مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1437
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِيِّ ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ ، عَنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا " .

مروان بن معاویہ نے عمر بن حمزہ عمری سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالرحمٰن بن سعد نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن، اللہ کے ہاں لوگوں میں مرتبے کے اعتبار سے بدترین وہ آدمی ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے اور وہ اس کے پاس خلوت میں آتی ہے پھر وہ (آدمی) اس کا راز افشا کر دیتا ہے۔“

وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْأَمَانَةِ ، عَنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا " ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : إِنَّ أَعْظَمَ .

محمد بن عبیداللہ بن نمیر اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے عمر بن حمزہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن سعد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں امانت کے حوالے سے سب سے بڑے (سنگین) معاملات میں سے اس آدمی (کا معاملہ) ہو گا جو خلوت میں بیوی کے پاس جائے اور وہ اس کے پاس آئے، پھر وہ اس (بیوی) کا راز افشا کر دے۔“ ابن نمیر نے کہا: سب سے بڑا (سنگین) معاملہ۔ (یہ بڑی خیانت ہے)۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب النكاح / حدیث: 1437
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1437 | سنن ابي داود: 4870

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1437 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کے ہاں قیامت کے دن وہ انسان سب سے بڑا امانت میں خیانت کرنے والا ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو اس کے حوالہ کر دیتی ہے۔ پھر وہ اس کے راز کو ظاہر کر دیتا ہے۔‘‘ ابن نمیر کی روایت میں، اَعظَمَ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3543]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: میاں بیوی ایک دوسرے سے ہم بستری لوگوں سے چھپ کر کرتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ ایک پوشیدہ کام ہے، جس کا اظہار درست نہیں ہے۔
اس لیے اگر میاں بیوی اس حرکت و عمل کا نقشہ دوسروں کے سامنے کھینچتے ہیں تو یہ امانت میں خیانت اور مخفی راز کا افشاء کرنا ہے جو انتہائی قبیح حرکت اور قابل مواخذہ عمل ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1437 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4870 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´راز کی باتوں کو افشاء کرنے کی ممانعت۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی سے خلوت میں ملے اور وہ (بیوی) اس سے ملے پھر وہ (مرد) اس کا راز فاش کرے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4870]
فوائد ومسائل:
اللہ عزوجل نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس بنایا ہے تو ان کا آپس کے رازوں کو دوسروں کے سامنے افشاہ کر دینا بہت قبیح عمل ہے۔
سوائے اس کے کہ کسی شرعی ضرورت کے تحت قاضی وغیرہ کے سامنے کوئی بات کہنی پڑے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4870 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔