مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1440
حدثنا حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقَ : أَخْبَرَنا ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ " ، زَادَ إِسْحَاقَ ، قَالَ سُفْيَانُ : لَوْ كَانَ شَيْئًا يُنْهَى عَنْهُ لَنَهَانَا عَنْهُ الْقُرْآنُ .

ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، (انہوں نے کہا) ہمیں سفیان نے عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم عزل کرتے تھے جبکہ قرآن نازل ہو رہا ہوتا تھا۔ اسحاق نے اضافہ کیا: سفیان نے کہا: اگر یہ ایسی چیز ہوتی جس سے منع کیا جانا (ضروری) ہوتا تو قرآن ہمیں (ضرور) اس سے منع کرتا۔

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حدثنا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حدثنا مَعْقِلٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : " لَقَدْ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

معقل نے ہمیں عطاء سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے جابر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عزل کیا کرتے تھے۔

وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حدثنا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَنْهَنَا " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عزل کیا کرتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (دو ٹوک انداز میں، قطعیت کے ساتھ) منع نہیں فرمایا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1440
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نزولِ قرآن کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے۔ اسحاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ سفیان نے کہا، اگر یہ قابل نہی کام ہوتا یا اس سے روکنے کی ضرورت ہوتی تو ہمیں قرآنِ مجید کے ذریعہ اس سے روک دیا جاتا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3559]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جو کام یا عمل عہد نبوی میں ہوتا رہا، اور اس سے قرآن وسنت میں روکا نہیں گیا تو یہ اس کے جواز کی دلیل ہے۔
کیونکہ اگر یہ کام ناجائز ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی جلی یا وحی خفی کے ذریعہ اس سے آ گاہ کر دیا جاتا اور قرآن یا حدیث میں اس کی نہی آ جاتی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1440 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔