صحيح مسلم
كتاب الرضاع— رضاعت کے احکام و مسائل
باب جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضَرَّتِهَا: باب: اپنی باری سوکن کو ہبہ کرنے کا بیان۔
حدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَكُونَ فِي مِسْلَاخِهَا مِنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ مِنَ امْرَأَةٍ فِيهَا حِدَّةٌ ، قَالَت : " فَلَمَّا كَبِرَتْ جَعَلَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ ، قَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ ، يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَةَ " ،حضرت عائشہ رضی اللہتعالی عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے کسی عورت کو نہیں دیکھا، جس جیسا میں ہونا پسند کرتی، سوائے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے۔ وہ ایک ایسی عورت تھی جس میں تیزی (حدت) تھی یعنی وہ گرم مزاج تھیں۔ جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو اس نے اپنی باری جو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل تھی، مجھے دے دی۔ اس نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی باری عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دے دی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دو دن دیتے تھے۔ اس کا اپنا اور سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا۔
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حدثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حدثنا زُهَيْرٌ . ح وحدثنا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حدثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حدثنا شَرِيكٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ : أَنَّ سَوْدَةَ لَمَّا كَبِرَتْ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ شَرِيكٍ ، قَالَت : وَكَانَتْ أَوَّلَ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا بَعْدِي .عقبہ بن خالد، زہیر اور شریک، ان سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جب بوڑھی ہو گئیں۔۔۔ آگے جریر کی حدیث کے ہم معنی ہے اور شریک کی حدیث میں یہ اضافہ ہے: وہ پہلی خاتون تھیں جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بعد نکاح کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
مَسْلاَخٌ: جلد، چمڑا یعنی میری آرزو اور تمنا یہ تھی۔
میں ان جیسی ہو جاؤں، کیونکہ وہ انتہائی متین اور سنجیدہ تھیں، نہایت سخی اور صابرہ وعبادت گزار تھیں۔
فوائد ومسائل: حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے طلاق دے دیں گے اور واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی، اور پھر ان کی خواہش پر کہ میں چاہتی ہوں کہ میں قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں اٹھوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع فرما لیا شاید اس کی یہ حکمت ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عملاً اس آیت مبارکہ کی تفسیر بیان کرنا چاہتے تھے کہ اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی زیادتی یا روگردانی کا خطرہ ہو تو ان دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں صلح کر لیں (نساء: 9۔
178)
نیز عملاً طلاق دینے اور رجوع کرنے کا امت کے لیے اسوہ چھوڑیں کیونکہ معلم کتاب تھے۔
چونکہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کبرسنی کی بنا پر مردوں کی خواہش نہیں رہی تھی۔
اس لیے انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دے دی کیونکہ وہ محبوبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھیں۔
جس سے معلوم ہوا عورت اپنی باری اپنی سوکن کو دے سکتی ہےکیونکہ یہ اس کا حق ہے لیکن خاوند کی رضا مندی ضروری ہے۔
اگرخاوند کوباری چھوڑ دے تو پھر خاوند جس کو چاہے دے سکتا ہے۔
شوافع اور حنابلہ کا یہی مؤقف ہے اور احناف میں علامہ ابن الہمام اور شامی نے اس مؤقف کو اختیار کیا ہے لیکن اگردونوں کا دن متصل نہ ہو تو باقی ازواج کی رضا کے بغیر اس کومتصل نہیں کیا جا سکتا۔
(1)
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب عمر رسیدہ ہو گئیں اور انھیں خطرہ محسوس ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اپنے سے جدا کر دیں گے تو انھوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتی ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست کو شرف قبولیت سے نوازا۔
(سنن أبی داود، النکاح، حدیث: 2135) (2)
جب کوئی اپنی باری کا دن سوکن کو ہبہ کر دے تو اسے وہی دن ملے گا جو اس کی باری کا ہے۔
اگر اس کے متصل ہے تو مسلسل دو دن اس کے ہوں گے، بصورت دیگر ان دنوں میں فاصلہ ہوگا۔
اگر باقی بیویاں اگلے دنوں پر راضی ہوں تو اسے اکٹھے دو دن بھی مل سکتے ہیں۔
(فتح الباري: 388/9)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئیں، تو انہوں نے اپنی باری کا دن عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سودہ رضی اللہ عنہا کی باری والے دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1972]
فوائد و مسائل:
(1)
خاوند کا باری کے مطابق اپنی بیوی کے ہاں رات گزارنا عورت کا حق ہے، اسی لیے وہ اپنے حق سے دست بردار بھی ہو سکتی ہے اور اپنا حق کسی اور کو بھی دے سکتی ہے۔
(2)
باری چھوڑ دینے کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کے تمام حقوق ساقط ہو گئے۔
مذکورہ صورت میں مرد کو چاہیے کہ دیگر حقوق کی ادائیگی کا خاص خیال رکھے۔
(3)
رسول اللہ ﷺ پر باری کے مطابق بیویوں کے پاس رہنا فرض نہیں تھا۔
اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ ۖ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ﴾(الأحزاب: 51)
’’ان میں سےجسے توچاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے۔
اور اگر تو ان میں سے کسی کو اپنے پاس بلا ئے جنھیں تو نے الگ کر رکھا تھا تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘
اس کے باوجود نبی ﷺ باری کا اہتمام فرماتے تھے۔
یہ آپ ﷺ کا کمال حسن خلق ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری کا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ان کا اپنا دن بھی اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا دن بھی تقسیم کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 909»
«أخرجه البخاري، النكاح، باب المرأة تهب يومها من زوجها لضرتها....، حديث:5212، ومسلم، الرضاع، باب جواز هبتها نوبتها لضرتها، حديث:1463.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی بیوی اپنی باری دوسری بیوی کو دے سکتی ہے۔
یہ بخشش ناقابل رجوع اور ناقابل واپسی ہوگی بشرطیکہ ایام کی تعیین نہ کی گئی ہو۔