صحيح مسلم
كتاب الرضاع— رضاعت کے احکام و مسائل
باب فِي الْمَصَّةِ وَالْمَصَّتَيْنِ: باب: ایک یا دو بار دودھ چوسنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1450
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل . ح وحدثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ سُوَيْدٌ ، وَزُهَيْرٌ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " .زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور سوید بن سعید نے، اپنی اپنی سندوں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔ سوید اور زہیر نے کہا: بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔: ”(دودھ کی) ایک یا دو چسکیاں حرمت کا سبب نہیں بنتیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک دو دفعہ دودھ چوسنے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3590]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
مَصَّةٌ: (ن۔
س)
ایک بار پستان چوسنا۔
مَصَّةٌ: (ن۔
س)
ایک بار پستان چوسنا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1450 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2063 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کیا پانچ گھونٹ سے کم دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہو گی؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک یا دو چوس حرمت ثابت نہیں کرتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2063]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک یا دو چوس حرمت ثابت نہیں کرتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2063]
فوائد ومسائل:
بلکہ جب تک پانچ مرتبہ (مذکورہ طریقے سے) دودھ پیے، حرمت رضا عت ثابت نہیں ہو گی۔
بلکہ جب تک پانچ مرتبہ (مذکورہ طریقے سے) دودھ پیے، حرمت رضا عت ثابت نہیں ہو گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2063 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3312 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کس قدر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا (نکاح کو) حرام نہیں کرتا ۱؎۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3312]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا (نکاح کو) حرام نہیں کرتا ۱؎۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3312]
اردو حاشہ: احادیث میں مختلف الفاظ ہیں: [مَصَّةُ،إملاجة،خَطْفَة] وغیرہ۔ سب کا مفہوم ایک ہے‘ یعنی ایک دفعہ پستان منہ میں ڈال کر دودھ چوستے رہنا حتیٰ کہ پستان منہ سے نکال دیا جائے۔ بعض مسائل میں شریعت نے قلیل وکثیر میں فرق کیا ہے‘ جیسے ماء قلیل اور ماء کثیر‘ اسی طرح رضاعت کے مسئلے میں بھی قلیل وکثیر کا فرق ہے بایں طور کہ قلیل کو معتبر نہیں سمجھا گیا حتیٰ کہ دودھ پینا باضابطہ ہو۔ یہ طریق کار فطرت انسانیہ سے بھی مناسبت رکھتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3312 سے ماخوذ ہے۔