حدیث نمبر: 1454
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ : " أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ : وَاللَّهِ مَا نَرَى هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلَا رَائِينَا " .

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی تھیں کہ تمام ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ رضاعت کبیر سے کسی کو اپنے پاس آنے دیں، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا، اللہ کی قسم! ہمارے خیال میں یہ تو محض ایک رخصت تھی جو اپنے مخصوص طور پر صرف سالم کو دی، اس لیے کوئی انسان ہمارے پاس اس رضاعت سے نہیں آ سکتا اور نہ ہی ہمیں دیکھ سکتا ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1454
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی تھیں کہ تمام ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ رضاعت کبیر سے کسی کو اپنے پاس آنے دیں، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا، اللہ کی قسم! ہمارے خیال میں یہ تو محض ایک رخصت تھی جو اپنے مخصوص طور پر صرف سالم کو دی، اس لیے کوئی انسان ہمارے پاس اس رضاعت سے نہیں آ سکتا اور نہ ہی ہمیں دیکھ سکتا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3605]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اصول رضاعت، اِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ: رضاعت وہی معتبر ہے جب اس سے بھوک ختم ہوتی ہو، یعنی جب بچہ کی اصل غذا دودھ ہی ہو دوسری چیزیں اسے صرف ثانوی طور پر دی جاتی ہوں۔
اس لیے ازواج مطہرات کا یہ مؤقف تھا کہ رضاعت صرف اس وقت تک سبب حرمت بنتی ہے جب بچہ دودھ پی رہا ہو، مدت رضاعت جو دوسال ہے۔
اس کے بعد رضاعت معتبر نہیں ہے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سہلہ بنت سہیل کو اجازت دی تھی وہ ان کے خصوصی حالات کی بنا پر ان کے لیے ہی سالم کے لیے مخصوص اجازت تھی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1454 سے ماخوذ ہے۔