مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1439
حدثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حدثنا زُهَيْرٌ ، أَخْبَرَنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : إِنَّ لِي جَارِيَةً هِيَ خَادِمُنَا وَسَانِيَتُنَا ، وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا ، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ ، فقَالَ : " اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ ، فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " ، فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ ، فقَالَ : إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَبِلَتْ ، فقَالَ : " قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " .

سفیان بن عیینہ نے ہمیں سعید بن حسان سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ بن عیاض سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، اور کہا: میرے پاس میری ایک لونڈی ہے، میں اس سے عزل کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ (عزل) ایسی کسی چیز کو نہیں روک سکتا جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہو۔“ کہا: وہ شخص (دوبارہ) حاضر خدمت ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! وہ لونڈی جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا، حاملہ ہو گئی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔ (میں جو کہتا ہوں اللہ کی طرف سے کہتا ہوں)۔“

حدثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : إِنَّ عَنْدِي جَارِيَةً لِي ، وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ ذَلِكَ لَنْ يَمْنَعَ شَيْئًا أَرَادَهُ اللَّهُ " ، قَالَ : فَجَاءَ الرَّجُلُ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْجَارِيَةَ الَّتِي كُنْتُ ذَكَرْتُهَا لَكَ حَمَلَتْ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " .

سفیان بن عیینہ نے ہمیں سعید بن حسان سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ بن عیاض سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، اور کہا: میرے پاس میری ایک لونڈی ہے، میں اس سے عزل کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ (عزل) ایسی کسی چیز کو نہیں روک سکتا جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہو۔“ کہا: وہ شخص (دوبارہ) حاضر خدمت ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! وہ لونڈی جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا، حاملہ ہو گئی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔ (میں جو کہتا ہوں اللہ کی طرف سے کہتا ہوں)۔“

وحدثنا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حدثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حدثنا سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ قَاصُّ أَهْلِ مَكَّةَ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ النَّوْفَلِيُّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ .

امام صاحب ایک اور استاد سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آ گے مذکورہ بالا روایت ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1439
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1440 | سنن ترمذي: 1136 | سنن ابي داود: 2173 | سنن ابن ماجه: 89 | سنن ابن ماجه: 1927 | مسند الحميدي: 1294 | مسند الحميدي: 1295

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، میری ایک لونڈی ہے جو ہماری خدمت گار بھی ہے اور ہمارے لیے پانی بھی فراہم کرتی ہے اور میں اس سے مباشرت کرتا ہوں، اور یہ نہیں چاہتا کہ اسے حمل قرار پائے، (کیونکہ حمل اور وضع حمل کے نتیجہ میں وہ سب کام کاج نہیں کر سکے گی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تو چاہتا ہے تو عزل کر کے دیکھ لے، کیونکہ اس کے لیے جو مقدر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3556]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
وَسَانِيَتُنَا: اَلسَّانِيَةُ: وہ اونٹ جس سے پانی کھینچا جاتا ہے، چونکہ وہ کنویں سے پانی لاتی تھی اس لیے اس کو سانیہ کا نام دیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1439 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1136 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عزل کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ عزل ۱؎ کرتے تھے، تو یہودیوں نے کہا: قبر میں زندہ دفن کرنے کی یہ ایک چھوٹی صورت ہے۔ آپ نے فرمایا: یہودیوں نے جھوٹ کہا۔ اللہ جب اسے پیدا کرنا چاہے گا تو اسے کوئی روک نہیں سکے گا ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1136]
اردو حاشہ:
وضاخت: 1؎:
عزل یہ ہے کہ جماع کے وقت انزال قریب ہوتو آدمی اپناعضوتناسل شرمگاہ سے باہر نکال کر منی باہر نکال دے تاکہ عورت حاملہ نہ ہو۔

2؎:
اس حدیث میں صرف اس بات کا بیان ہے کہ یہودیوں کا یہ خیال غلط ہے کیوں کہ عزل کے باوجود جس نفس کی اس مرد و عورت سے تخلیق اللہ کو مقصود ہوتی ہے اس کی تخلیق ہوہی جاتی ہے، جیسا کہ ایک صحابی نے لونڈی سے عزل کیا اس کے باوجود حمل ٹھہر گیا۔
اس لیے یہ ’’مودودۃ صغریٰ‘‘ نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1136 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 89 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک لونڈی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس کے مقدر میں ہو گا وہ اس کے پاس آ کر رہے گا ، کچھ دنوں کے بعد وہ آدمی حاضر ہوا اور کہا: لونڈی حاملہ ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 89]
اردو حاشہ: (1)
تدبیر کے باوجود تقدیر غالب آ جاتی ہے لیکن یہ چیز تدبیر کے استعمال میں رکاوٹ نہیں۔
انسان کو اپنی کوشش کرنی چاہیے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔

(2)
عزل کا مطلب یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی یا لونڈی سے مجامعت میں مشغول ہو، جب محسوس کرے کہ انزال قریب ہے تو پیچھے ہٹ جائے تاکہ انزال باہر ہو اور حمل قرار نہ پائے۔
یہ گویا اس دور کا خاندانی منصوبہ بندی کا طریقہ تھا۔

(3)
لونڈی سے عزل جائز ہے کیونکہ اس کا امید سے ہونا، مالک کی خدمت میں رکاوٹ کا باعث ہوتا ہے اور لونڈی رکھنے کا بڑا مقصد گھر کا کام کاج اور مالک کی خدمت ہے، البتہ آزاد عورت (بیوی)
سے عزل کرنا اس کی اجازت سے مشروط ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 89 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1927 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عزل کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے، اور قرآن اترا کرتا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1927]
اردو حاشہ:
فائده:
نزول وحی کے زمانے میں اس کی صریح ممانعت نازل نہیں ہوئی، اس سے اس عمل کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1927 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1294 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1294- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ عزل کرلیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے اور قرآن نازل ہوتا رہا (لیکن ہمیں اس عمل سے منع نہیں کیا گیا)۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1294]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عزل کرنا درست ہے، یعنی شریعت اسلامیہ نے اس کی اجازت دی ہے (یعنی بیوی سے صحبت کرنا اور منی باہر خارج کرنا)
اس حدیث سے تقریری حدیث کا حجت ہونا ثابت ہوتا ہے، جو کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا گیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا ہو، وہ تقریری حدیث ہے، اگر کسی تقریری حدیث میں ابہام ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تصحیح فرما دیتے، جبکہ اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1292 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1295 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1295- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میری ایک کنیز ہے میں اس سے عزل کرلیتا ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ عمل اس چیز کو واپس نہیں کر سکتا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دے دیا ہو۔‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ شخص چلا گیا کچھ عرصے کے بعد وہ دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! مجھے یہ پتہ چلا ہے، وہ کنیز حاملہ ہوگئی ہے نبی اکرم صلی اللہ علی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1295]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کوئی لاکھ عزل کرتا رہے، جب اللہ فیصلہ کر دیں، جس نطفے میں اللہ نے اولاد رکھی ہو، وہ استعمال ہو ہی جاتا ہے، اور اولاد دینا کسی کے بس کی بات نہیں ہے، اور نہ ہی اولاد لینا، یہ کام انده صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1293 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔