمَا فِيهِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمَا الدُّنْيَا وَلَكَ الْآخِرَةُ " ،سلیمان بن بلال نے کہا: مجھے یحییٰ نے عبید بن حنین سے خبر دی کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: میں نے سال بھر کے انتظار کیا، میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک آیت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا تھا مگر ان کی ہیبت کی وجہ سے ان سے سوال کرنے کی ہمت نہ پاتا تھا، حتیٰ کہ وہ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے، میں بھی ان کے ساتھ نکلا، جب لوٹے تو ہم راستے میں کسی جگہ تھے کہ وہ قضائے حاجت کے لیے پیلو کے درخت کی طرف چلے گئے، میں ان کے انتظار میں ٹھہر گیا، حتیٰ کہ وہ فارغ ہو گئے، پھر میں ان کے ساتھ چل پڑا، میں نے عرض کی: امیر المومنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے وہ کون سی دو خواتین تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایکا کر لیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہن تھیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں ایک سال سے اس کے بارے میں آپ سے پوچھنا چاہتا تھا مگر آپ کے رعب کی وجہ سے ہمت نہ پاتا تھا۔ انہوں نے کہا: ایسا نہیں کرنا، جو بات بھی تم سمجھو کہ مجھے علم ہے، اس کے بارے میں مجھ سے پوچھ لیا کرو، اگر میں جانتا ہوں تو تمہیں بتا دوں گا۔ کہا: اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جب ہم جاہلیت کے زمانے میں تھے تو عورتوں کو کسی شمار میں نہ رکھتے تھے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں جو نازل کیا، سو نازل کیا، اور جو (مرتبہ) انہیں دینا تھا سو دیا۔ انہوں نے کہا: ایک مرتبہ میں کسی معاملے میں لگا ہوا تھا، اس کے متعلق سوچ بچار کر رہا تھا کہ مجھے میری بیوی نے کہا: اگر آپ ایسا ایسا کر لیں (تو بہتر ہو گا۔) میں نے اسے جواب دیا: تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اور یہاں (اس معاملے میں) تمہاری کیا دلچسپی ہے؟ اور ایک کام جو میں کرنا چاہتا ہوں اس میں تمہارا تکلف (زبردستی ٹانگ اڑانا) کیسا؟ اس نے مجھے جواب دیا: ابن خطاب! آپ پر تعجب ہے! آپ یہ نہیں چاہتے کہ آپ کے بارے آگے بات کی جائے، جبکہ آپ کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے پلٹ کر جواب دیتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن بھر اس سے ناراض رہتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (اسی وقت) اپنی چادر پکڑتا ہوں اور اپنی جگہ سے نکل کھڑا ہوتا ہوں، یہاں تک کہ حفصہ کے پاس پہنچتا ہوں۔ جا کر میں نے اس سے کہا: بٹیا! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جواب دیتی ہو کہ وہ سارا دن ناراض رہتے ہیں۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے لیتی ہیں۔ میں نے کہا: جان لو میں تمہیں اللہ کی سزا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی سے ڈرا رہا ہوں، میری بیٹی! تمہیں وہ (عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے رویے کی بنا پر) دھوکے میں نہ ڈال دے جسے اپنے حسن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے سے محبت پر ناز ہے۔ پھر میں نکلا حتیٰ کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا، کیونکہ میری ان سے قرابت داری تھی۔ میں نے ان سے بات کی تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے جواب دیا: ابن خطاب تم پر تعجب ہے! تم ہر کام میں دخل اندازی کرتے ہو حتیٰ کہ تم چاہتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج کے مابین بھی دخل دو؟ انہوں نے مجھے اس طرح آڑے ہاتھوں لیا کہ جو (عزم) میں (دل میں) پا رہا تھا (کہ میں ازواجِ مطہرات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جواب دینے سے روک لوں گا) مجھے توڑ کر اس سے الگ کر دیا۔ چنانچہ میں ان کے ہاں سے نکل آیا۔ میرا ایک انصاری ساتھی تھا، جب میں (آپ کی مجلس سے) غیر حاضر ہوتا تو وہ میرے پاس (وہاں کی) خبر لاتا اور جب وہ غیر حاضر ہوتا تو میں اس کے پاس خبر لے آتا۔ ہم اس زمانے میں غسان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ سے ڈر رہے تھے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ ہم پر چڑھائی کرنا چاہتا ہے۔ اس (کی وجہ) سے ہمارے سینے (اندیشوں سے) بھرے ہوئے تھے۔ (اچانک ایک دن) میرا انصاری دوست آ کر دروازہ کھٹکھٹانے لگا اور کہنے لگا: کھولو، کھولو! میں نے پوچھا: غسانی آ گیا ہے؟ اس نے کہا: اس سے بھی زیادہ سنگین معاملہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ میں نے کہا: حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہن کی ناک خاک آلود ہو! پھر میں اپنے کپڑے لے کر نکل کھڑا ہوا، حتیٰ کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضر ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانے میں تھے جس پر سیڑھی کے ذریعے چڑھ کر جانا ہوتا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سیاہ فام غلام سیڑھی کے سرے پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے کہا: یہ عمر ہے (خدمت میں حاضری کی اجازت چاہتا ہے)، تو مجھے اجازت عطا ہوئی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ساری بات بیان کی، جب میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بات پر پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ آپ ایک چٹائی پر (لیٹے ہوئے) تھے، آپ کے (جسم مبارک) اور اس (چٹائی) کے درمیان کچھ نہ تھا۔ آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ آپ کے پاؤں کے قریب کیکر کی چھال کا چھوٹا سا گٹھا پڑا تھا اور آپ کے سر کے قریب کچھ کچے چمڑے لٹکے ہوئے تھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر چٹائی کے نشان دیکھے تو رو پڑا۔ آپ نے پوچھا: ”تمہیں کیا رلا رہا ہے؟“ عرض کی: اے اللہ کے رسول! کسریٰ اور قیصر دونوں (کفر کے باوجود) اُس ناز و نعمت میں ہیں جس میں ہیں اور آپ تو اللہ کے رسول ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں پسند نہیں کہ ان کے لیے (صرف) دنیا ہو اور تمہارے لیے آخرت ہو؟“
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَفَّانُ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَقْبَلْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ كَنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : قُلْتُ شَأْنُ الْمَرْأَتَيْنِ ، قَالَ : حَفْصَةُ ، وَأُمُّ سَلَمَةَ ، وَزَادَ فِيهِ : وَأَتَيْتُ الْحُجَرَ ، فَإِذَا فِي كُلِّ بَيْتٍ بُكَاءٌ ، وَزَادَ أَيْضًا : وَكَانَ آلَى مِنْهُنَّ شَهْرًا ، فَلَمَّا كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نَزَلَ إِلَيْهِنَّ .حماد بن سلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبید بن حنین سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ (حج سے) واپس آیا حتیٰ کہ جب ہم مرالظہران میں تھے۔۔۔ آگے سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند پوری لمبی حدیث بیان کی، مگر انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا: میں نے عرض کی: دو عورتوں کا معاملہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: (وہ) حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہن (تھیں)۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا: میں (ازواج مطہرات کے) حجروں کے پاس آیا تو ہر گھر میں رونے کی آواز تھی، اور یہ بھی اضافہ کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک ماہ ایلاء کیا تھا، جب 29 دن ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (بالا خانے سے) اتر کر ان کے پاس تشریف لے آئے۔
وحدثنا وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَّيرُ بْنُ حَرْبٍ : وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ وَهُوَ مَوْلَى الْعَبَّاسِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ : عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَبِثْتُ سَنَةً مَا أَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا حَتَّى صَحِبْتُهُ إِلَى مَكَّةَ ، فَلَمَّا كَانَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ذَهَبَ يَقْضِي حَاجَتَهُ ، فقَالَ : أَدْرِكْنِي بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ وَرَجَعَ ، ذَهَبْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ وَذَكَرْتُ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ " مَنِ الْمَرْأَتَانِ ، فَمَا قَضَيْتُ كَلَامِي حَتَّى ، قَالَ : عَائِشَةُ ، وَحَفْصَةُ " .سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبید بن حنین سے سنا، وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایکا کیا تھا، میں سال بھر منتظر رہا، مجھے کوئی مناسب موقع نہ مل رہا تھا، حتیٰ کہ میں مکہ کے سفر میں ان کے ساتھ گیا، جب ہم مرالظہران پہنچے تو وہ قضائے حاجت کے لیے گئے اور کہا: میرے پاس پانی کا ایک لوٹا لے آنا، میں نے انہیں لا دیا۔ جب وہ اپنی حاجت سے فارغ ہو کر لوٹے، میں جا کر ان (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالنے لگا، تو مجھے (سوال) یاد آ گیا، میں نے ان سے پوچھا: اے امیر المومنین! وہ کون سی دو عورتیں تھیں؟ میں نے ابھی اپنی بات ختم نہ کی تھی کہ انہوں نے جواب دیا: وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہن تھیں۔
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حدثنا ، وقَالَ إِسْحَاقَ : أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ ، عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّتَيْنِ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 ، حَتَّى حَجَّ عُمَرُ ، وَحَجَجْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ عُمَرُ ، وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالْإِدَاوَةِ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ أَتَانِي ، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ فَتَوَضَّأَ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، " مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا : إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 ، قَالَ عُمَرُ : وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : كَرِهَ وَاللَّهِ مَا سَأَلَهُ عَنْهُ وَلَمْ يَكْتُمْهُ ، قَالَ : هِيَ حَفْصَةُ ، وَعَائِشَةُ " ، ثُمَّ أَخَذَ يَسُوقُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : كُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ ، قَالَ : وَكَانَ مَنْزِلِي فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ بِالْعَوَالِي ، فَتَغَضَّبْتُ يَوْمًا عَلَى امْرَأَتِي ، فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعَنِي ، فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي ، فقَالَت : مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ ، فَانْطَلَقْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ : أَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فقَالَت : نَعَمْ ، فَقُلْتُ : أَتَهْجُرُهُ إِحْدَاكُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ ؟ ، قَالَت : نَعَمْ ، قُلْتُ : قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْكُنَّ وَخَسِرَ ، أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ ، لَا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ ، وَلَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمَ وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ ، يُرِيدُ عَائِشَةَ ، قَالَ : وَكَانَ لِي جَارٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا ، فَيَأْتِينِي بِخَبَرِ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ وَآتِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ ، وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا فَنَزَلَ صَاحِبِي ثُمَّ أَتَانِي عِشَاءً ، فَضَرَبَ بَابِي ثُمَّ نَادَانِي ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ، فقَالَ : حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ ، قُلْتُ مَاذَا ، أَجَاءَتْ غَسَّانُ ؟ قَالَ : لَا بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَطْوَلُ : طَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ، فَقُلْتُ : قَدْ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ ، قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا كَائِنًا حَتَّى إِذَا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي ، ثُمَّ نَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَقُلْتُ : أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فقَالَت : لَا أَدْرِي هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ ، فَأَتَيْتُ غُلَامًا لَهُ أَسْوَدَ ، فَقُلْتُ : اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ ، فقَالَ : قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ فَجَلَسْتُ ، فَإِذَا عَنْدَهُ رَهْطٌ جُلُوسٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ ، فَجَلَسْتُ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْغُلَامَ ، فَقُلْتُ : اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ ، فقَالَ : قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا ، فَإِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي ، فقَالَ : ادْخُلْ فَقَدْ أَذِنَ لَكَ ، فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى رَمْلِ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ ، فَقُلْتُ : أَطَلَّقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نِسَاءَكَ ؟ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيَّ ، وَقَالَ : " لَا " ، فَقُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ رَأَيْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ ، فَتَغَضَّبْتُ عَلَى امْرَأَتِي يَوْمًا فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعَنِي ، فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي ، فقَالَت : مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ ، فَقُلْتُ : قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكِ مِنْهُنَّ وَخَسِرَ ، أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ : لَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ مِنْكِ وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ ، فَتَبَسَّمَ أُخْرَى ، فَقُلْتُ : أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، فَجَلَسْتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فِي الْبَيْتِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ إِلَّا أُهَبًا ثَلَاثَةً ، فَقُلْتُ : ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ فَقَدْ وَسَّعَ عَلَى فَارِسَ ، وَالرُّومِ ، وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ ، فَاسْتَوَى جَالِسًا ، ثُمَّ قَالَ : " أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ " ، أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا " ، فَقُلْتُ : اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَانَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ ، حَتَّى عَاتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .
معمر نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں شدت سے خواہش مند رہا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ان دو کے بارے میں سوال کروں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو تو یقیناً تمہارے دل آگے جھک گئے ہیں“ حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج (کا سفر) کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، (واپسی پر) ہم راستے کے ایک حصے میں تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ (اپنی ضرورت کے لیے راستے سے) ایک طرف ہٹ گئے اور میں بھی پانی کا برتن لیے ان کے ساتھ ہٹ گیا، وہ صحرا میں چلے گئے، پھر میرے پاس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی انڈیلا، انہوں نے وضو کیا تو میں نے کہا: اے امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے وہ دو کون سی تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرو تو یقیناً تمہارے دل جھک گئے ہیں؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن عباس! تم پر تعجب ہے!۔۔۔ زہری نے کہا: اللہ کی قسم! انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے جو سوال ان سے کیا، وہ انہیں برا لگا اور انہوں نے (اس کا جواب) چھپایا بھی نہیں۔۔ انہوں نے کہا: وہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہن تھیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بات سنانے لگے اور کہا: ہم قریش کے لوگ ایسی قوم تھے جو اپنی عورتوں پر غالب تھے، جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسے لوگ پائے جن پر ان کی عورتیں غالب تھیں، چنانچہ ہماری عورتوں نے بھی ان کی عورتوں سے سیکھنا شروع کر دیا۔ (مردوں کو پلٹ کر جواب دینے لگیں۔) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا گھر بالائی علاقے بنی امیہ بن زید کے محلے میں تھا، ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا، تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی، مجھے اس کا جواب دینا بڑا ناگوار گزرا تو اس نے کہا: تمہیں یہ ناگوار گزرتا ہے کہ میں تمہیں جواب دوں؟ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے دیتی ہیں، اور ان میں سے کوئی ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات تک پورا دن چھوڑ بھی دیتی ہے (روٹھی رہتی ہے۔) میں چلا، حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب دے دیتی ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے (پھر) پوچھا: کیا تم میں سے کوئی انہیں رات تک دن بھر کے لیے چھوڑ بھی دیتی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں نے کہا: تم میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور خسارے میں پڑی۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات سے بے خوف ہو جاتی ہے کہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کی وجہ سے اللہ (بھی) اس پر ناراض ہو جائے گا تو وہ تباہ و برباد ہو جائے گی؟ (آئندہ) تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب نہ دینا اور نہ ان سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا، تمہیں جو چاہیے مجھ سے مانگ لینا۔ تمہیں یہ بات دھوکے میں نہ ڈال دے کہ تمہاری ہمسائی (سوکن) تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے۔۔ ان کی مراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:۔۔ انصار میں سے میرا ایک پڑوسی تھا۔۔ ہم باری باری (بالائی علاقے سے) اتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ ایک دن وہ اترتا اور ایک دن میں اترتا، وہ میرے پاس وحی وغیرہ کی خبریں لاتا اور میں بھی (اپنی باری کے دن) اس کے پاس اسی طرح کی خبریں لاتا۔ اور (ان دنوں) ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ غسانی ہمارے ساتھ لڑائی کرنے کے لیے گھوڑوں کو کھڑیاں لگا رہے تھے، میرا ساتھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے عوالی سے) اترا، پھر عشاء کے وقت میرے پاس آیا، میرا دروازہ کھٹکھٹایا، پھر مجھے آواز دی، میں باہر نکلا تو اس نے کہا: ایک بہت بڑا واقعہ رونما ہو گیا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا ہوا؟ کیا غسانی آ گئے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ وہ اس سے بھی بڑا اور لمبا چوڑا (معاملہ) ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے کہا: حفصہ تو ناکام ہوئی اور خسارے میں پڑ گئی۔ میں تو (پہلے ہی) سمجھتا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے۔ (دوسرے دن) جب میں صبح کی نماز پڑھ چکا تو اپنے کپڑے پہنے، مدینہ میں آیا اور حفصہ کے پاس گیا، وہ رو رہی تھی۔ میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سب کو طلاق دے دی ہے؟ اس نے کہا: میں نہیں جانتی، البتہ آپ الگ تھلگ اس بالاخانے میں ہیں۔ میں آپ کے سیاہ فام غلام کے پاس آیا، اور اسے کہا: عمر کے لیے اجازت مانگو۔ وہ گیا، پھر میری طرف باہر آیا اور کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارا ذکر کیا مگر آپ خاموش رہے۔ میں چلا آیا حتیٰ کہ منبر کے پاس آ کر بیٹھ گیا، تو وہاں بہت سے لوگ بیٹھے تھے، ان میں سے بعض رو رہے تھے، میں تھوڑی دیر بیٹھا، پھر جو کیفیت مجھ پر طاری تھی وہ مجھ پر غالب آ گئی۔ میں پھر غلام کے پاس آیا اور کہا: عمر کے لیے اجازت مانگو، وہ اندر داخل ہوا، پھر میری طرف باہر آیا اور کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارا ذکر کیا، مگر آپ خاموش رہے۔ میں پیٹھ پھیر کر مڑا تو اچانک غلام مجھے بلانے لگا، اور کہا: اندر چلے جاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اجازت دے دی ہے۔ میں اندر داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا تو دیکھا کہ آپ بنتی کی ایک چٹائی پر سہارا لے کر بیٹھے تھے، جس نے آپ کے پہلو پر نشان ڈال دیے تھے، میں نے عرض کی: کیا آپ نے، اللہ کے رسول! اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے میری طرف (دیکھتے ہوئے) اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: اللہ اکبر۔ اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں دیکھتے تو ہم قریش ایسی قوم تھے جو اپنی عورتوں پر غالب رہتے تھے۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسی قوم کو پایا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں، تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی عورتوں (کی عادت) سے سیکھنا شروع کر دیا، چنانچہ ایک دن میں اپنی بیوی پر برہم ہوا تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی۔ مجھے اس کا جواب دینا انتہائی ناگوار گزرا، اس نے کہا: تمہیں یہ ناگوار گزرتا ہے کہ میں تمہیں جواب دیتی ہوں؟ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دے دیتی ہیں، اور ان میں سے کوئی تو آپ کو رات تک چھوڑ بھی دیتی (روٹھ بھی جاتی) ہے۔ تو میں نے کہا: ان میں سے جس نے ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور خسارے میں پڑی۔ کیا (یہ کام کر کے) ان میں سے کوئی اس بات سے بے خوف ہو سکتی ہے کہ اپنے رسول کی ناراضی کی وجہ سے اللہ اس پر ناراض ہو جائے (اگر ایسا ہوا) تو وہ تباہ ہو گئی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں حفصہ کے پاس گیا اور اس سے کہا: تمہیں یہ بات کسی دھوکے میں نہ ڈال دے کہ تمہاری ہمسائی (سوکن) تم سے زیادہ خوبصورت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ محبوب ہے۔ اس پر آپ دوبارہ مسکرائے تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! (کچھ دیر بیٹھ کر) بات چیت کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ چنانچہ میں بیٹھ گیا اور میں نے سر اوپر کر کے گھر میں نگاہ دوڑائی تو اللہ کی قسم! اس میں تین چمڑوں کے سوا کچھ نہ تھا جس پر نظر پڑتی، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! دعا فرمائیے کہ اللہ آپ کی امت پر فراخی فرمائے۔ فارسیوں اور رومیوں پر وسعت کی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، پھر فرمایا: ”ابن خطاب! کیا تم کسی شک میں مبتلا ہو؟ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ان (کے حصے) کی اچھی چیزیں جلد ہی دنیا میں دے دی گئی ہیں۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش طلب کیجیے۔ اور آپ نے ان (ازواج) پر سخت غصے کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ ایک مہینہ ان کے پاس نہیں جائیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر عتاب فرمایا۔ (کہ بیویوں کی بات پر آپ کیوں غمزدہ ہوتے اور حلال چیزوں سے دور رہنے کی قسم کھاتے ہیں۔)
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
یَنْكُتُوْنَ بِالْحِصيٰ: زمین پر فکر مند اور غمزدہ ہو کر کنکریوں کے ساتھ نکتے لگارہے تھے۔
(2)
عَلَيْكَ بِعَيْبَتِكَ: عَيْبَةٌ: اس برتن یا ہتھیلی کو کہتے ہیں جس میں انسان اپنے بہترین کپڑے اور قیمتی اشیاء محفوظ کرتا ہے، مراد اپنی اصل دلچسپی کی چیز ہے یعنی اپنی بیٹی حفصہ کو وعظ و نصیحت کرو۔
(3)
لَوْلَا اَنَا لَطَلَّقَكِ رَسُوْلُ اللهِ: میرے لحاظ اور رعایت کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق نہیں دے رہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت حفصہ کو طلاق دے دی تھی، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خاطر اور ان کے روزہ دار اور تہجد گزار ہونے کی بنا پر، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کورجوع کا حکم ملا تھا۔
(4)
مَشْرُبَةٍ: مشروب خانہ، مَشْرُبَۃ: بالاخانہ۔
(5)
أُسْكُفَّةٌ: چوکھٹ، دہلیز۔
(6)
قَرَظٌ: کیکرکے پتے، جن سے کچے چمڑے رنگے جاتے ہیں۔
أَفِیْقٌ: وہ چمڑا جو ابھی پوری طرح رنگا نہ گیا ہو۔
(7)
وَاِنْ تَظَاهَرَ اعَلَيْهِ: اے عائشہ و حفصہ! اگر تم دونوں ایک ایسے کام پر ایکا اور اتفاق کر لو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تکلیف دہ ہے اور اس کا راز ظاہر کر دو، تو تم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ، جبریل، مومن اور فرشتے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےمعاون و مددگار ہیں۔
(8)
تَحَسَّرالْغَضَبُ عَنْ وَجْهِهِ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور سے غصہ کے آثار مٹ گئے۔
(9)
کَشَرَ: مسکراہٹ سے دانت ظاہر ہو گئے۔
(10)
أَتَشَبَّثُ بِاْلجِذْعِ: (میں گرنے کے خوف سے)
تنے کو پکڑ کر اتر رہا تھا۔
(11)
وَمَا يَمَسُّهُ بِيَدِهِ: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی اعتماد و وثوق سے بلا خوف و خطر، بغیر سہارا لیے (ہاتھ لگائے)
اتر رہے تھے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین کو تخییر دینے کا واقعہ پردہ کے احکام نازل ہونے سے پہلے پیش آیا ہے، حالانکہ واقعہ تخییر کے وقت حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما مدینہ منورہ میں موجود تھے، اور وہ اپنے والدین کے ساتھ فتح مکہ 8 ہجری کے بعد مدینہ منورہ آئے ہیں اور حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آ چکی تھیں اور پردہ کے احکام انہیں کی شادی کے موقع پر ان کے ولیمہ میں 4 ہجری یا 5 ہجری میں نازل ہو چکے تھے۔
اس لیے وا قعہ تخییر کو پردہ کے احکام نازل ہونے سے پہلے قرار دینا محض راوی کا وہم ہے جو اسے اس لیے پیدا ہو گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور ان سے پوچھا حالانکہ سوال و جواب پس پردہ ہوئے تھے نیز اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے، کہ آیت: ﴿وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ)
جب امن یا جنگ کی کوئی بات ان کے سامنے آتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں جبکہ مشہور یہ ہے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت کا نزول جنگی معاملات کی تشہیر جو منافق غلط طریقہ سے مسلمانوں میں بد دلی پھیلانے کے لیے کرتے تھے، کہ سلسلہ میں ہوا ہے، تو یہ دونوں قسم کے واقعات حالت امن میں غلط طور پر طلاق دینے کی تشہیر اور حالت جنگ میں جھوٹی جنگی خبروں کی تشہیر کے سلسلہ میں نازل ہوئی یا دونوں اس کا مصداق ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جس واقعہ پر کوئی آیت چسپاں ہوتی یا اس پر صادق آتی اگرچہ نزول کے بعد یا پہلے پیش آ چکا ہوتا تو کہہ دیتے (نُزِلَت فِي كَذا)
یہ واقعہ بھی اس کا مصداق ہے۔
(1)
خاوند کو عورتوں کی نافرمانی اور ان کی منہ زوری سے روکنے کے لیے تین اقدام کرنے کی اجازت دی گئی ہے: ٭ وعظ و نصیحت ٭ اپنے بستروں سے انھیں علیحدہ کرنا ٭ انھیں ہلکا پھلکا زد و کوب کرنا۔
ان سے علیحدگی اختیار کرنے کی دو صورتیں ممکن ہیں: ٭گھر میں رہتے ہوئے ان سے قطع تعلقی کر لی جائے۔
٭گھر کے علاوہ دوسری جگہ میں خلوت نشینی اختیار کی جائے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت کیا ہے کہ گھر کے علاوہ دوسری جگہ میں بھی علیحدگی ہو سکتی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ موقع محل اور عورت کے مزاج کے مطابق کسی بھی جگہ کو گوشہ نشینی کے لیے اختیار کیا جاسکتا ہے۔
بعض دفعہ گھر میں علیحدگی کار گر ثابت ہوتی ہے جبکہ کسی موقع پر گھر کے علاوہ دوسری جگہ پر علیحدگی اختیار کرنا مفید ثابت ہوتا ہے۔
والله اعلم (فتح الباري: 374/9)
اس تحقیق کے لیے آئے اور ایک دن دربان رباح نامی کی اجازت لینے پر اعتماد کیا۔
اس سے خبر واحد کا حجت کا ہونا ثابت ہوا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ خبر سنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے۔
تو وہ بہت فکر مند ہوئے۔
اس امر کی تحقیق کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو وہاں سیڑھیوں پر ایک دربان تعینات تھا۔
انھوں نے اس سے کہا: میرے لیےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندرآنے کی اجازت طلب کرو۔
چنانچہ وہ اکیلا تھا اور اس کے اجازت لینے پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعتماد کیا اور اس کی اطلاع کو قابل یقین خیال کیا۔
اس سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے خبر واحد کی حجیت کو ثابت کیا ہے۔
بہر حال خبر واحد حجت ہے خواہ اس کا تعلق ایمانیات سے ہویا اعمال سے اس قسم کی تفریق خود ساختہ اور بناوٹی ہے۔
واللہ أعلم۔
«. . . وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِخَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ . . .»
". . . ہم دونوں باری باری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت شریف میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ ایک دن وہ آتا، ایک دن میں آتا۔ جس دن میں آتا اس دن کی وحی کی اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمودہ) دیگر باتوں کی اس کو خبر دے دیتا تھا اور جب وہ آتا تھا تو وہ بھی اسی طرح کرتا . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 89]
اس انصاری کا نام عتبان بن مالک تھا۔ اس روایت سے ثابت ہوا کہ خبر واحد پر اعتماد کرنا درست ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گھبرا کر اس لیے پوچھا کہ ان دنوں مدینہ پر غسان کے بادشاہ کے حملہ کی افواہ گرم تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سمجھے کہ شاید غسان کا بادشاہ آ گیا ہے۔ اسی لیے آپ گھبرا کر باہر نکلے پھر انصاری کی خبر پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا کہ اس نے ایسی بے اصل بات کیوں کہی۔ اسی لیے بے ساختہ آپ کی زبان پر نعرہ تکبیر آ گیا۔ باری اس لیے مقرر کی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تاجر پیشہ تھے اور وہ انصاری بھائی بھی کاروباری تھے۔ اس لیے تاکہ اپنا کام بھی جاری رہے اور علوم نبوی سے بھی محرومی نہ ہو۔ معلوم ہوا کہ طلب معاش کے لیے بھی اہتمام ضروری ہے۔ اس حدیث کی باقی شرح کتاب النکاح میں آئے گی۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود یہ ہے کہ انسان کو دینی اور دنیوی ضروریات کے لیے علم حاصل کرنا ضروری ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی مصروفیات میں اس طرح پھنس جاتا ہے کہ اسے حصول علم کے لیے وقت نہیں ملتا۔
ایسے حالات میں ضروری ہے کہ چند ساتھی مل کر ایک کمیٹی بنا لیں اور تقسیم کار کر لیں، ایک دن ایک شخص عالم دین کی خدمت میں حاضری دے اور دینی باتیں سیکھ کر اپنے دوسرے ساتھیوں کو سنائے۔
دوسرے دن دوسرا حاضری دے اور پہلا کاروباری مصروفیات انجام دے۔
اس طرح بآسانی یہ لوگ علم دین حاصل کرسکیں گے۔
مذکورہ حدیث میں اس طریقے کا ذکر ہے۔
آج کل تو دینی علوم پر مشتمل بہترین کتابیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں، ان کتابوں کو مہیا کرنے میں عالمی ادارہ دارالسلام سرفہرست ہے۔
اس کے علاوہ خطباء واعظین گاؤں گاؤں قریہ قریہ جاکر اہل دیہہ کو تعلیم دیتے ہیں، لہٰذا اس دور میں جہالت کاکوئی عذر باقی نہیں رہنا چاہیے۔
2۔
اس حدیث سے خبر واحد کی حجیت اور مراسیل صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین پر عمل کرنے کا پتہ چلتا ہے، نیز طالب علم کے لیے ہدایت ہے کہ وہ اپنے معاشی حالات پر بھی نظر رکھے اور جس دن مجلس علم میں حاضر نہ ہوسکے اس دن کی دینی معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی کوتاہی کو اپنے پاس نہ آنے دے۔
(فتح الباري 245/1)
3۔
اہل مکہ کی عورتیں اپنے خاوندوں سے مرعوب رہتی تھیں جبکہ مدینے میں اس کے برعکس عورتوں کا غلبہ تھا۔
ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ متفکر بیٹھے تھے کہ ان کی بیوی نے اس کی وجہ پوچھی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں اس لیے پریشان ہوں کہ تم ہر کام میں دخل دیتی ہو۔
بیوی نے جواب دیا: آپ خواہ مخواہ ناراض ہو رہے ہیں۔
اس میں میرا کیا قصور ہے، ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات میں مداخلت کرتی ہیں۔
اس سے آپ کو تکلیف پہنچی، فوراً تیاری کر کےحضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سمجھانے کے لیے تشریف لے گئے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4913)
اس سے معلوم ہوا کہ اپنی بیٹیوں کو خاوند کی اطاعت اور فرمانبرداری کی نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔
دیگر تفصیلات کتاب النکاح میں ذکر کی جائیں گی۔
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ اپنے ایک کمرے میں تھے، اور کہا: اللہ کے رسول! " السلام عليكم " کیا عمر اندر آ سکتا ہے ۱؎؟۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5201]
یہ ایک لمبی حدیث کا حصہ ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ نے پہلی اور دوسری بار اجازت طلب کی تو نہ ملی پھر طلب کی تو مل گئی۔
اس وقفے میں آپ بار بار السلام علیکم کہتے رہے ہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: مجھے برابر اس بات کا اشتیاق رہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «إن تتوبا إلى اللہ فقد صغت قلوبكما» " اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لو (تو بہتر ہے) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں " (التحریم: ۴) میں کیا ہے، پھر پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2134]
(2) جب محسوس ہو کہ آدمی قسم توڑ رہا ہے تو اسے یاد کرایا جا سکتا ہے۔
ابویعفور کہتے ہیں کہ ہم ابوالضحیٰ کے پاس تھے اور ہماری بحث مہینہ کے بارے میں چھڑ گئی، بعض نے کہا کہ مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے اور بعض نے کہا: انتیس (۲۹) دن کا۔ ابوالضحیٰ نے کہا: (سنو) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے حدیث بیان کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک صبح ہم سب کی ایسی آئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں رو رہی تھیں اور ان سبھی کے پاس ان کے گھر والے موجود تھے، میں مسجد میں پہنچا تو مسجد (کھچا کھچ)۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3485]
(2) "رورہی تھیں" انہیں یہ خیال ہوگیا تھا کہ شاید ایسی قسم کھانے سے طلاق پڑجاتی ہے۔ یا ممکن ہے آپ کی ناراضی اور جدائی کی بنا پر رورہی ہوں۔
(3) "کسی نے جواب نہ دیا" یعنی اندر آنے کی اجازت نہ دی۔ سلام کا جواب آہستہ دے لیا ہو گا۔
(4) "انتیس دن" کیونکہ مہینہ انتیس کا بھی ہوسکتا ہے‘ تیس کا بھی۔ شریعت نے انتیس دن کو پورا مہینہ قراردیا ہے‘ لہٰذا اگر قسم ایک ماہ کی ہو تو انتیس دن بعد وہ قسم پوری ہوجائے گی‘ چاہے کسی بھی چیز کے بارے میں ہو۔
(5) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی اکرمﷺ کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے اور ہر چھوٹی بڑی پریشانی میں اپنا ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے مسابقت کرتے تھے۔رَضِیَ اللّٰہُ عَنْهم وَرَضُوْعَنْه۔
(6) ضرورت کے تحت ایک سے زائد منزلہ عمارت بنائی جاسکتی ہے لیکن اس کی بناوٹ ایسی ہو کہ پڑوسیوں کے گھروں میں نظر نہ پڑے تاکہ انہیں پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
(7) قسم کھانے والے کے بارے میں اگر یہ شبہ ہو کہ یہ بھول گیا ہے تو اسے یاد کرا دینا چاہیے جیسا کہ آئندہ حدیث میں آرہا ہے۔