صحيح مسلم
كتاب الرضاع— رضاعت کے احکام و مسائل
باب الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ: باب: عورتوں کے ساتھ خوش خلقی کرنے کاحکم۔
حدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ ، فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ ، وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا ، وَكَسْرُهَا طَلَاقُهَا " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کی سرشت میں کجی ہے وہ ایک رویہ پر قائم نہیں رہ سکتی۔ اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو کجی کو برداشت کر کے فائدہ اٹھا لو اور اگر اس کو سیدھا کرنے لگو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اس کا توڑنا طلاق ہے۔‘‘
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حدثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَإِذَا شَهِدَ أَمْرًا فَلْيَتَكَلَّمْ بِخَيْرٍ أَوْ لِيَسْكُتْ ، وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ ، أَعْلَاهُ إِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ ، اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ جب کسی معاملہ سے دوچار ہو کوئی بات پیش آئے تو اچھی بات کہے یا خاموش رہے، اور عورتوں سے خیرخواہی کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور پسلی کا اوپر کا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرنے لگو گے اس کو توڑ دو گے۔ اور اگر اس کو چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھا ہی رہے گا۔ عورتوں سے خیرخواہی کرو۔‘‘
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ كَالضِّلَعِ إِذَا ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا ، وَإِنْ تَرَكْتَهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ " ،یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے ابن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ عورت پسلی کی طرح ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنے لگ جاؤ گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو اس سے فائدہ اٹھاؤ گے جبکہ اس میں ٹیڑھا پن (موجود) ہو گا۔“
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، مِثْلَهُ سَوَاءً .زہری کے بھتیجے نے اپنے چچا (زہری) سے اسی سند کے ساتھ بالکل اسی کے مانند روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ایک روایت میں ہے: ’’عورت آپ کے مزاج کے مطابق بالکل سیدھی نہیں ہوگی، اس لیے اس میں ٹیڑھ کے ہوتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھاتے رہو۔
اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو گے تو ٹوٹ جائے گی اور اس کا ٹوٹ جانا اسے طلاق مل جانا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الرضاع، حدیث: 3643 (715)
ایک دوسری روایت میں ہے: ’’پسلی کا ٹیڑھا حصہ اوپر کی طرف ہوتا ہے۔
‘‘(صحیح مسلم، الرضاع، حدیث: 3644 (715) (2)
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ عورت کا ٹیڑھا پن بھی اوپر کی طرف، یعنی زبان کی جانب ہے، اس لیے عورت کی زبان درازی اور سخت گوئی پر صبر کرتے ہوئے زندگی کے دن بسر کیے جائیں۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت ذات سے نرمی اور رواداری سے کام لینا چاہیے۔
نتیجے میں گھر اجڑ جاتے ہیں۔
والله اعلم
عِوَجٌ: نظر آنے والی چیزوں کی کجی اور ٹیڑھ کو کہتے ہیں اور غیرمادی اشیاء میں کجی کو عِوَج کہتے ہیں۔
فوائد ومسائل: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو پسلی کے ساتھ تشبیہ دے کر، انتہائی بلیغ اور مؤثر طریقہ سے یہ بات سمجھا دی ہے کہ جس طرح پسلی کوسیدھا کرنا ممکن نہیں ہے اسی طرح عورت کو بالکل سیدھا کر دینا کہ اس کی کجی اور نقص مکمل طورپر دور ہو جائے ممکن نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے طبعی اور فطری طور پر اس کی سرشت میں کچھ درشتی اور بداخلاقی رکھی ہے اس کو گوارا کرنا چاہیے۔
اور اس کی کجی کو مکمل طور پر دور کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے وگرنہ اس کا نتیجہ ناچاقی اور طلاق نکلے گا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عورت کی مثال پسلی کی ہے ۱؎ اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے یوں ہی چھوڑے رکھا تو ٹیڑھ کے باوجود تم اس سے لطف اندوز ہو گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1188]
وضاحت:
1؎:
یعنی عورتوں کی خلقت ہی میں کچھ ایسی بات ہے، لہٰذا جس فطرت پر وہ پیداکی گئیں ہیں اس سے انہیں بدلا نہیں جا سکتا۔
اس لیے ان باتوں کا لحاظ کرکے ان کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں تاکہ معاشرتی زندگی سکون اورآرام وچین کی ہو۔
اس حدیث میں عورت کی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ عورت فطری طور پر کج روی اور ٹیز ھے پن کو پسند کرتی ہے، اور اکثر معاملات میں یہ الٹ جاتی ہے، اس فطری کمزوری کے باوجود عورت کو ہی دنیا کی سب سے بہترین چیز کہا گیا ہے، جب وہ نیک ہو، اور عورت کو ہی شیطان کی رسیاں کہا گیا ہے، جب عورت نیکی اور تقوی سے دور ہو۔
انسان کو عورت بہت زیادہ فائدہ پہنچاتی ہے، مثلاً تسکین کا باعث ہے، ایمان کی حفاظت کا باعث ہے، اللہ تعالیٰ اس سے اولاد پیدا فرماتا ہے، امور خانہ کی حکمران ہے، وغیرہ۔
جب اس قدر زیادہ فوائد عورت سے حاصل ہوتے ہیں تو اس کے چھوٹے موٹے ٹیڑھے پن کو بھی برداشت کرنا چاہیے، یہ بھی یاد رہے کہ اس حدیث کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مرد ٹیڑھے نہیں ہوتے ہیں موجودہ دور میں کس قدر زیادہ مرد عورتوں سے بھی بدتر نظر آتے ہیں میں تعلیم و تربیت کے فقدان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمارے مسلمانوں کو قرآن و حدیث کا شعور عطا فرمائے، آمین۔