صحيح مسلم
كتاب الرضاع— رضاعت کے احکام و مسائل
باب تَحْرِيمِ ابْنَةِ الأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ: باب: رضاعی بھتیجی کی حرمت کا بیان۔
وحدثنا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حدثنا هَمَّامٌ ، حدثنا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ ، فقَالَ : " إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي ، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ " .ہمام نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قتادہ نے جابر بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی (کے ساتھ نکاح کرنے) کے بارے میں خواہش کا اظہار کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو رحم (ولادت اور نسب) سے حرام ہوتے ہیں۔“
وحدثناه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِهْرَانَ الْقُطَعِيُّ ، حدثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، جَمِيعًا ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِ هَمَّامٍ سَوَاءً ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ شُعْبَةَ انْتَهَى عَنْدَ قَوْلِهِ : ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ : وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ، وَفِي رِوَايَةِ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ .یحییٰ قطان اور بشر بن عمر نے شعبہ سے حدیث بیان کی، شعبہ اور سعید بن ابی عروبہ دونوں نے قتادہ سے ہمام کی (سابقہ) سند کے ساتھ بالکل اسی طرح روایت کی، مگر شعبہ کی حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: ”میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔“ پر ختم ہو گئی اور سعید کی حدیث میں ہے: ”رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔“ اور بشر بن عمر کی روایت میں (جابر بن زید سے روایت ہے کی بجائے یہ) ہے: ”میں نے جابر بن زید سے سنا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ایک دن ابوجہل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دی اور گالی بھی دی۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لونڈی نے یہ واقعہ حضرت امیرحمزہ رضی اللہ عنہ کو سنایا۔
وہ غصہ میں ابوجہل کے سامنے آئے اور کمان سے اس کا سر توڑ ڈالا اور کہا کہ لے میں خود مسلمان ہوتا ہوں تو کر لے کیا کرنا چاہتا ہے چنانچہ اسی دن حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے۔
یہ چھٹے سال نبوت کا واقعہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عمر میں بڑے تھے، احد میں شہید ہوئے۔
(1)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! رشتے ناتے کے لحاظ سے آپ کا رجحان قریش کی طرف ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آپ کے پاس کچھ ہے جسے میں پسند کروں۔
‘‘ انھوں نے کہا: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی دختر سے شادی کر لیں جو آپ کے چچا کی بیٹی ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’وہ تو میرے لیے جائز نہیں کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔
‘‘ (صحيح مسلم، الرضاع، حديث: 3581 (1446) (2)
حضرت حمزہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو لہب کی لونڈی حضرت ثوبیہ کا دودھ پیا تھا، اس لیے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آپ کے رضاعی بھائی تھے اور نسب کے اعتبار سے آپ کے چچا تھے۔
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے بھی ثوبیہ لونڈی کا دودھ پیا تھا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے جیسا کہ دوسری حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
(صحيح البخاري، النكاح، حديث: 5101) (3)
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے نام کے متعلق مختلف اقوال منقول ہیں: امامہ، عمارہ، سلمیٰ، عائشہ، فاطمہ، امۃاللہ اور یعلی وغیرہ۔
بعض مؤرخین نے ام فضل بھی ذکر کیا ہے لیکن یہ اس کی کنیت ہے۔
(فتح الباري: 178/9)
تشریح: حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ؓ آپ کے چچا تھے۔
ہر دو کی عمروں میں کوئی خاص فرق نہ تھا۔
اس لیے جس وقت آنحضرت ﷺ دودھ پیتے تھے حضرت حمزہ ؓ کے بھی دودھ پینے کا وہی زمانہ تھا اور دونوں حضرات نے ابولہب کی باندی ثوبیہ کا دودھ پیا تھا۔
حضرت حمزہ ؓ کی لڑکی جن کا نام امامہ یا عمارہ بتایا جاتا ہے، کے متعلق یہ حدیث آپ نے اسی بنیاد پر بیان کی تھی۔
قسطلانی نے کہا، ان میں سے چار رشتے مستثنیٰ ہیں جونسب سے حرام ہوتے ہیں، لیکن رضاع سے حرام نہیں ہوتے۔
ان کا ذکر کتاب النکاح میں آئے گا۔
إن شاءاللہ تعالیٰ۔
(1)
رسول اللہ ﷺ اور حضرت حمزہ ؓ نے بچپن میں ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ کا دودھ پیا تھا، اس لیے نسب کے اعتبار سے حضرت حمزہ ؓ آپ کے چچا تھے لیکن رضاعت کے لحاظ سے آپ کے بھائی تھے، اس لیے رضاعی بھتیجی سے نکاح جائز نہیں۔
(2)
واضح رہے کہ دودھ پلانے والی عورت اور اس کے محارم کا نکاح دودھ پینے والے سے جائز نہیں جیسا کہ نسب میں ماں اور اس کے محارم سے نکاح جائز نہیں۔
بچے کی طرف سے یہ عموم نہیں ہے کیونکہ اگر کسی عورت نے کسی بچے کو دودھ پلایا ہے تو بلاشبہ وہ اس کی ماں بن جاتی ہے لیکن بچے کے باپ کے لیے اس سے نکاح کرنا جائز ہے، نیز چار رشتے ایسے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں لیکن رضاعت کی وجہ سے حرام نہیں ہوتے جن کی تفصیل ہم کتاب النکاح میں ذکر کریں گے۔
(3)
امام بخاری ؒ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جو واقعات شہرت پا جائیں، ان سے حکم ثابت کیا جا سکتا ہے جیسا کہ نبی ﷺ نے دودھ کے متعلق خبر دی کہ میں نے اور حضرت حمزہ ؓ نے ثوبیہ کا دودھ پیا ہے۔
اس کی بنیاد بھی لوگوں میں شہرت تھی۔
واللہ أعلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے شادی کر لینے کی ترغیب دی گئی، تو آپ نے فرمایا: ” وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت (دودھ پینے) سے ہر وہ رشتہ، ناطہٰ حرام ہو جاتا ہے جو رشتہ، ناطہٰ نسب سے حرام ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3308]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کا مشورہ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اور رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1938]
فوائد و مسائل:
(1)
سید الشہداء حضرت حمزہ رسول اللہ ﷺ کے سگے چچا تھے، اس لیے ان کی بیٹی سے نکاح جائز ہونا چاہیے تھا۔
یہی سوچ کر حضرت علی نے یہ تجویز پیش فرما دی لیکن رسول اللہ ﷺ نے واضح فرما دیا کہ نسبی طور پر یہ رشتہ ممکن تھا لیکن رضاعی طور پر حرام ہونے کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں۔
(2)
حضرت حمزہ کو ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا۔
اسی نے چند دن رسول اللہ ﷺ کو بھی دودھ پلایا تھا۔ (لمعات، شرح مشکاۃ، کتاب النکاح، باب المحرمات)
اس طرح حضرت حمزہ نبی ﷺ کے رضاعی بھائی بن گئے اور ان کی بیٹی آپﷺ کی رضاعی بھتیجی ہوئی۔
(3)
اس خاتون کا نام حضرت فاطمہ بنت حمزہ رضی اللہ عنہا تھا۔ (إنجاح الحاجة حاشیة سنن ابن ماجة از عبدالغنی دھلوی)