صحيح مسلم
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل
باب تَحْرِيمِ امْتِنَاعِهَا مِنْ فِرَاشِ زَوْجِهَا: باب: اس بیان میں کہ عورت کو روا نہیں کہ مرد کو جماع سے روکے۔
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِح " ،محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے قتادہ سے سنا وہ زرارہ بن اوفیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جب کوئی عورت (بلا عذر) اپنے شوہر کے بستر کو چھوڑ کر رات گزارتی ہے، تو فرشتے اس کے صبح کرنے تک اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔“
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حدثنا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : حَتَّى تَرْجِعَ .خالد بن حارث نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی، اور کہا: ”یہاں تک کہ وہ (اس کے بستر پر) لوٹ آئے۔“
حدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا ، فَتَأْبَى عَلَيْهِ ، إِلَّا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا " .یزید بن کیسان نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی مرد نہیں جو اپنی بیوی کو اس کے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے مگر وہ جو آسمان میں ہے اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ (شوہر) اس سے راضی ہو جائے۔“
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حدثنا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ : حدثنا جَرِيرٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ ، فَلَمْ تَأْتِهِ ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا ، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِح َ " .امام صاحب اپنے چار اساتذہ سے روایت کرتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر آنے کی دعوت دیتا ہے، اور وہ اس کے پاس نہیں آتی جس سے وہ ناراضگی کی حالت میں رات بسر کرتا ہے، تو فرشتے صبح ہونے تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دو آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی: ایک بھگوڑا غلام حتی کہ وہ واپس آ جائے اور دوسری وہ عورت جس نے اپنے شوہر کی نافرمانی کی حتی کہ وہ اس سے باز آجائے۔
‘‘ (سلسلة الأحادیث الصحیحة، حدیث: 288) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیوی کو شوہر کی موافقت کرنی چاہیے اور اس کا خیال رکھنا چاہیے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت کا ترک جماع پر صبر کرنا مرد سے قوی ہے۔
مرد اس معاملے میں بہت کمزور واقع ہوا ہے۔
والله اعلم (فتح الباري: 366/9)
شعبہ کی روایت خود مؤلف نے کتاب النکاح میں وصل کی ہے اور ابوحمزہ کی روایت موصولاً نہیں ملی اور ابن داؤد کی روایت مسدد نے اپنی بڑی مسند میں وصل کی اور ابومعاویہ کی روایت امام مسلم اور نسائی نے موصولاً نکالی ہے۔
اس حدیث کو یہاں لانے سے فرشتوں کا وجود ثابت کرنا مقصود ہے کہ وہ ایسی نا فرمان عورت پر خدا کے حکم سے رات بھر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مرد کی اطاعت عورت کے لیے کتنی ضروری ہے۔
مرد کی خواہش کی قدر نہ کرنا عورت کے لیے بدبختی کا سبب بن سکتا ہے۔
عورت کی زینت یہی ہے کہ بچے سے اس کی گود بھرپور ہو اور بچہ کے لیے مرد سے ملاپ ضروری تھا جس کے لیے عورت نے انکار کردیا۔
ممکن ہے اسی ملاپ میں اس کو اولاد کی نعمت حاصل ہوجاتی، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مصالح ہیں جن کی بنا پر عورت کے لیے مرد کی اطاعت ضروری ہے۔
عدم اطاعت کی صورت میں بہت سے فسادات پیدا ہوسکتے ہیں۔
1۔
ممکن ہے کہ اس ملاپ میں عورت کو اولاد کی نعمت حاصل ہو جو عورت کے لیے دنیا میں سب سے بڑی زینت ہے۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مصالح ہیں جن کی بنا پر عورت کے لیے مرد کی خواہش کا احترام کرناضروری ہے۔
عدم اطاعت کی صورت میں بہت سے مفاسد پیدا ہوسکتے ہیں۔
2۔
حدیث میں رات کا ذکر عام حالات کے پیش نظر ہے بصورت دیگر یہ وعید تو حقوق زوجیت کے انکار پر ہے، خواہ دن کے وقت ہو۔
3۔
اس حدیث سے مقصود فرشتوں کا وجود ثابت کرنا ہے کہ وہ ایسی نافرمان عورت پر اللہ کے حکم سے رات بھر لعنت ونفرین بھیجتے رہتے ہیں۔
عورت کے لئے خاوند کی اطاعت ہی اس کی زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔
عام طور پر بیوی خاوند کاملاپ رات کے وقت ہوتا ہے، اس لیے"صبح تک" کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ورنہ یہ حکم دن رات دونوں وقتوں کو شامل ہے جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے اس ذات قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے تو آسمان والا اس پر سخت ناراض ہوتا ہے حتی کہ شوہر اس سے راضی ہو جائے۔
‘‘ (صحیح مسلم، النکاح، حدیث: 3540 (1436)
اس روایت میں رات کا ذکر نہیں ہے۔
معلوم ہوا کہ مذکورہ حکم رات اور دن دونوں کو شامل ہے۔
ایک روایت میں ہےکہ جب خاوند اس پر ناراض ہو تو وہ لعنت کی حق دار ہوتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ خاوند اگر ناراض نہ ہو تو عورت لعنت کی زد میں نہیں آئے گی۔
(فتح الباري: 365/9)
کے انکار کرتی ہے تو پھروہ فرشتوں کی لعنت کی مستحق ٹھہرتی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کرے اور اس کے پاس نہ آئے جس کی وجہ سے شوہر رات بھر ناراض رہے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2141]
بنیادی حقیقت تو یہی ہے جو رسول ﷺبے فرما دی ہے کہ اس طرح بے شمار نفسیاتی اور اجتماعی شرور کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور انکار کی صورت میں بہت سے انفرادی، خاندانی اور معاشرتی فساد جنم لیتے ہیں۔
اس لئے عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ خاوند کے جذبات کا لحاظ رکھے تاہم اگر کوئی معقول عذرہو لیکن خاوند اسے اہمیت نے دے رہا ہو۔
مثلا بیوی بہت زیادہ بیمارہو اس کی صحت مرد کی خواہش پوری کرنے کی متحمل نہ ہو یا اور کسی قسم کا کا کوئی معقول عذر ہو تو بیوی کا انکار امید ہے کہ اللہ عزوجل کے ہاں قابل مواخذہ نہیں ہو گا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب مرد اپنی بیوی کو جنسی خواہش کے لئے اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے انکار کر دے اور خاوند ناراض ہو کر رات گزارے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت و پھٹکار بھیجتے رہتے ہیں۔ “ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم میں ہے کہ ” جو آسمان میں ہے وہ اس پر ناراض رہتا ہے جب تک کہ خاوند بیوی سے خوش و راضی نہ ہو جائے۔ “ «بلوغ المرام/حدیث: 875»
«أخرجه البخاري، النكاح، باب إذا باتت المرأة مهاجرة فراش زوجها، حديث:5193، 3237، ومسلم، النكاح، باب تحريم امتناعها من فراش زوجها، حديث:1436.»
تشریح: 1. اس حدیث کی رو سے خاوند کی جنسی خواہش پوری کرنے سے بیوی کا (بلاوجہ) انکار کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
2. یہ مرد کا عورت پر ایسا حق ہے جسے پورا کرنا عورت پر لازم ہے۔
لیکن مرد کے لیے بھی عورت کی صحت اور طبیعت کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔