صحيح مسلم
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لاَ يَكُونُ طَلاَقًا إِلاَّ بِالنِّيَّةِ: باب: تخییر سے طلاق نہیں ہوتی مگر جب نیت ہو۔
حدثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حدثنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُنَا إِذَا كَانَ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ مَا نَزَلَتْ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51 " ، فقَالَت لَهَا مُعَاذَةُ : فَمَا كُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَكِ ، قَالَت : كُنْتُ أَقُولُ إِنْ كَانَ ذَاكَ إِلَيَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِي ،عباد بن عباد نے ہمیں عاصم سے حدیث بیان کی، انہوں نے معاذہ عدویہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب ہم میں سے کسی بیوی کی باری کا دن ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی اور بیوی کے ہاں جانے کے لیے) ہم سے اجازت لیتے تھے، حالانکہ یہ آیت نازل ہو چکی تھی: ”آپ ان میں سے جسے چاہیں (خود سے) الگ رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں۔“ تو معاذہ نے ان سے پوچھا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے اجازت لیتے تو آپ ان سے کیا کہتی تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں کہتی تھی: اگر یہ (اختیار) میرے سپرد ہے تو میں اپنے آپ پر کسی کو ترجیح نہیں دیتی۔
وحدثناه الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنا عَاصِمٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .عبداللہ بن مبارک نے کہا: ہمیں عاصم نے اسی سند سے اسی کے ہم معنی خبر دی۔
تشریح، فوائد و مسائل
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت و معاشرت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کی جو برکات اور خیرات ہیں ان سے محروم ہونا نہیں چاہتی۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آیت کریمہ: «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» ” آپ ان میں سے جسے آپ چاہیں دور رکھیں اور جسے آپ چاہیں اپنے پاس رکھیں “ (سورۃ الاحزاب: ۵۱) نازل ہوئی تو ہم میں سے جس کسی کی باری ہوتی تھی اس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اجازت لیتے تھے۔ معاذہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: آپ ایسے موقع پر کیا کہتی تھیں؟ کہنے لگیں: میں تو یہ ہی کہتی تھی کہ اگر میرا بس چلے تو میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہ دوں۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2136]
سورۃ احزاب کی اس آیت نمبر 51 میں اللہ عزوجل نے اپنئ نبی ﷺ کو بیویوں میں باری کے مسئلے میں بصراحت رخصت عنایت فرمائی ہے مگر آپ ﷺاس رخصت کے باوجود تقسیم کی وعزیمت پر قائم رہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ کا اپنے آپ کو ترجیح دینا کسی نفسانی حظ کی بنا پر نہ تھا بلکہ اس شرف خدمت کی بنا پر تھا جو ان کے قریب سے حاصل ہوتا تھا اور سب سے بڑھ کر نزول برکات اوراللہ کے ہاں رفع درجات کا سبب تھا۔