حدیث نمبر: 1452
حدثنا حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَت : " كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ " .

عبداللہ بن ابی بکرہ نے عمرہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: قرآن میں نازل کیا گیا تھا کہ دس بار دودھ پلانا جن کا علم ہو، حرمت کا سبب بن جاتا ہے، پھر انہیں پانچ بار دودھ پلانے (کے حکم) سے جن کا علم ہو، منسوخ کر دیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو یہ ان آیات میں تھی جن کی (نسخ کا حکم نہ جاننے والے بعض لوگوں کی طرف سے) قرآن میں تلاوت کی جاتی تھی۔

حدثنا حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعَنْبِيُّ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ وَهِيَ تَذْكُرُ الَّذِي يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، قَالَت عَمْرَةُ : فقَالَت عَائِشَةُ : " نَزَلَ فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ ، ثُمَّ نَزَلَ أَيْضًا خَمْسٌ مَعْلُومَاتٌ " ،

سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔۔۔ وہ اس رضاعت کا ذکر کر رہی تھیں جس سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔ عمرہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: قرآن میں دس بار دودھ پلانے سے جن کا علم ہو، (حرمت ثابت ہونے) کا حکم نازل ہوا تھا، پھر یہ (حکم) بھی نازل ہوا تھا: پانچ بار دودھ پلانے سے جن کا علم ہو۔

وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ بِمِثْلِهِ .

عبدالوہاب نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے عمرہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں۔۔ (آگے) اسی کے مانند (ہے)۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرضاع / حدیث: 1452
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 578

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں قرآنِ مجید میں نازل ہوا تھا کہ دس یقینی رضعات سے حرمت لازم ٹھہرتی ہے۔ پھر ان رضعات کو پانچ یقینی رضعات سے منسوخ کر دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک (بعض لوگ) ان کی قرآن کی طرح قراءت کرتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3597]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: پانچ رضعات کی تلاوت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بالکل آخری دور میں منسوخ ہو گئی تھی۔
لیکن جن حضرات کو نسخ کا ابھی پتہ نہیں چل سکا تھا وہ اس کی قرائت کرتے تھے۔
لیکن چونکہ ان کی قراءت منسوخ ہوچکی تھی اس لیے مصحف امام میں ان کو لکھا نہیں گیا اور اس پر امت کا اتفاق ہے۔
لیکن ان کا حکم بر قرار ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1452 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 578 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´«عشر رضعات» والی آیت منسوخ ہے`
«. . . 311- وبه: أنها قالت: كان فيما أنزل من القرآن عشر رضعات معلومات يحرمن، ثم نسخن بخمس معلومات، فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهن مما يقرأ من القرآن. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ قرآن میں (پہلے) «عَشرُ رضعاتٍ مَعلوماتٍ» دس دفعہ دودھ پلانا ہے معلوم طریقے سے، نازل ہوئی پھر پانچ دفعہ معلوم طریقے سے، کے ساتھ یہ منسوخ ہو گئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو یہ قرآن میں پڑھی جاتی تھی . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 578]
تخریج الحدیث: [وأخرجه مسلم 1452، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ منسوخ آیت (دس رضعات والی) وہی آیت ہے جوکسی صحیفے پر لکھی ہوئی تھی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سرہانے کے نیچے رکھی ہوئی تھی، اسے بعد میں بکری کھاگئی۔ دیکھئے [مسند أحمد 269/6 ح36316 وسند حسن، سنن ابن ماجه: 1944]
● خمس رضعات والی آیت کی تلاوت بھی منسوخ ہوگئی تھی لیکن حکم باقی رہا۔
● جس آیت کی تلاوت منسوخ ہوگئی تھی اگر وہ اس طرح سے نہ اٹھائی جاتی تو یہ ڈر تھا کہ کہیں قرآن میں لکھ دی جائے۔ اس سے رافضیوں کا وہ عقیدہ ثابت نہیں ہوتا جس میں بعض کہتے ہیں کہ قرآن کے چالیس پارے تھے جن میں سے دس پارے بکری کھا گئی۔ رافضیوں کی یہ بات بالکل جھوٹ ہے۔
➋ نیز دیکھئے [الموطأ حديث: 310، البخاري 2646، ومسلم 1444]
➌ آیت مذکورہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی منسوخ ہوگئی تھی مگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو علم نہیں تھا۔
● معلوم ہوا کہ بڑے سے بڑے عالم پر بھی بعض دلائل مخفی رہ سکتے ہیں۔
➍ قرآن وحدیث میں بعض احکام میں ناسخ ومنسوخ واقع ہوا ہے۔
➎ یہ عین ممکن ہے بعض لوگوں تک ناسخ نہ پہنچے اور وہ سابقہ حکم (منسوخ) پر عمل کرتے رہیں۔
➏ ناسخ کے آ جانے اور علم ہونے کے بعد منسوخ پرعمل جائز نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 311 سے ماخوذ ہے۔